• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی میں کورونا کی منفی رپورٹ اور جعلی سرٹیفکیٹ بنانے والا گروہ بے نقاب



کراچی میں مرضی کے منفی نتائج والے کووڈ پی سی آر نتیجے اور ویکسینیشن سرٹیفکیٹس بنائے جارہے تھے، اس گھناؤنے دھندے میں ملوث تین ملزمان کو شہریوں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا، جن کی نشاندہی پر مزید چھ ملزمان کو گرفتار کرلیاگیا، چند ملزمان تاحال فرار ہیں۔

شہر میں جعل سازی اور بدعنوانی کرنے والے کورونا وبا کے دوران بھی باز نہیں آئے، ضرورت مندوں کو ویکسین لگائے بغیر ویکسینیشن سرٹیفکیٹ جاری کرتے رہے، پکڑے گئے ملزمان فی سرٹیفکیٹ 10 ہزار روپے وصول کرتے تھے۔ دستاویزات میں ویکسین کا نام تبدیل کروانے کا ریٹ 40 ہزار روپے تھا۔

کراچی میں بیرون ملک جانے والے افراد کو اپنی مرضی کے منفی نتیجے دینے اور کسی بھی ویکسین لگوانے کے منظم دھندے کا انکشاف ہوا ہے۔

دو روز قبل جب کلفٹن میں شہریوں نے ایسا کرنے والے تین ملزمان کو ٹریپ کرنے کے بعد پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا، تو اس اطلاع پر ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل نے ملزمان کو اپنی تحویل میں لیا اور شہر کے دیگر علاقوں میں مزید کارروائیاں کر کے 6 مزید ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر سائبر کرائم عمران ریاض نے جیو نیوز کو بتایا کہ ملزمان نجی لیبارٹریز اور اسپتال کے موجودہ اور سابقہ ملازمین ہیں جن کی رسائی حکومت کی جانب سے نجی سیکٹر کو دی گئی نادرا سے منسلک سروس نمبرز تک ہے جس میں ان نتیجوں کا اندراج کیا جاتا ہے جس سے ملزمان نے فائدہ اٹھایا۔

اس گروہ کے چند ملزمان تاحال فرار ہیں جن کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں۔

قومی خبریں سے مزید