امریکا نے بحر اوقیانوس میں وینزویلا سے منسلک 2 تیل بردار جہاز ضبط کرلیے ہیں، جس میں ایک روسی پرچم والا آئل ٹینکر بھی شامل ہے۔ روس نے آئل ٹینکر کو قبضے میں لینے کے امریکی عمل کو بحری قزاقی قرار دیا۔
شمالی بحرِ اوقیانوس میں ایک روسی پرچم والا ٹینکر جو پہلے Bella 1 کے نام سے تھا اور بعد میں میرین ایرا کے نام سے رجسٹر ہوا، جبکہ کیریبین سمندر میں ایک دوسرا جہاز، ایم ٹی صوفیہ جس پر کسی ملک کا پرچم نہیں تھا، دونوں کو امریکی حکام کی جانب سے قبضے میں لیا گیا ہے۔
امریکی کارروائی کے وقت اطراف میں روسی بحریہ کے جہاز اور آبدوز بھی موجود تھی۔ امریکی ملٹری کمانڈ کے مطابق امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے پر آئل ٹینکر کو قبضے میں لیا گیا ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ پابندی کے شکار وینیزویلا پر تیل کی دنیا میں کسی بھی جگہ ترسیل پر پابندی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق Bella 1 پر پہلے ہی 2024 میں امریکی پابندیاں عائد کی جا چکی تھیں، جس کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ وہ مبینہ طور پر پابندی شدہ تیل کی ترسیل میں ملوث تھا۔
یہ جہاز پہلی بار کیریبین میں امریکی کوسٹ گارڈ کی جانب سے روکنے کی کوشش سے بچ نکلا تھا اور پھر بحرِ اوقیانوس میں دو ہفتوں تک تعاقب کے بعد بالآخر ضبط ہوا۔
دوسری جانب روسی حکام نے روسی پرچم والے آئل ٹینکر کو قبضے میں لینے کے امریکی عمل کو بحری قزاقی قرار دیا ہے۔
روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ آئل ٹینکر بین الاقوامی پانیوں میں تھا۔ امریکی اقدام میری ٹائم قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
روس نے امریکا سے جہاز پر موجود روسی عملے کی حفاظت اور ان کی واپسی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیوٹ کا بحر اوقیانوس میں آئل ٹینکروں کو قبضے میں لینے کے سوال پر کہنا ہے کہ امریکا تمام پابندیوں پر پوری طرح عمل کروائے گا، جہاز کے عملے کو اب قانونی کاروائی کا سامنا ہے۔
کیرولین لیوٹ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا کے عبوری حکام سے قریبی رابطے میں ہے، وینزویلا عبوری حکمرانوں کے فیصلے امریکا کے بتائے ہوئے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا معاہدے پر وینزویلا اور آئل انڈسٹری کے ساتھ کام کر رہا ہے، معاہدے میں پابندی زدہ آئل بھی شامل ہے جو جہازوں پر موجود ہے۔
ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا کہ آئل کمپنیوں کے سربراہان رواں ہفتے وائٹ ہاؤس آئیں گے، ضرورت پڑی تو آئل ورکرز کے تحفظ کے لیے صدر ٹرمپ امریکی فوج استعمال کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وینزویلا میں انتخابی ٹائم ٹیبل پر بات کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔