وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس پی آئی اے کے اب بھی 25 فیصد شیئرز ہیں، چار سال سے جس طرح پی آئی اے چل رہی تھی اس طرح تو بند ہو جاتی۔
جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 4 سال قبل پی ٹی آئی کے وزیر کے بیان کی وجہ سے پورا ایوی ایشن سیکٹر بیٹھ گیا تھا، قومی ایئر لائن کی گزشتہ روز کامیاب بولی لگی۔
خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ نجکاری سے قومی ایئرلائن کی سروسز میں بہتری آئے گی، جو ادارے خسارے میں چل رہے ہیں آئندہ ان کی نجکاری کا بھی ارادہ ہے، مختلف ڈسٹری بیوشن کمپنیاں بھی خسارے میں چل رہی ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پبلک سیکٹر کی بربادی پر سیاست دانوں کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے، پبلک سیکٹر کی بربادی کی ذمے دار بیورو کریسی ہے، اداروں کی بربادی کے ذمے داروں کا احتساب کیا جائے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم نے متعدد بار پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت دی، مذاکرات کی دعوت کے جواب میں دوسری جانب سے شرائط رکھی جاتی ہیں۔ پی ٹی آئی اگر اپنا ہاؤس ان آرڈر کر لے تو بات آگے بڑھ سکتی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے ڈی این اے میں مذاکرات کی گنجائش نہیں، وہ کوئی اصول پرست شخص نہیں، دو سو فیصد مفاد پرست شخص ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے ساری زندگی اپنے ذاتی مفاد کو ترجیح دی، ذاتی مفاد کے لیے وہ اصول و انسانی رشتے سب روند سکتے ہیں۔