پاکستان آئیڈل میں اپنی سریلی آواز کا جادو جگانے والے امیدوار نبیل عباس اور تراب نفیس نے شو تک پہنچنے کی اپنی اپنی دلچسپ کہانیاں سنا دیں۔
ٹاپ 16 کے دونوں کنٹسٹینٹ جیو پوڈ کاسٹ میں میزبان مبشر ہاشمی کے مہمان بنے اور موسیقی میں اپنے سفر پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کس طرح پاکستان آئیڈل تک پہنچے۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے تراب نفیس کا کہنا تھا کہ میرے والد صاحب استاد نفیس خان ہیں، وہ ستار نواز ہیں، والدہ پرائیویٹ اسکول میں میوزک ٹیچر ہیں اور اردو ٹیچر بھی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے جتنا بھی میوزک آتا ہے وہ ان دونوں کی وجہ سے ہی ہے، بچپن سے ہی گھر میں موسیقی سنی اور وہی سن سن کر میں نے یہ سب سیکھا ہے۔
پاکستان آئیڈل کے آڈیشن میں آنے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ان کی بہن نے والدہ کو اس حوالے سے بتایا تو والدہ نے کہا کہ مجھے اس کےلیے جانا چاہیے، میں یونیورسٹی میں ایڈمیشن لینے والی تھی، تاہم میں نے سوچا کہ یونیورسٹی بعد میں کرلیں گے پہلے پاکستان آئیڈل کو پورا کرلیں کیونکہ دونوں کو ایک ساتھ چلانا مشکل ہوجاتا ہے۔
دوسرے کنٹسٹنٹ نبیل عباس نے اپنی دلچسپ کہانی سنائی اور بتایا کہ ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں مجھے دو سے تین سال ہی ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آج کل کے دور میں گھر کا کچن چلانے کےلیے کچھ کرنا پڑتا ہے۔ والد کے انتقال کے بعد کچھ نہ کچھ کام کرتا رہا ہوں۔
گلوکاری سے لگاؤ کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے نبیل کا کہنا تھا کہ گانے کا بچپن سے شوق ہے۔
انہوں نے کلاسیکل میوزک میں اپنی دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اچھا میوزک سننے کا بہت شوق ہے، مجھے نصرت فتح علی خان اور غلام علی خان کو سننے کا بہت شوق ہے۔
پاکستان آئیڈل تک پہنچنے کی کہانی سناتے ہوئے نبیل کا کہنا تھا کہ ملتان میں کام کرتا ہوں، ملتان سے ڈیرہ غازی خان واپس آتے ہوئے باس نے کہا کہ ’آج تم گھر کیوں جارہے ہو‘ تو میں نے کہا کہ ہم روز جاتے ہیں کوئی نئی بات تو نہیں ہے، تو انہوں نے کہا کہ ’صبح پاکستان آئیڈل آرہا ہے‘ جس پر میں نے کہا کہ آنا تو تھا لیکن تاریخ کا علم نہیں ہے جس پر انہوں نے کہا کہ یہ کل ہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آدھا سفر طے کرلیا تھا، پر باس نے کہا کہ ہم ڈی جی خان چل رہے ہیں لیکن آپ نے واپس ملتان پہنچنا ہے۔
نبیل کا کہنا تھا کہ میں ساری رات سوچتا رہا کہ صبح کیا گاؤں گا، کوئی تیاری بھی نہیں ہے۔ لیکن میں صبح وہاں پہنچا، مجھے لگا کہ میں جلدی پہنچ گیا ہوں لیکن وہاں بہت رش تھا۔ بچے گا رہے ہیں، مشق کر رہے ہیں، لائینیں لگی ہوئی ہیں اور پھر ہم بھی لگ گئے لائن میں۔