• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دہشت گردی کی روک تھام کی اسکیموں پر فوری عمل درآمد ضروری ہے

لندن (پی اے) سابق وزیر انصاف رابرٹ بک لینڈ نے کہا ہے کہ لوگوں کو دہشت گرد بننے سے روکنے اور ان کو سپورٹ کرنے کی سکیموں پر فوری عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ لوگوں کی سرگرمیوں کو مانیٹر کرنے کے مشترکہ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔ یہ ظاہر ہوا ہے کہ سر ڈیوڈ ایمز کے قتل میں ملوث مشتبہ ملزم کو چند سال قبل دہشت گردی سے روک تھام پروگرام کیلئے بھیجا گیا تھا۔ وزیر داخلہ پریتی پٹیل کا کہنا ہے کہ اس سکیم کو مقصد کے مطابق بنانے کیلئے اس پر نظر ثانی پہلے ہی کی جاچکی ہے، پریونٹ سکیم حکومت کی انسداد دہشت حکمت عملی کا ایک حصہ یا جزو ہے، اس کا مقصد لوگوں کو دہشت گردی پر مائل کرنے کی روک تھام کر کے برطانیہ میں دہشت گردی کے خطرے کو کم کرنا ہے۔گزشتہ سال مارچ میں انگلینڈ اور ویلز سے 6,000 سے زیادہ افراد کو پریونٹ سکیم میں بھیجا گیا تھا کیونکہ ان لوگوں کے انتہاپسند بننے کا خدشہ تھا۔ جب کسی کو اس سکیم کے تحت بھیجا جاتا ہے تو اس بات کا اندازہ لگایا جاتا ہے کہ مزید کسی کارروائی کی ضرورت ہے یا نہیں، بعض معاملات میں اس سکیم کے تحت بھیجے گئے کم وبیش 11 فیصد کو حکومت کی چینل سکیم کے تحت لوگوں کو عقلمند ساتھی کے طورپر سپورٹ کیلئے رکھا جاتا ہے۔ عام طورپر ریفر کئے جانے والوں میں یعنی کم وبیش43 فیصد کا تعلق دائیں بازو سے تھا جبکہ اسلامی انتہاپسندوں کی شرح 30 فیصد تھی۔ پریونٹ سکیم میں شمولیت رضاکارانہ ہوتی ہے اور یہ مجرمانہ سزا نہیں ہے۔ سر ڈیوڈ پر حملے کے الزام میں گرفتار 25سالہ ملزم علی حربی کو بھی چند سال قبل پریونٹ سکیم کے تحت بھیجا گیا تھا لیکن اس نے پریونٹ پروگرام میں زیادہ وقت نہیں گزارا اور MI5 کو بھی اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ رابرٹ بک لینڈ نے ٹائمز ریڈیو سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ مختلف ایجنسیوں کے درمیان زیادہ تعاون اور اشتراک کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے پوری امید ہے کہ جب یہ کمیونٹی سپرویژن میں آجائے گا تو اس طرح کے لوگوں کے ساتھ کمیونٹی کی شرکت سے ہیلتھ سروسز، تعلیم اور بہت سی دیگر چیزیں بھی اس میں آجائیں گی اور میں سمجھتا ہوں کہ ان سب چیزوں کویکجا کیا جانا چاہئے اور اس کیلئے فوری کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ایجنسیاں زیادہ قریبی اشتراک سے کس طرح کام کرسکتی ہیں؟ بک لینڈ نے جواب دیا کہ اسکولوں، کالجوں یا ہیلتھ سروسز سے ریکارڈ یا اطلاعات ہوں گی، جن سے ہمیں کسی بھی فرد کی سرگرمیوں اور خیالات کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہوسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس سب کو زیادہ موثر انداز میں ملانے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم کمیونٹی پریونشن کی بات کر رہے ہیں، ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ حکومت کا ہر شعبہ کسی بھی فرد کو ممکنہ طور پر سمجھنے کیلئے ایک ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ قبل ازیں وزیر داخلہ پریتی پٹیل نے کہا تھا کہ پریونٹ پر حال ہی میں غیرجانبدارانہ طورپر نظر ثانی کی گئی ہے، نظر ثانی کا یہ عمل چیرٹی واچ ڈاگ دی چیرٹی کمیشن کے سابق سربراہ ولیم شائوکراس کی قیادت میں اس سال کے اوائل میں شروع کیا گیا تھا، اس نے بروقت اپنا کام مکمل کیا، ہمیں صرف کسی حادثے یا واقعے کے بعد نہیں بلکہ مسلسل سیکھتے رہنا چاہئے کہ ہم اپنے پروگراموں کو کس طرح زیادہ موثر اور مستحکم بنا سکتے ہیں۔
یورپ سے سے مزید