• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان پولیو وائرس کے خاتمے کے قریب

کراچی (بابر علی اعوان / اسٹاف رپورٹر) پاکستان پولیو وائرس کے خاتمے کے ایک بار پھر قریب پہنچ گیا ہے ۔ رواں سال ملک میں پولیو وائرس کا صرف ایک کیس رپورٹ ہوا جبکہ ستمبر میں پاکستان کے تمام 58 ماحولیاتی نمونوں میں پولیو کا وائرس نہیں پایا گیا جس نے امید پیدا کر دی ہے کہ ہر بچہ ہمیشہ کی معذوری سے بچ سکے گا اور پاکستان کا پولیو فری ہونے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے گا۔ 2020 میں بھی 84کیسز رپورٹ ہوئےتاہم وفاقی اور صوبائی حکام کی بہترین حکمت عملی اور پولیو ورکرز کی انتھک محنت نے رواں سال پولیو وائرس کوپاکستان میں صرف ایک کیس تک محدود کر دیا ہے۔ اس ضمن میں گفتگو کرتے ہوئے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے پولیو کے کوآرڈینٹر ڈاکٹرشہزاد بیگ نے جنگ کو بتایا کہ پاکستان اس سے قبل بھی دو مرتبہ پولیو کے خاتمے کے قریب پہنچا جس پر ہم ریلیکس ہوگئے لیکنوائرس بڑی زور سے واپس آیا اور آج تک خاتمہ نہ ہوسکا تاہم اس بار ہم خود سے عہد کر رہے ہیں کہ کوئی غلطی نہیں دہرائیں گے اور آخر وقت تک محنت جاری رکھیں ۔ یاد رہے کہ پاکستان میں گزشتہ 14 سالوں کے دوران 1332 بچے پولیو وائرس سے معذور ہوئے جبکہ پولیو سےبچاؤ کے قطرے پلانے والے 70 سے زائد ورکرز قاتلانہ حملوں میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ ملک میں پولیو وائرس سے بچاؤ کی ویکسین پلانے کا آغاز 1974 میں ہوا ، سرکاری سطح پر اقدامات کا سلسلہ 1994میں شروع کیا گیا جبکہ گھر گھر پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہمات 1999سے شروع ہوئیں ۔ ہر سال حکومت ملک سے پولیو کے خاتمے کا دعوہ اور عزم کرتی رہی لیکن خاتمہ ممکن نہ ہوسکا تاہم کیسز میں بتدریج کمی ضرور آتی رہی ۔اب پورے ملک میں صرف ایک کیس نے امید توپیدا کی ہےلیکن اس امید کو یقین میں بدلنے کے لئے حکومت کو سخت محنت کرنی پڑے گی ۔اگر مسلسل تین سال تک ملک میں پولیو وائرس کا کوئی کیس نہ آیا اور تمام ماحولیاتی نمونے منفی پائے گئے تو پاکستان کو پولیو فری ملک قرار دے دیا جائے گا۔

ملک بھر سے سے مزید