جی کراں …

July 07, 2020

حرف و حکایت … ظفر تنویر
اداسی، اضطراب، غم اورخوف کا ماحول ہر سو طاری ہے۔ گھر گھر صف ماتم بچھی ہوئی ہے روزتین چار جاننے والے عزیز رشتہ دار دوست اور بہی خواہ جاننے والوں میں ماتم کی یہ صفیں صرف برطانیہ یا پاکستان میں ہی نہیں بچھی الم کے گہرے اندھیروں نے پورے اقوام عالم کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اس وقت تک دنیا بھر میں پانچ لاکھ سے زیادہ افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں صرف برطانیہ میں مرنے والوں کی تعداد چوالیس ہزار سے زائد جبکہ پاکستان میں پانچ ہزار کے قریب کے ہے۔کورونا وائرس میں مبتلا ہو کر اپنی زندگی سے ہاتھ دھونے کے خوف میں مبتلا افراد کی تعداد بارہ لاکھ سے زائد ہے ہر روزکسی نہ کسی پیارے کی موت کی اطلاع ملتی ہے سید آل عمران بھی انہی پیاروں میں سےایک ہیں جن کی بے وقت موت نے شمالی انگلستان کے پاکستانی،کشمیری صحافیوںکو ایک طویل عرصے بعداکٹھا کیا پریس کلب کے سیکرٹری جنرل ارشد چیال نے گزشتہ دنوں پریس کلب یارکشائر کے سابق صدر شکیل انجم اور موجودہ صدر زاہدانور کے تعاون سے ایک تعزیتی نشست کا اہتمام کیا تھا جس میں یارکشائر اور لنکا شائر کے صحافی بھائیوں کے ساتھ ساتھ گوجر خان (پاکستان)سے مسلم لیگی رہنما اور سابق رکن اسمبلی شوکت عزیز بھٹی اور چوہدری ضیافت حسین نے شرکت کی ۔ تعزیتی ریفرنس کیا تھا اپنے اپنے دکھ درد اور اس کسک کا اظہار جو سید آل عمران جاتے جاتے سب کو دے گیا سبھی بھائی جہاں اس کی موت کا نوحہ پڑھ رہے تھے وہیں انہیں اس کی استقامت، پامردی اور حوصلے پر داد بھی دے رہے تھے کہ اس نے شدید اور جان لیوا بیماریوں کو جھیلنے کے باوجود ماں بولی کا وہ علم اپنے ہاتھ سے گرنے نہیں دیا جو اختر امام رضوی مرتے مرتے اسے تھما گئے تھے۔ راجہ شوکت عزیز بھٹی نے اس کے غمگساروں کو بتایاکہ کس طرح وہ ہر وقت کام میں جتا رہتا تھا اور کس طرح انتھک کام نے اسے کمر درد میں مبتلا کردیا اور کس طرح وہ اس درد کو درد کش دوا سے قابو کر کے اپنے فنی اور تخلیقی کام میں لگا رہا جس کا براہ راست اثر اس کے گردوں پر ہوا اور دونوںگردے فیل ہو گئے وہ بتا رہے تھے کہ ان کی اہلیہ محترمہ نے اپنا گروہ عطیہ کرتےہوئے ان کی جان تو بچا لی لیکن پیوند کاری کے تمام مراحل کامیابی سے مکمل کرنے کے باوجود کام، کام اور بس کام کے عشق نے اسے پھر بستر علالت سے جا لگایا، کرونا وائرس کو تو ایسے شکاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ سید آل عمران سے بھی ایسا ہی ہوا اور ’’جی کراں‘‘ کی محفلیں سونی ہو گئیں۔ سید آل عمران سمجھتا تھا کہ ماں بولی کو نظرانداز کرنا اپنی ماں کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے کسی دور میں پاکستان ٹیلیویژن پر ’’پنجد‘‘ کے نام سے دلدار حسین بھٹی کا شہرہ تھا انہوں نے جیسی لگن اور محنت سے پنجابی زبان کا پرچم بلند کیا سید آل عمران نے اس سے زیادہ زور لگاتے ہوئے پوٹھو ہاری علم کوبلند رکھااگر آپ پاکستان کے مختلف صوبوں اور علاقائی حدود میں ہونے والے اس تمام کام کو دیکھیں جو ماں بولی کیلئے کیا گیا تو سید آل عمران کا قد ان سب سے نکلتا ہوا دکھائی دےگا سید آل عمران نے ماں بولی کیلئے پوٹھوہاری زبان کیلئے بلکہ ان تمام زبانوں کیلئے جو جہلم سے ادھر ادھر ہزارہ ڈویژن اور آزاد کشمیر میںبولی جاتی ہیں کی ترقی وترویج کیلئے اپنی تمام زندگی لگا دی وہ صبح سے لیکر رات گئے تک ماں بولی کیلئے کام کرتا تھا بچوں کوسکھاتا تھا لوگوں کے گھروں میں گھس جاتا ان کےباورچی خانوں سےلیکر ان کے دالانوں تک اور کھیتوں سے لیکر میدانوں تک بس اسی کام میں جتا رہتا اس کی یہ خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ایک ایسا شخص جس نے گردے کی پیوند کاری کروانے کے بعد اپنا مشن دوبارہ شروع کر دیا وہ اس طرح اپنے کام میں جت گیا کہ زبان سے عشق کے نشہ نے اسے پتہ ہی نہیں چلنے دیا کہ وہ کس وقت ’’ کورونا‘‘ کا شکار ہو گیا۔ سید آل عمران تمہاری خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ہمیں بھی یاد رہیں گی اور ہماری آنے والی نسلوں کو بھی یاد رہیں گی کہ ہمارے درمیان ایک ایسا قدآور شخض ہوا ہے جس نے اپنی تمام زندگی ماںبولی کے نام کردی تمہارا پروگرام ’’جی کراں‘‘ان آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے ایک درس گاہ ہو گی جس کا سبق ماں کی عظمت کی شکل میں زندہ رہے گا۔