• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک واقعہ جو کبھی اتنی اہمیت کا حامل نہیں تھا، 6 اکتوبر کے ایک واقعے نے پورا منظرنامہ ہی تبدیل کردیا

اسلام آباد (طارق بٹ) ایک واقعہ جو کبھی اتنی اہمیت کا حامل نہیں تھا اور حکومت کے لیے سب اچھا تھا اور عوام میں یہ بات موضوع بحث تھی کہ پی ٹی آئی ہی 2023کے عام انتخابات کے بعد ہائبرڈ نظام کی سربراہ ہوگی لیکن 6 اکتوبر کے ایک واقعے نے پورا منظرنامہ ہی تبدیل کردیا۔

 اس روز لیفٹیننٹ جنرل کی آئی ایس آئی کے ڈی جی اور کچھ کور کمانڈرز کی تقرری اور تعیناتیاں ہوئی تھیں۔ جس کے بعد حکومت نے پرزور انداز میں یہ کہنا شروع کیا کہ یہ وزیراعظم کا اختیار ہے کہ وہ آئی ایس آئی سربراہ کا انتخاب کرے اور وزیراعظم ہی نامزد فوجی جنرلز کا انٹرویو کرے اور ان میں سے کسی ایک کو منتخب کرے۔

 یہی وجہ ہے کہ تین سال سے ایک صفحے پر ہونے کے دعوئوں پر سوالات اٹھنا شروع ہوگئے۔ پی ٹی آئی کو ایسی صورت حال کا سامنا پہلی بار ہوا کیوں کہ اس سے قبل ایسا کچھ ہوا بھی تھا تو وہ پردے کے پیچھے تھا۔ 

عمران خان نے بھی پریشان پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کے تحفظات دور کرنے کے لیے وقت نکالا اور پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کیا اور یہ یقین دہانی کروائی کہ خفیہ ادارے کے سربراہ سے متعلق نوٹیفکیشن کا مسئلہ جلد حل ہوجائے گا کیوں کہ ان کے اس بارے میں دوسروں سے اختلافات نہیں ہیں۔ 

حکومت بھی پراعتماد ہے کہ وہ باقی ماندہ دو سال بھی باآسانی حکومت کرلیں گے۔

 مطلوبہ سرکاری حکم نامے کے اجرا میں تاخیر جو کہ بالآخر منگل کے روز ہوئی کے باعث مایوسی پھیلی۔ اسی مسئلے کی وجہ سے دیگر اہم امور بھی متاثر ہوئے جو کہ بالواسطہ یا بلا واسطہ اصل مسئلے سے متعلق تھے۔

ملک بھر سے سے مزید