مشتری ہوشیار باشد

November 08, 2019
 

میرا ارادہ ہر گز کوئی سنجیدہ کالم لکھنے کا نہیں کیونکہ آزادی مارچ پر لاحاصل تجزیے اور بےنتیجہ تبصرے پڑھ پڑھ کر طبیعت اکتا گئی ہے البتہ میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ مولانا فضل الرحمٰن اچھے ’’مولانا‘‘ ہوں یا نہ لیکن سیاستدان بہت اچھے ہیں۔ میرے نزدیک وہ کامیاب سیاست کا ’’شاہکار‘‘ اور عملی نمونہ ہیں۔

آپ پوچھیں گے کس طرح؟ سیدھی سی بات ہے کہ سیاست کا مقصد ہی کیا ہوتا ہے؟ سیاست کا مقصد بہرحال اقتدار کا حصول ہے۔ بعض لوگوں کو عمران خان کی مانند اقتدار حاصل کرنے میں کئی دہائیاں لگ جاتی ہیں اور بعض لوگ تھوڑی سی جدوجہد کے بعد حکمران بن جاتے ہیں۔ حکمرانوں کو اقتدار کے ساتھ ساتھ حزبِ مخالف کا بھی مزا چکھنا پڑتا ہے۔

آج کا وزیراعظم مستقبل کا لیڈر آف دی اپوزیشن ہوتا ہے اور اگر مقدر کے ستارے گردش میں آ جائیں تو جیل بھی جانا پڑتا ہے۔ ہمارے ملک میں سیاسی مقدر یا سیاسی قسمت کون بناتا ہے اور حکمران کب زیرِ عتاب آتا ہے یہ ایک سنجیدہ بحث ہے اور میرا ارادہ کسی سنجیدہ بحث میں الجھنے کا نہیں۔ کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ سیاست کا اکلوتا مقصد حصولِ اقتدار ہوتا ہے اور میں اس شخص کو کامیاب ترین سیاستدان سمجھتا ہوں جو اپنے آپ کو زیادہ ’’خرچ‘‘ کئے بغیر اقتدار میں شامل ہونے کا فن جانتا ہو۔

اس کسوٹی پر ہمارے ملک میں صرف ایک ہی سیاستدان پورا اترتا ہے کیونکہ باقی سب اقتدار میں آتے جاتے رہے، صرف مولانا فضل الرحمٰن وہ واحد سیاستدان ہیں جو جادو کا رومال کندھے پر سجا کر ہر اقتدار میں شریک ہو جاتے تھے۔

میاں نواز شریف کا طویل دورِ حکومت ہو یا بےنظیر بھٹو اور زرداری صاحب کا راج وہ ہر حکومت کا ستون اور اقتدار کا حصہ تھے۔ درمیان میں پرویز مشرف آن دھمکا تو وہ اس کے اقتدار کی کرسی کا پایہ بن گئے اور مسلسل نو سال اقتدار کے مزے لوٹتے رہے۔

حساب کیجئے تو پاکستان میں کسی فردِ واحد کو اتنی دہائیاں مسلسل اقتدار نصیب نہیں ہوا جتنا مولانا فضل الرحمٰن کو، تو پھر میں انہیں پاکستانی سیاست کا رول ماڈل کیوں نہ کہوں؟ اب آپ خود اندازہ کریں کہ انہیں انتخابات میں ہرانے والوں نے کس طرح اپنے پائوں پہ کلہاڑی ماری اور ’’آبیل مجھے مار‘‘ کی دعوت دی۔

جب بیل سینگ تیز کئے مارنے پر تل گیا ہے تو اب اس کا ایک ہی علاج ہے اور وہ یہ کہ ان کے علاقے سے کسی ایم این اے سے استعفیٰ دلوا کر انہیں جلد از جلد بلامقابلہ منتخب کرکے اسمبلی میں لایا جائے اور پھر وزارت یا کشمیر کمیٹی کی چیئرمینی پیش کی جائے ورنہ تیس چالیس ہزار کا اجتماع حکومت اور ’’اسلام آبادیوں‘‘ کے لئے وبالِ جان بنا رہے گا۔ یہ مجمع اتنے مستقل مزاج اور بہادر لوگوں پر مشتمل ہے کہ اپنے ساتھیوں کو دل کے دورے پڑتے دیکھ کر بھی کمزور نہیں پڑتا۔

طویل انتظامی زندگی میں لاتعداد سبق سیکھے لیکن آج کل فقط ایک ہی سبق یاد آتا ہے حکومت کا بھی وہی حال ہے کہ مجھے کمزور پہ غصہ آتا ہے اور ’’طاقتور‘‘ پر پیار۔

کراچی میں پولیس بیچاری استانیوں اور استادوں کو مارپیٹ کر گرفتاریوں کے پیٹ بھر رہی ہے تو لاہور میں پنجاب کی بہادر پولیس نابینائوں اور اندھوں پر لاٹھی چارج کر رہی ہے۔ کمزوروں پر غصہ نکالا جا رہا ہے اور طاقتوروں کے سامنے ترلے منتوں کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔

ہاں تو میں عرض کر رہا تھا کہ انتظامی زندگی میں ایک راز یہ سمجھ میں آیا کہ سیاسی کارکنوں سے نپٹنے کے فقط دو ہی طریقے ہوتے ہیں اول سیاسی طریقہ جسے بھٹو رعونت سے ہڈی ڈالنا کہتا تھا۔

دولت اور پرمٹ کی پیشکش بھی سیاسی طریقے شمار ہوتے ہیں۔ جہاں ہڈی کام نہ کرے وہاں ہڈی توڑ حکمت عملی اختیار کرنا پڑتی ہے اگرچہ حکومت یا انتظامیہ یہ ہتھیار آخری چارہ کار کے طور ہی استعمال کرتی ہے اس حکمتِ عملی کا شاہکار یا بہترین مثال وہ نسخہ ہے جسے تاریخ اسکندر مرزا کے نسخے کے نام سے یاد کرتی ہے۔

جب سے اسلام آباد میں آزادی مارچ میدان میں محدود ہوا ہے مجھے وہ نسخہ بار بار یاد آ رہا ہے اس کی یاد آتے ہی میں کھلکھلا کر ہنس پڑتا ہوں اور اسکندر مرزا کی ’’استادی‘‘ کی داد دیتا ہوں۔

آج سے 35/36برس قبل ایک ایسی ہی صورتحال درپیش تھی تو آئی جی پولیس نے اعلیٰ میٹنگ میں اس نسخے کا ذکر کیا، پریشان چہروں پر مسکراہٹ چھا گئی۔ میں بلاتصدیق اس کا ذکر کرنا نہیں چاہتا تھا چنانچہ سابق صدر اسکندر مرزا کی سوانح عمری میں جھانکا تو اس کی تصدیق ہو گئی۔

اسکندر مرزا از احمد سلیم صفحات نمبر 58-59پر لکھا ہے کہ جب اسکندر مرزا ڈپٹی کمشنر پشاور تھے تو شہر میں سرخ پوش خدائی خدمت گار برطانوی راج کے خلاف ہر روز احتجاج کرتے اور سرکاری عمارتوں پر حملے کرنے کی کوششیں کرتے تھے۔

پولیس لاٹھی چارج کرکے انہیں پیچھے ہٹا دیتی تھی۔ 1942کی ہندوستان چھوڑو QUIT INDIAتحریک عروج پر تھی، تقریباً پچاس ہزار افراد جمع ہو چکے تھے جو حکومت کے لئے شدید خطرہ تھے۔ ڈپٹی کمشنر اسکندر مرزا کو فوج کی حمایت حاصل تھی لیکن گولی چلانے سے سینکڑوں اموات کا خطرہ تھا جس سے معاملات ہاتھ سے نکل سکتے تھے۔

گورنر کنگھم دبائو کا شکار تھا، اسکندر مرزا گولی چلائے بغیر احتجاج سے نکلنا چاہتا تھا اس نے سرخ پوشوں کے دو جرنیل خرید رکھے تھے جو بھاری رقم لیکر مخبری کرتے اور اندر کی خبریں دیتے تھے۔ جس صبح خوفناک احتجاج کا خطرہ تھا اس رات اسکندر مرزا نے ان ایجنٹوں کو بلایا اور انہیں کیسٹرآئل کی شیشیاں دیں۔ ان کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ صبح اجتماع کے لئے بنائی جانے والی چائے میں ان کو انڈیل دیں۔

صبح جب احتجاج کا وقت آیا تو احتجاجی لوٹے پکڑے غسل خانوں کی طرف بھاگ رہے تھے کچھ نہر کی طرف دوڑے۔ انہوں نے پولیس کی لاٹھیوں سے بچنے کے لئے جسم پر چادریں کس کے باندھ رکھی تھیں۔ چنانچہ آزار بند تک پہنچنے سے قبل ان کے کپڑے گندگی سے بھر گئے۔ تماشائی ان مناظر پر قہقہے لگاتے رہے احتجاجی پیٹ میں مروڑ اٹھنے کی وجہ سے ادھر ادھر بھاگتے رہے۔ لاٹھی گولی بغیر احتجاج دم توڑ گیا ...آزادی مارچ....مشتری ہوشیار باشد