ؐ

October 25, 2020

ڈاکٹر اقبال احمد اخترالقادری

انسانی معاشرے ہمیشہ تعلیم و تربیت اور اخلاقِ حسنہ ہی کی وجہ سے عروج اور استحکام حاصل کرتے ہیںکہ معاشرتی امن، خُوش حالی اور استحکام کا راز،علم وعمل اوراچھے اخلاق میں پوشیدہ ہے۔ اخلاقِ حسنہ کی اہمیت کا اندازہ اسی بات سے لگا لیجیے کہ اللہ ربُّ العزّت نے اپنے محبوب، نبیٔ کریم ﷺ کو اخلاق کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز کیا اورفرمایا’’بے شک، اے محبوب! آپ خُلقِ عظیم پرفائز و قائم ہیں‘‘۔اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے حضرت سعد بن ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ رسولِ کریم ﷺ کے اخلاقِ حسنہ جن کی تعریف قرآن مجید میں بیان کی گئی ہے، وہ کیا ہیں؟

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جواب میں حیرت سے ان سے پوچھا ’’ کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ؟ ‘‘ انہوں نے عرض کیا’’ پڑھتا تو ہوں‘‘حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا’’سارا کا سارا قرآن حضور اکرم ﷺ کا خُلق ہی تو ہے‘‘۔اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ اخلاقِ حسنہ کی تعلیمی شکل، قرآن اور انہی تعلیمات کی انسانی صُورت ، شخصی نمونہ حضرت محمّد مصطفی ﷺ ہیں۔خود حضورِ اکرم ﷺ نے بھی اخلاقِ حسنہ کی ترویج و فروغ کو اپنی منصبی ذمّے داری قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’مجھے مکارمِ اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے۔‘‘

ہر دَور میں اخلاقِ حسنہ کی نہ صرف پذیرائی ہوئی، بلکہ ہر دَور کا انسان اس کی عظمت سے متاثر بھی ہوا۔ جوں جوں تصوّرات و نظریات، شعور و ادراک میں پختگی آرہی ہے، اخلاقی اقدار بھی بلند ہوتی جا رہی ہیں۔ بلاشک و شبہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت جہاں توحید، رسالت اور آخرت کی بنیادی تعلیمات پر مبنی تھی، وہیں ہر پیغمبر کی دعوت کا مرکزی نقطہ اخلاقیات بھی رہا۔ ہر پیغمبر کی اپنی شخصیت اور اسوۂ مبارکہ کا محور ومرکز اخلاقِ حسنہ اور اعلیٰ اخلاقی اقدارہی تھیں، پھر نبی محترم حضرت محمّد ﷺ نے اسے بامِ عروج پر پہنچا دیا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس ،اخلاقِ حسنہ کا نمونۂ کامل ہے ۔ انہوں نے صرف زبانی کلامی لوگوں کو اسلام ، اللہ تعالی کے احکام کی دعوت نہیں دی ، بلکہ اپنے رویّے اور اخلاق سے بھی تاریک دِلوں کو منوّر و تاباں فرما یا ۔انہوں نے انسانیت کو حِلم، بردباری، تحمّل، عفو و درگزر اور صبر و استقلال کی تعلیمات دیں۔جن سے انفرادی و اجتماعی سطح پرمعاشرے میں تحمّل و برداشت نے جنم لیا۔ یہی رویّہ انسانوں اور معاشروں کو پُرامن بناتا ، انتہا پسندی اور دہشت گردی سے روکتا ہے۔ جس معاشرے میں تحمّل و برداشت کا جوہر ہو،وہی انسانیت کے لیے خیر و فلاح کا باعث بن سکتا ہے۔

نبی اکرم ﷺ نے ہمیشہ ہی تحمّل، عفو و درگزر اختیار کرنے کی تلقین کی۔اللہ پاک نے حضورﷺ کو یہ آداب و اخلاق خود سکھائے، قرآن کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’اے حبیب ! آپ درگزرکا رویّہ اپنائیں۔ بھلائی کا حکم دیتے رہیں اور جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کرلیں‘‘۔بلا شبہ، اس آیتِ مبارکہ میں مخاطب نبی اکرم ﷺ ہیں، لیکن اس میں پوشیدہ تعلیمات تمام مسلمانوں کے لیے عام ہیں۔ یعنی، اگر کوئی بداخلاقی سے پیش آئےیا ناروا سلوک رکھے، تو ہمیں اس سے کنارہ کش ہوجانا چاہیے۔روایت میں آتا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ، تو حضور ﷺ نے حضرت جبرئیل ؑسے فرمایا’’ اس میں اللہ تعالیٰ کی کیا منشاء ہے؟‘‘ جس پر حضرت جبرئیلؑ نے عرض کیا’’یارسول اللہﷺ! مَیں خود کچھ نہیں کہہ سکتا، جب تک پیغام بھیجنے والے سے اس کے معنی نہ دریافت کرلوں۔

چناںچہ حضرت جبرئیلؑ اللہ سے اس آیت کے معنی پوچھ کر آئے اور عرض کیا’’یارسول اللہﷺ! اللہ تعالیٰ اس آیت کے ذریعے آپ سے فرمارہا ہے کہ جوشخص آپ پر زیادتی کرے، اسے معاف فرمادیں اور جو شخص آپ کو محروم رکھے، آپ اس کو عطا فرمائیں اور جو شخص آپ سے رشتہ منقطع کرے، آپ اس سے صلۂ رحمی کا معاملہ فرمائیں‘‘۔اسی لیے نبی اکرمﷺ مظالم اور مصائب پر صبر فرماتے، خاموش رہتے اور ظلم کرنے والوں کے لیے کبھی بددُعا نہیں کرتے۔ان کی ہدایت کی دعا فرماتے رہے۔وہ لوگ جو آپ کی جان کے درپے تھے، ان کو ان تمام مظالم کے باوجود یہ کہہ کر دعا دیتے رہے کہ ’’باری تعالیٰ ! یہ میری قوم ہے، ان کو معاف کردے، ان کو ہدایت عطا فرما‘‘ ۔

اللہ اکبر ! ایسا اخلاق ، انسانی تاریخ میں کسی کا ہوا ہے اور نہ ہوگا کہ کوئی اپنے دشمنوں سے بدلہ لینا تو کُجا،ان کے لیے دعائے خیر کرتا ہو۔ یہ ہمارے نبی اکرمﷺ کی اعلیٰ ظرفی اور بہترین اخلاق ہی کا نتیجہ تھا کہ آپﷺ کے دشمن تک آپ ﷺ کے مدّاح ہوگئے اور اسلام قبول کرلیا۔ اگر ہم اپنے گھربار ، بیوی، بچّوں ،دفتر ،کاروباروغیرہ ہرجگہ اور ہر مقام پراچھے اخلاق، عفو و در گزر، صبر و تحمّل سے کام لیں، تو سخت سے سخت انسان کو بھی بآسانی زیر کر سکتے ہیں۔پر افسوس ،صد افسوس کہ آج ہم نبی اکرمﷺسے محبّت کے دعوے تو بہت کرتے ہیں، لیکن عمل نہیںہے۔

بحیثیت اُمّتی، ہمیں یہ کوشش کرنی ہوگی کہ حضور ﷺ کے طرزِ عمل اور اخلاقِ حسنہ کا یہ عکس ہماری زندگیوں میں بھی نظر آئے۔کیوں کہ اگر ایسے اعلیٰ اخلاق کا معمولی سا عکس بھی ہماری زندگیوں سے جھلکنے لگے تو ہر طرف سے شَر کا خاتمہ ہوجائے، خیر کے چشمے پھوٹنے لگیں۔ پریشانیاں، راحت میں اوربد حالی ،خوش حالی میں تبدیل ہوجائے۔ دُعا ہے کہ رب تعالیٰ کُل اُمّت ِ مسلمہ کواخلاقِ حسنہ کا پیکر اور منبعِ سنّت بنائے، آمین۔