• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’ملا کھڑا‘‘ سندھ کا روایتی کھیل جو پانچ ہزار سال سے رائج ہے

کھیل کسی بھی ملک کی معاشرتی روایات اور ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں ، جیسےبل فائٹنگ اسپین کا روایتی کھیل ہے جو صدیوں سے ہسپانیہ کی تہذیب و ثقافت کی نمائندگی کررہا ہے۔ یہ انسان اور حیوان کی لڑائی کا کھیل ہے۔ ایسا ہی ایک کھیل ’’ملا کھڑا‘‘ہے جو پانچ ہزار سال سے سندھ کے خطے میں کھیلا جاتا ہے۔ملاکھڑا کو سندھی زبان میں ملھ بھی کہا جاتا ہے،اس کا کھلاڑی ’’ملھ پہلوان ‘‘کہلاتا ہے۔

لال شہباز قلندرؒ، شاہ عبدالطیف بھٹائیؒ، حضرت عبداﷲ شاہ غازیؒ اور دیگربزرگان دین کی درگاہوں پر لگنےوالے میلوں میں ملاکھڑاکے مقابلوں کا باقاعدہ انعقاد کیا جاتا ہے۔ سندھ یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی میں ملاکھڑا کارنر بھی قائم کیا گیا ہے۔

کسی زمانے میں یہ صرف سندھ میں کھیلا جاتا تھا لیکن 20ویں صدی میں یہ سندھ سے نکل کر ایران، افغانستان، ترکی، چیکوسلواکیہ، روس، ہنگری اور وسط ایشائی ممالک میں بھی مقبول ہوگیا۔ یہ کھیل علاقے کے لحاظ سے اپنے اطوار و انداز بدل چکے ہیں مگر اس کے بنیادی اصول ایک جیسے ہیں۔ کمزور دل انسان کے لیے میدان میں اترنا تودور کی بات ہے، اس کو دیکھنے کا حوصلہ بھی نہیں ہوتا۔ کھیل میں حصہ لینے والےکھلاڑی ایک دوسرے کو ہوا میں ایسے اچھالتے ہیں جیسے فٹ بال اچھلتی ہے۔ 

افغانستان اور بلوچستان میں کھیل کے دوران زور، دائیں کندھے سے لگایا جاتا ہے، جب کہ سندھ کی ملھ کشتی میں زورآزمائی کے لیے بایاں کندھا استعمال ہوتا ہے۔وسطی ایشیا میں سندھ کے ’’سندڑ ‘‘کی بجائے چمڑے کا پٹہ باندھ کر زور آزمائی کی جاتی ہے۔یہ کھیل گجرات اوربھارت کے دیگر دیہی علاقوں میں بھی کھیلا جاتا ہےلیکن دنیا بھر میں سب سے زیادہ سندھ کے مردوں کا پسند یدہ کھیل ہے، وہ اسے ’’شیروں کی جنگ ‘‘کہتے ہیں۔

قدیم باشندے اسے انتہائی ذوق و شوق سے کھیلتے تھے۔ آج بھی سندھ کے دور درازعلاقوں کے ایسے گوٹھ جہاں بجلی، گیس ، ٹیلیویژن اور موبائل نیٹ ورک نہیں ہے،وہاںکے باسیوں کے لیے ملاکھڑا، کشتی، صحت مند تفریح کا ذریعہ ہے۔ سندھی بچوں، جوانوں اور بوڑھوں کی اکثریت ملاکھڑا کے کھیل سے وابستہ ہے۔

اس کھیل کے آغاز کے لیے دو افراد میدان میں اترتے ہیں جن کی کمر کے گرد کپڑے کی ایک پٹی سی بندھی ہوتی ہے۔ ہر کھلاڑی اپنے مدّ مقابل کی کمر کو مضبوطی سے گھیرے ہوئے اس کپڑے کو جسے سندڑ کہا جاتا ہے، اپنے مضبوط ہاتھوں سے پوری طاقت کے ساتھ پکڑ لیتا ہے اور اپنے بازوئوں میں سمیٹتے ہوئے مدِمقابل کو اٹھا کر زمین پر گرانے کی کوشش کرتا ہے۔جو کھلاڑی ایسا کرنے میں کامیاب ہوتا ہے،اسے فاتح قرار دیا جا تا ہے ۔جیت اپنے نام کرنے کی کوشش میں طاقت کے یہ’’ دیو‘‘ اکثراپنے حریف کوبازوئوں میں دبوچ کر ہوا میں ایسے گھماتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جیسے لٹو ڈوری میں لپیٹ کر زمین پرگھمایا جاتا ہے ۔

مذکورہ کھلاڑی ، ہوا میں گھومنے کے دوران اس کے شکنجے سے نکلنے کے لیے خود کو گھمانے والے پہلوان کو اپنے زورِبازو سے نا صرف قابو میں کرلیتے ہیں بلکہ اگلے ہی لمحے خود کوگھمانے والے کوہی فضا میں اچھال دیتے ہیں۔ دونوں پہلوانوں کی کوشش ہوتی ہے کہ حریف کو بازوئوں کی مدد سے اٹھا کر سر سے گھماتے ہوئے زمین پر پٹخا جائے تاکہ فتح اس کے نام ہوسکے۔ وہ مدمقابل کواس طرح زمین پر پٹختے ہیں جیسے دھوبی کپڑے دھوتے وقت زمین پر پٹختا ہے۔

لیکن دوسرا پہلوان بھی طاقت اور مہارت میں کم نہیں ہوتا ،وہ زمین پر پاؤں لگتے ہی ،خود کو گرنے سے بچاتے ہوئے اس طرح اچھلتا ہے جیسے ربڑ کی گیند زمین پر ماری جائے تو واپس ہوا میں تیز رفتاری کے ساتھ اچھلتی ہے۔ملھ کھلاڑیوں کا زمین کو چھوتے ہی دوبارہ ہوا میں اچھلنے کا عمل اکثر تماشائیوں کے لیے حیران کن ہوتا ہے اور وہ یہ سوچنے پر مجبورہوتے ہیں کہ شاید ان پہلوانوں کی ٹانگیں اسفنج یا ربڑ سے بنی ہوئی ہیںجو زمین سے ٹکرانے کے بعد ٹوٹنے کی بجائے ہوا میں اچھل جاتی ہیں۔

کشتی کے دوران زیادہ تر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ حریف کو ہوا میں اچھال کر زمین پر پٹخنے کی کوشش کرنے والا کھلاڑی اگلے ہی لمحے ہار جاتا ہے کیوں کہ زمین پر گرنے والا کھلاڑی پائوں کو زمین کے ساتھ لگتے ہی دوبارہ ایسے ہوا میں اچھلتا ہے کہ اس کے بازوئوں کے گھیرے میں گٹھری میں بندھے ہوئے کپڑوں کی طرح دوسرا کھلاڑی ہوتا ہے جس نے اسے چند لمحے پہلے ہوا میں گھماتے ہوئے زمین پرپٹخنے کی کوشش کی تھی ۔ جیسے جیسے کھلاڑی ایک دوسرے کو فضا میں دائرے کی صورت گھماتے ہیں ویسے ویسے تماشائیوں کے دل بھی سینہ توڑ کر باہر آنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

ملھ کشتی سکھانے کے لیےسندھ کے تمام شہروں کے گلی محلوں میں اکھاڑے بنے ہوئے ہیں۔اس کھیل کو سیکھنے کا عمل 5 سال کی عمر میں شروع ہوتا ہے جو 12 سال تک جاری رہتا ہے۔ ملھ پہلون 17 سال کی عمر میں میدان میں اتارا جاتا ہےاور اس کی ریٹائرمنٹ کی عمر 35 سال ہوتی ہے اور وہ اٹھارہ سال تک کشتی لڑنے کے قابل رہتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد تجربے کی بنیاد پر ملاکھڑا کے استاد کے طور پر تاحیات اس سے منسلک رہتا ہے ۔عوامی سطح پر اس کھیل کے مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ سارا سال جاری رہتا ہے۔

علاقے کے جاگیردار ، تماشائی اور ملھ پہلوان اس کھیل کو صدیوں سے اپنی مدد آپ کے تحت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جو ملھ پہلوان مقابلہ جیتتا ہے اسے عوامی سطح پر ہیروکا رتبہ دیاجاتا ہے اور اس کی بہادری کے قصے زبان زدعام ہوتے ہیں۔ لوگ اپنے بچوں کو ملھ پہلوانوں کی جرأت اور طاقت کی کہانیاں سناتے ہیں ۔ مقامی باشندوں کے نزدیک ، ملاکھڑا سندھی تہذیب و ثقافت کا وہ حصہ ہے جسے فراموش کرنا سندھی تہذیب و ثقافت کو فراموش کرنے کے مترادف ہے۔

سندھ کی تاریخ میں جن جوانوں نے ملھ پہلوانی میں اپنے نام کے ڈنکے بجائے انہیں آج بھی سندھی اپنی آن بان اور شان سمجھتے ہیں جن میں بکھر شیدی، غلام سرور جتوئی، جمعہ شیدی ، سڈل مکرانی، سید سمن شاہ، کریم بخش شیدی ، شیر سیدی ، سائیں تھر ، بنن جمالی ، حاجی خشک ، نواز علی رند ، دادلو شیدی، ارباب گائو، نورو مکرانی، علی محمود کوریجو، احمد مری ، غلام قادر لغاری اور اللہ جوڑیو سمو وہ نام ہیں جو اس کھیل میں فتح کے جھنڈے گاڑ چکے ہیں۔

1992ء میں یوم آزادی کےموقع پر،اُس وقت کے گورنر سندھ ، محمود ہارون نےبھٹ شاہ میں ملاکھڑا کے مقابلوں کے لیے ’’ملھ اسٹیڈیم ‘‘ کا افتتاح کیا تھا، جس میں پہلوانوں کی کوچنگ اورکھلاڑیوں کے ہاسٹل کے لیےجگہ بھی مختص کی گئی تھی لیکن اب یہ ا سٹیڈیم قبضہ مافیا کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔ ملھ پہلوانوں کے ہاسٹل کی جگہ مکانات کی تعمیر ہوگئی ہےجب کہ میدان میں شادی بیاہ کی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

سہولتوں کی کمی اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے اس روایتی کھیل کی طرف سے عدم توجہی کے باعث ملھ پہلوانوں کی تعداد گھٹتی جارہی ہے۔ ملھ ایسوسی ایشن سندھ کے جنرل سکریٹری ،ممتاز مری کا کہنا ہے کہ پانچ چھ سال پہلے میر پور خاص ڈویژن میں ملھ پہلوانوں کی تعداد دو سو تک تھی جو اب محض 25سے 30تک رہ گئی ہے، یہی صورتحال سندھ کے دوسرے ڈویژنز کی بھی ہے، خاص کر تھر جہاں لوگ اس کھیل کے رسیا ہیں، وہاں بھی ملھ پہلوانوں کی تعداد میں تیزی سے کمی ہو گئی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ اس روایتی کھیل کی طرف توجہ مبذول کرے، اس کودیگر کھیلوں کی طرح قومی و بین الاقوامی سطح پر متعارف کروانے کی کوشش کرے۔