جنوبی پنجاب کی محرومیاں: ترین اور قریشی کی صلح بھی مسائل حل نہ کرسکی

November 21, 2019
 

ہماری ملکی سیاست کے رنگ نرالے ہیں، نان ایشو کو ایشو بنانا ہمارے بعض سیاستدانوں کا بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ قدرتی موسم جس قدر سرد ہورہا ہے سیاسی ماحول ا سی قدر گرم ہورہا ہے۔ جے یو آئی کے اسلام آباد ھرنے اور مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں نواز شریف کی علاج کے لئے بیرون ملک روانگی نے کئی سوالات کھڑے کردئیے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں سیاسی موسم کے بدلنے کی قیاس آرائیوں اور افواہوں کا بازار گرم ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کے اقوام متحدہ میں خطاب کے بعد مسئلہ کشمیر اقوام عالم کے لئے فلش پوائنٹ بن گیا مگر جمعیت العلماء اسلام کے اسلام آباد دھرنے ا ور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی طبعیت بگڑنے سے پیدا ہونے والی صورتحال سے حکومتی مشینری کی تمام توجہ دھرنے سے نپٹنے ، امن و امان برقرار رکھنے اور مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں نواز شریف کے بیماری کے حوالے سے قانونی جنگ پر مرکوز ہونے سے مسئلہ کشمیر بےروزگاری اور مہنگائی جیسے اہم قومی مسائل مزید گھمبیر ہوتے چلے گئے ہیں۔

ملک میں معاشی بحران کے ساتھ ساتھ سیاسی بحران بھی شدید ہوگیا ہے۔ جمعیت العلماء اسلام کے دھرنے سے کس کا فائدہ اور کس کو نقصان ہوا آنے والا وقت ہی فیصلہ کرے گا، تاہم مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں اپنی بھرپور سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرکے اپنی دھاک بٹھا دی ہے اور ایسا لگتا تھا کہ مولانا فضل الرحمان وزیر اعظم سے استعفی لے کر ہی جائیں گے مگر جے یو آئی کے اتنے بڑے پاور شو کے بعد اچانک اسلام آباد دھرنے کو ختم کرنے سے کئی سوالات نے جنم لیا ہے کہ امیر جمعیت مولانا فضل الرحمان بڑے زیرک اور منجھے ہوئے سیاستدان ہیں انہیں معلوم تھا کہ اب تک ماضی میں دھرنوں سے نہ کسی وزیر اعظم نے استعفی دیا ہے اور نہ ہی دھرنوں سے کوئی حکومت گرائی جاسکی ہے تو پھر انہوں نے اسلام آباد کو لاک ڈائون کرنے کا کیوں اعلان کیا اور اسلام آباد کو لاک ڈائون کئے بغیر ہی واپس لوٹ گئے ان کا دھرنا دینے کا اصل ہدف کیا تھا کیا انہوں نے وہ ٹارگٹ پورا کرلیا ہے سیاسی حلقوں میں خیال ہے کہ مولانا کی ’’خفیہ پٹاری‘‘ میں کچھ نہ کچھ ضرور تھا یہ بات لازمی ہے کہ مولانا فضل الرحمان اتنے بڑے لائو لشکر کے ساتھ اسلام آباد پر چڑھائی کے بعد خاموشی سے خالی ہاتھ جانے والے نہیں ہیں۔ وہ صرف چودھری برادران کی یقین دہانی پر اچانک دھرنے کو ختم کرنے کا اعلان نہیں کرسکتے اور مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کا خاتمہ کسی ڈیل کا نتیجہ ضرور ہے۔ وہ کیا ہے یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔

جبکہ بعض حلقوں کے مطابق فوج کے سپہ سالار کی رائے ونڈ تبلیغی مرکز کے قائدین سے ملاقات کے بعد تبلیغی اکابرین کے اسلام آباد دھرنے کو ختم کرانے کے کردار کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ باخبر ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے جن مقاصد کے لئے اسلام آباد میں دھرنا دیا اس کے مقاصد پورے ہوگئے اس میں سب سے اہم مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے بڑے سیاسی خاندانوں کے افراد کو ریلیف دلانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اسلام آباد دھرنے سے قبل جس طریقے سے شریف اور زرداری خاندانوں کے افراد اور دونوں اپوزیشن جماعتوں کے بڑے بڑے لوگوں کے خلاف کرپشن کیسوں میں پکڑ دھکڑ کا سلسلہ تیزی سے جاری تھا اس میں واضح کمی آگئی ہے۔

مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں نواز شریف کو جیل سے نکال کر پہلے ہسپتال اور پھر ہسپتال سے جاتی امراء اور اب جاتی امراء سے علاج کے لئے بیرون ملک بھجوادیا گیا ہے۔یہ اسی دھرنے کی برکت کا نتیجہ لگتا ہے۔ اب پیپلز پارٹی کی قیادت کے لئے میاں نواز شریف کیس کو جواز بنا کر سابق صدر آصف علی زرداری کو ریلیف دلانے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ اسلام آباد دھرنے سے قبل وزیر اعظم عمران خان اور ان کی جماعت کسی صورت میں کرپشن کیسوں میں ملوث بڑے بڑے لوگوں کو کسی قسم کی رعایت دینے کو تیار نہیں تھی۔ جے یو آئی کے دھرنے سے وزیر اعظم پر دبائو بڑھا کر دونوں بڑی جماعتوں بالخصوص شریف خاندان کو ریلیف دلایا گیا ہے۔

جے یو آئی اسلام آباد دھرنے سے وزیر اعظم کا استعفی نہ لے سکی اور نہ ہی پی ٹی آئی کی حکومت کو گرا سکی مگر یہ ضرور ہوا ہے کہ حکومت کی کمزوریاں سامنے آگئی ہیں۔ حکومتی کی اتحادی جماعتوں میں پیدا ہونے والی دڑاریں مزید گہری ہوگئیں ہیں جو آگے چل کر کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہیں اور اس حوالے سے حکومت اور اپوزیشن اتحادی جماعتوں کی جانب سے نئی صف بندی اور جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے۔ مسلم لیگ (ق) کے چودھری برادران کے اسلام آباد دھرنے کو ختم کرانے میں مثبت کردار اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کو علاج کے لئے بیرون ملک روانگی کے دو ٹوک موقف سے چودھری خاندان کو سیاسی اور عوامی حلقوں میں بڑی پذیرائی ملی ہے اور ان کے سیاسی قد کاٹھ بڑا اضافہ ہوا ہے۔

میا ں نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں شہباز شریف علاج کے لئے بیرون ملک چلے گئے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نواز شریف کب صحت یاب ہو کر وطن واپس آتے ہیں۔ میاں برادران کی عدم موجودگی کے دوران راجہ ظفرالحق، احسن اقبال، رانا تنویر، خواجہ آصف اور حمزہ شہباز شریف باہمی مشاورت سے پارٹی معاملات چلائیں گے۔ اب ان قائدین پر منحصر ہے کہ وہ پارٹی کو کیسے متحد اور متحرک رکھتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کب تک اپنے قائدین کی بیماری پر سیاست کرے گی یہ پی ٹی آئی کی قیادت کے رویے پر منحصر ہے تاہم عوام چاہتے ہیں کہ حکومت اور اپوزیشن جماعتیں پارٹی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک اور قوم کے مفاد میں قومی مسائل کو مل کر حل کریں۔ اسی سے جمہوریت اور جمہوری ادارے مستحکم ہوں گے اور سیاسی استحکام آنے سے ہی معاشی اور اقتصادی ترقی ہو گی۔

انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کے دو بڑوں مخدوم شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کی پنجاب کی پگ کے لئے رسہ کشی کا خمیازہ پی ٹی آئی کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی بھگتنا پڑرہا ہے۔ آج پی ٹی آئی کے دونوں بڑوں کے درمیان سیاسی مصالحت ہوچکی ہے مگر ڈیڑھ سال قبل قریشی اور ترین کے دھڑوں کے درمیان رسہ کشی کے نتیجے میں وزیر اعظم کو پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والے شخص کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنانا پڑا۔ ان کی حکومت کی ڈیڑھ سال کی کارکردگی پنجاب کا بچہ بچہ بخوبی جانتا ہے اور وہ جولیاں اٹھا اٹھا کر وزیر اعظم عمران خان کو دعائیں دے رہے ہیں۔

وزیر اعظم پنجاب میں پرانے تجربہ کار اور سیاسی بصیرت اور قدآور شخصیت کو پنجاب کے اقتدار کی کنجی دیتی تو شاید وزیر اعظم آسانی سے اپنے پارٹی منشور پر عملدرآمد کراسکتے اور انہیں آج جن عوامی مسائل کا سامنا ہے وہ نہ کرنا پڑتا۔ وزیر اعظم کے لئے ابھی بھی وقت ہے کہ وہ پنجاب میں تبدیلی لاکر کسی بااثر اور قدرآور شخص کو صوبے کی بھاگ دوڑ دے جو ان کی جی حضوری کرنے کی بجائے ان کے خوابوں کی تعبیر کرسکے تاکہ پنجاب حقیقی معنوں میں ملک کو ریاست مدینہ بنانے میں اپنا موثر کردار ادا کرسکے۔