سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں ایران پر حملہ کروں گا، تم ہو کون؟ ہمیں ایران کے ساتھ بیٹھنا چاہیے، پاکستان کی بطور ہمسایہ ذمہ داری ہے او آئی سی کا اجلاس بلائے۔
سینیٹ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین، روس اور سعودی عرب کو بھی بلائیں، ہم کہیں کہ کسی ملک کو اس خطے پر حملہ نہیں کرنے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جرگہ ہوا، تمام قبائلی موجود تھے، متفقہ فیصلہ تھا کہ یہاں آپریشن نہیں ہونا چاہیے، ایران میں لوگوں نے دہشت گردی کے خلاف حکومت کا ساتھ دیا اور دہشت گردی ختم ہو گئی۔
راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ انقلاب کے وقت میں ایران میں تھا، ایرانیوں نے حکومت کا ساتھ دیا اور دہشت گردوں کی نشاندہی کی تھی، ایران میں عوام ساتھ نہ ہوتے تو وہاں تباہی ہو جاتی۔
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ابھی احتجاج کے دوران ایرانی سیکیورٹی اداروں کو 5 لاکھ کالز کی گئیں، لوگوں نے سیکیورٹی ادروں کو بتایا کہ دہشت گرد پھر رہے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ پاکستان کو ٹھیک کرنے کی طرف جائیں، سیاست دان آگے آئیں، پارلیمنٹیرین آگے آئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے بانی پی ٹی آئی نے سینیٹر بنایا، میں بانی پی ٹی آئی کا وفادار ساتھی ہوں، کبھی اصولوں پر سمجھوتا کرنے والا نہیں، پاکستان کی سیکیورٹی اور قومی مفاد کے لیے جو بھی ہوا کردار ادا کریں گے۔ ایسی قانون سازی ہو جس سے عوام کو فائدہ ہو۔ بانی پی ٹی آئی اور سیاسی قیدی جلد رہا ہوں گے۔
راجہ ناصر عباس نے یہ بھی کہا کہ ہم شادیوں پر اتنا خرچ کرتے ہیں، کچھ غریب کے بچوں کے لیے بھی لے لیں، لوگوں کے پاس دوائی، بجلی، بچوں کے اسکول کے لیے پیسے نہیں ہوتے، پاکستان ایلیٹ کے لیے نہیں عوام کے لیے بنا تھا۔