• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آمدورفت میں کمی کے باوجودکار پرانحصار 15 سال کی بلند ترین سطح پرپہنچ گیا

لندن (پی اے) آمدورفت میں کمی کے باوجود کہیں آنے جانے کے لئےکار پر انحصار 15 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ ایک نئے سروے کے مطابق موٹرسٹس کے سالانہ آر اے سی پول میں پانچ افراد میں چار سے زیادہ (82فیصد) جواب دہندگان نے کہا کہ انہیں کار تک رسائی کے بغیر جدوجہدکا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ شرح پچھلے سال کے 79 فیصد اور 2019 میں 74 فیصد سے زیادہ اور 2006 کے بعد سے بلند ترین سطح ہے۔ جب دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے کی بات آتی ہے تو کار پر انحصار کرنے والوں میں سے 68 فیصد نے کہا کہ انہیں جو فاصلہ طے کرنا پڑے گا وہ پیدل یا سائیکل کے لئے بہت دور ہے۔ تقریباً 57 فیصد نے کہا کہ گاڑی دیگر آپشنز کے مقابلے میں تیز ہے اور 53 فیصد نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کی کوئی ممکنہ سروسز نہیں ہیں۔ دیہی علاقوں میں ڈرائیوروں کا کار پر انحصار 87 فیصد ہے جوکہ شہر اور ٹائون کی شرح77 فیصد سے زیادہ ہے۔ برطانیہ کے 2652 موٹرسٹس کے سروے میں یہ بھی کہا گیا کہ ہفتے میں پانچ دن سفر کا دور زیادہ تر لوگوں کے لئے واپس نہیں آئے گا۔ صرف 32 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ مستقبل میں ہر کام والے دن کام پر جائیں گے جبکہ وائرس کے بحران سے پہلے یہ شرح 49 فیصد تھی۔ آدھے سے کم (46 فیصد) نے کہا کہ وہ اپنی گاڑی کم استعمال کریں گے یہاں تک کہ اگر ٹرین اور بس سروسز بہتر ہو جائیں، تین سال پہلے یہ شرح 59 فیصد تھی۔ تقریباً 45 فیصد نے کہا کہ وہ وباکے براہ راست نتیجے کے طور پر مستقبل میں پبلک ٹرانسپورٹ سے کم سفر کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ آر اے سی ڈیٹا انسائیٹ کے ترجمان روڈ ڈینس نے کہا کہ بہت سے ڈرائیور واضح طور پر توقع کرتے ہیں کہ ہائبرڈ کام کرنا معمول بن جائے گا، جس کا ہفتے کے دوران سڑکوں پر گاڑیوں کے مجموعی حجم پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ کار اتنے لوگوں کے لئے کتنی اہم ہے، یہ رشتہ کوویڈ۔ 19 کی وجہ سے مضبوط ہوا ہے۔