• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خودکشی کرنے والے اور مقروض کی نمازِ جنازہ

تفہیم المسائل

سوال: اگر کوئی شخص خودکشی کرلے ،تو اُس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی یا نہیں؟، (معاذاحمد )

جواب : حدیث پاک میں ہے : ترجمہ:’’ حضرت جابربن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک شخص (کا جنازہ) لایاگیا ، جس نے اپنے آپ کو ایک تیر سے ہلاک کرلیاتھا، آپ ﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی ،(صحیح مسلم:2259)‘‘۔

امام اعظم ابو حنیفہؒ ، امام مالکؒ ، امام شافعیؒ اور جمہور علماء کا مسلک یہ ہے کہ خودکشی کرنے والے شخص کی بھی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی، اور مذکورہ حدیث کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے زجروتوبیخ کے لیے اس کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی تاکہ لوگ خودکشی سے باز رہیں اور صحابۂ کرامؓ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھ لی تھی ۔

علامہ علاء الدین حصکفی لکھتے ہیں : ترجمہ:’’اور ایسا شخص، جس نے خود کشی کی ، خواہ جان بوجھ کرکی ہو، اُسے غسل دیا جائے گا اور اُس کی نمازِ جنازہ بھی پڑھی جائے گی ،اِسی پر فتویٰ ہے، اگرچہ اس(خودکشی کرنے والے)کا گناہ اس شخص سے زیادہ ہے جس نے کسی دوسرے شخص سے لڑائی کی ہو (اورخود مارا گیا ہویا دوسرے کو قتل کیا ہو )، اور علامہ کمال الدین ابن ہُمام ؒنے دوسرے (یعنی امام ابویوسف کے) قول کو ترجیح دی ،کیونکہ صحیح مسلم میں روایت ہے: ’’ایک خود کشی کرنے والے شخص کا جنازہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا ، تو آپ ﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی ‘‘،علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں :ترجمہ:’’ میں کہتا ہوں :’’یہ کہاجا سکتا ہے کہ اس حدیث میں اس امر پر کوئی دلالت نہیں کہ خودکشی کرنے والے کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی ، کیونکہ اس میں صرف اتنی بات ہے کہ آپ ﷺ نے (زجر وتوبیخ کے طورپر)خود اس کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی،بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے اس کا جنازہ ا س لیے نہیں پڑھاتا کہ دوسروں کو عبرت حاصل ہو اور کوئی خودکشی کی جسارت نہ کرے ،جیسے آپ ﷺ نے خود مقروض کا جناز ہ پڑھنے سے منع فرمادیا تھا (جس کی بنا پر اس کے قرض کی ادائی کی سبیل بن گئی )،اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کسی صحابی نے بھی اس کا جنازہ نہ پڑھا ہو،(ردالمحتار علیٰ الدر المختار، جلد3،ص:102) ‘‘ ۔

تاہم رسول اللہ ﷺ کے عبرت آموز طرزِ عمل کی اتباع کرتے ہوئے کسی بڑے عالم کو خودکشی کرنے والے کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھانی چاہیے ، عام اَئمہ حضرات پڑھا سکتے ہیں۔علامہ ڈاکٹر وھبہ الزحیلی نے لکھا ہے کہ:’’ شوافع کا مفتیٰ بہ ٖ قول بھی یہی ہے کہ خود کشی کرنے والے کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی، (الفقہ الاسلامیہ واَدِلّتہٗ ،جلد:02،ص:1509)‘‘۔

علامہ یحییٰ بن شرف نوویؒ لکھتے ہیں:ترجمہ:’’امام حسن ،امام نخعی ،امام قتادہ ، امام مالک، امام ابوحنیفہ ،امام شافعی اور جمہور علماء نے کہا ہے: (خود کشی کرنے والے کی )نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی، انھوں نے اس حدیث کا یہ جواب دیا ہے :’’نبی ﷺ نے لوگوں کو خود کشی جیسے قبیح فعل کی سنگینی پر متوجہ کرنے کے لیے خود،خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ نہیں پڑھی اور صحابۂ کرامؓ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھی ہے، یہ ایسا ہی ہے جیسے نبی ﷺ نے ابتداء ً مقروض کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی تاکہ لوگ قرض لینے اور قرض کی ادائی میں تساہل نہ برتیں اور آپ نے صحابۂ کرام ؓ کو نمازِ جنازہ پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: اپنے ساتھی کی نمازِ جنازہ پڑھو، (شرح صحیح مسلم للنووی، ج:7،ص:47)‘‘۔ مقروض کی نمازِ جنازہ سے متعلق حدیثِ پاک میں ہے : ترجمہ:’’ابوقتادہ ؓبیان کرتے ہیں: نبی ﷺ کے پاس انصار کے ایک شخص کی میت لائی گئی تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھادیں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو کیونکہ اس پر قرض ہے، ابوقتادہؓنے کہا:یہ میرے ذمہ ہے، نبی ﷺ نے فرمایا:تم یہ قرض اداکردوگے ؟ ، انہوں نے عرض کی:ہاں! میں اس کی ادائیگی کروں گا، تب آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی،(سُنن ترمذی: 1069)‘‘۔

رسول اللہ ﷺ کے اس عملِ مبارک سے ایک تو لوگوں پر بلاضرورت قرض لینے یا قرض لے کر ادانہ کرنے کی سنگینی واضح ہوئی اور مزید یہ کہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے ذریعے اس کی ادائی کا اہتمام بھی ہوگیا ،اگر یہ شِعار اب بھی رائج ہوجائے کہ میت کی نمازِ جنازہ سے پہلے اُس کے ذمے واجب الادا قرض کی ادائی کا اہتمام کیا جائے ، تو میت پر آگے کی منازل آسان ہوں گی اور شاید بعض صورتوں میں نادار لواحقین کے لیے آسانی پیدا ہوجائے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ترجمہ:’’ (مقروض ) مومن کی روح قرض کی وجہ سے معلّق رہتی ہے یہاں تک کہ اس کا قرض ادا کر دیا جائے،(سُنن ترمذی :1078 )‘‘۔