PIA ملازمین جیل منتقل، سونے کا خریدار کیوں رہا ہوا؟

November 09, 2019
 

قومی ائیرلائن کے مسافروں کا قیمتی سامان چوری کرنے کے الزام میں گرفتار پی آئی اے کے 5 ملازمین کو پولیس کی عدم دلچسپی اور کمزور تفتیش کی بنا پر عدالت نے جیل بھیج دیا ہے جبکہ چوری کا سونا خریدنے والے سنار کو مقدمے میں ملزم بنانے کی بجائے شعبہ تفتیش نے مبینہ ساز باز کرکے رہا کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پی آئی اے کی کراچی سے پشاور جانے والی مسافر خاتون قرۃ العین کے سامان سے زیورات اور دیگر سامان چوری کرلیا گیا تھا۔ یہ واردات سامان جہاز میں لوڈ کرنے کے دوران کراچی میں ہوئی۔ شکایت ملنے پر ائیرپورٹ پولیس نے تفتیش کے دوران پی آئی اے کے 5 لوڈرز شاہد مسلم، طفیل احمد، مشرف، پرویز اور تنویرحسین شاہ کوگرفتار کیا۔

ایس ایچ او ائیرپورٹ کلیم موسیٰ کے مطابق سامان برآمد ہونے پر اس مافیا کے سرپرسوں کی جانب سے مقدمہ درج نہ کرنے اور ملزمان کو کیس میں گرفتار نہ کرنے کی صورت میں 25 لاکھ روپے آفر کی گئی مگر انہوں نے ناصرف مقدمہ درج کیا بلکہ پانچوں ملزمان کو گرفتار کرکے مال مقدمہ سمیت تفتیشی ٹیم کے حوالے کیا۔

ذرائع کے مطابق ملزمان نے دوران تفتیش چوری شدہ سونا شاہ فیصل کالونی میں اپنے ساتھی سنار اسد کے پاس فروخت کرنے کا انکشاف کیا تھا۔ پولیس نے اسد کو حراست میں لے کر مسروقہ سونا برآمد کرلیا تھا مگر اسے دفعہ 109 کے تحت ملزمان کا شریک ملزم بنانے کے بجائے مبینہ طور پر ایک لاکھ 80 ہزار روپے لے کر رہا کردیا۔

ذرائع کے مطابق ملزمان کے پڑوسی اور اسی تھانہ ائرپورٹ میں تعینات سب انسکپٹر اکبر محسود اور ہیڈ کانسٹبل شہباز کی اس سلسلے میں سہولت کاری سامنے آئی ہے اور ملزم اسد کو چھڑانے میں ان پولیس اہلکاروں نے اہم کردار ادا کیا۔

تفتیشی افسرفہمید نے ملزمان کو عدالت میں پیش کرکے ان کا ریمانڈ لیا مگر مقدمہ کے اندراج اور اولین برآمدگی کے سوا کیس میں کوئی مزید پیش رفت کی اور اس بدنام زمانہ گروہ کی سابقہ وارداتوں اور مزید ساتھیوں کا سراغ لگانے کی کوشش بھی نہیں کی گئی۔

پولیس ذرائع کے مطابق مقدمے کے مرکزی ملزم شاہد مسلم کا بھائی حامد مسلم اسی تھانہ ائرپورٹ میں تعینات ہے جس نے ملزمان کو ہر طرح کی قانونی سہولت پہنچانے اور قانون کے برخلاف کیس میں ملزمان کے حق میں گڑبڑ کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی پولیس اہلکار نے اپنے بھائی سمیت تمام ملزمان کو حوالات سے نکلوا کر تین دن تک آرام دہ اور پکنک جیسا ماحول فراہم کیا۔ ملزمان کو کڑاہی گوشت اور انواع اقسام کے کھانے پیش کیے جاتے رہے۔ تاہم تفتیشی ٹیم کے انچارج انسپکٹر زاہد نے اس امر کی تردید کی اور کہا کہ ملزمان حوالات رہے۔

ذرائع کے مطابق ایک طے شدہ منصوبے کے تحت انوسٹی گیشن پولیس نے ملزمان کا مزید ریمانڈ لینے کی کوشش ہی نہیں اور نہ ہی ملزمان کے وکلاء کی جانب سے عدالتی چارہ جوئی میں کوئی مداخلت کی تاکہ معاملہ ٹھپ ہوجائے۔ جس کے بعد عدالت نے ملزمان کو جھیل بھیج دیا۔

دوسری طرف ملزمان کا ساتھی گروہ کیس واپس لینے کے لیے مدعی پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایس ایس پی ملیر محمد علی رضا سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ملزم کے بھائی پولیس اہلکار حامد مسلم کا فوری طور پر ہیڈ کوارٹر تبادلہ کردیا گیا ہے جبکہ دیگر معاملات کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔