• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سماجی برائیوں منشیات خاص طور پر نوجوان نسل کو تباہی سے دوچار کرنے والے گٹکا اور ماوا کی تیاری خرید و فروخت اور استعمال کے خلاف کاروائی کے لیے آئی جی سندھ مشتاق احمد مہر نے بیڑہ اٹھالیا، ایسی پالیسی مرتب کی جو قابل تحسین اور اس گھناونے دھندے کی روک تھام بلکہ خاتمے میں موثر کردار ادا کرئے گی۔ انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کے خلاف کاری ضرب لگانے کا بڑا فیصلہ کیا، جسے تمام حلقوں میں سراہا جارہا ہے۔ ایس ایس پی سطح کی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو کسی دوسرے دو اضلاع میں کارروائی کریں گی۔ اس حکمت عملی کے ابتدائی طور پر مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ 

ایک ایسا سستا ترین زہر جو ہمارے معاشرے میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے، گٹکا، ماوا، پان پراک ، سٹی اور دیگر ناموں سے فروخت ہونے والے نشہ آور مصنوعات کا استعمال بڑھتا جارہا تھا، خاص طور پر سندھ بھر میں اس کا استعال دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ کیا جاتا ہے، لیکن کراچی ، حیدرآباد، سکھر، شہید بے نظیر آباد، میرپور خاص سمیت دیگر شہری علاقوں میں اس کا زیادہ استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے اور یہ نشہ آور مصنوعات اب دیہی علاقوں تک پہنچ چکی تھیں اور اس بُری عادت میں بوڑھے ،جوان، لڑکے ، خواتین اور بچے خاص طور پر نوجوانوں کی بڑی تعداد شامل ہے، ان نشہ آور مصنوعات کو کھانے سے ان لوگوں میں نشے کی عادت بڑھتی جاری ہے، جس سے منہ کے کینسر سمیت گلے اور پیٹ کی دیگر بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔ 

نوجوان چھوٹی عمر کے لڑکوں کی یہ صورت حال ہے کہ ان کے منہ بھی پورے نہیں کھلتے، بعض ایسے عادی افراد ہیں جو رات میں بھی گٹکا منہ میں دبا کر سوتے ہیں، یہ سستا زہر کسی تباہی سے کم نہیں ، جو ہمارے معاشرے اور مستقبل کے لیے انتہائی خطرناک ہے اور اس سنگین صورت حال کو دیکھتے ہوئے اس کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے قانون سازی کا فیصلہ کیا اور سندھ اسمبلی نے قانون سازی کی سندھ اسمبلی سے منظور شدہ قانون کے تحت گٹکے کی فروخت اور استعمال میں ملوث افراد کو تین سال قید اور دو لاکھ روپے سے زائد جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

لیکن اس قانون کے پاس ہونے کے بعد کچھ عرصے تو سرکاری سطح پر سختی دکھائی دی اور پھر سب کچھ معمول پر آگیا، اور گٹکے کا دھندہ دوبارہ زور و شور سے شروع ہوگیا۔ اور اس گھناونے دھندے میں ملوث عناصر نے بھی زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے اسمگل شدہ گٹکے کے ساتھ مقامی سطح پر تیار ہونے والا گٹکا بھی مارکیٹوں میں پھیلا دیا، اس مقامی گٹکے اور ماوا کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ مقامی سطح پر تیار ہونے والا یہ گٹکا اسمگل شدہ گٹکے سے زیادہ تیز نشہ دیتا ہے۔ 

اس لیے اس نے جلد اس کے استعمال کرنے والوں پر گرفت کرلی اور پھر یہ گٹکا، ماوا زیادہ سے زیادہ فیکٹریوں کارخانوں اور گھر نما کارخانوں میں تیار کیا جاتا ہے۔ گٹکا، ماوا اس وقت بہت زیادہ فروخت ہورہا تھا۔ سندھ میں ماہانہ کڑوروں روپے کی مالیت کا یہ گٹکا تیار اور فروخت ہوتا ہے، اتنے بڑے نیٹ ورک میں پولیس کا خاطر خواہ ایکشن نہ لینا اور کبھی کبھار کچھ پڑیاں پکڑ کر یا ایک آدھ کارروائی کرکے کارکردگی ظاہر کرنا یہ واضح کرتا ہے کہ ضرور انہیں کچھ پولیس اہل کاروں کی سرپرستی حاصل ہے۔ 

گٹکا فروشوں کی جو فہرست جاری کی گئی ہے، اس میں ان کے نام بھی ہیں، لیکن ابھی کافی پردہ نشیں باقی ہیں ، جن کے نام ابھی ظاہر نہیں ہوئے، بہ ظاہر ایک سپاہی یا ہیڈ محرر تو ظاہری ہوتا ہے، اصل میں اس کی ڈوریاں کہاں تک جاتی ہیں، یہ پتہ لگانا پولیس کے بالا حکام کا کام ہے، اس بگڑتی صورت حال کو دیکھتے ہوئے اپنے روشن مستقبل کو اس سستے زہر سے بچانے اور دور رکھنے کے لیے پولیس چیف آئی جی سندھ مشتاق احمد مہر نے ایک احسن اقدام اٹھایا ہے ، جس سے یقینی طور پر اس معاشرتی برائی کو ختم اور ہماری نوجوان نسل کے مستقبل کو تباہی سے بچایا جاسکے گا۔ 

آئی جی سندھ نے جو اقدام اٹھایا ہے وہ پہلی بار سندھ میں آئی جی سطح پر اٹھایا گیا ہے۔ ایس ایس پی پولیس کے مطابق اس میں اسپیشل برانچ اور وفاقی ادارے کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں اور اس گھناؤنے دھندے میں ملوث عناصر اور ان کی سرپرستی کرنے والے پولیس سے وابستہ افراد کی فہرستیں مرتب کی گئیں اور سب سے خاص بات یہ کہ سندھ کے مختلف اضلاع میں تعینات بہتر کمانڈ کے حامل پولیس افسران کی خدمات حاصل کی گئیں، جس طرح ایس ایس پی کشمور امجد احمد شیخ کو نواب شاہ اور دادو ضلع سپرد کیا گیا ہے۔

اسی طرح مختلف ایس ایس پیز کو دو دو اضلاع دئیے گئے ہیں کہ وہ ان اضلاع میں کارروائیاں کریں گے، جس کا مقصد اس ناسور کو معاشرے سے ختم کرنا ہے، ایس ایس پی کشمور امجد احمد شیخ کی ٹیم نے دادو اور نواب شاہ میں تین سے زائد چھوٹی بڑی فیکٹریوں گوداموں پر چھاپے مارے اور بھاری مقدار میں یہ نشہ آور تیار گٹکا، ماوا اور اس میں استعمال ہونے والا سامان برآمد کرلیا۔ 

یہ آئی جی سندھ کے اس اقدام کی پہلی بڑی کارروائی تھی، جس میں اتنی زیادہ مالیت کا تیار گٹکا ماوا اور اس میں استعمال ہونے والا سامان پکڑا گیا، پولیس کی یہ بڑی اور قابل تحسین کارروائی اور آئی جی سندھ کی جانب سے بنائی گئی حکمت عملی کے مثبت نتائج ہیں جو اس طرح آتے رہے، تو پولیس بڑی حد تک اپنا ہدف حاصل کرنے میں کام یاب ہوجائے گی، گٹکے اور ماوا بنانے فروخت کرنے والوں کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک ہے اور کئی دہائیوں سے یہ گھناؤنا دھندہ جاری ہے۔ 

اگر حکومت پولیس ابتدا ہی سے اس پر قابو پالیتی تو شاید چند سو افراد کے کڑور پتی بننے کے لیے ہزاروں خاندان متاثر نہ ہوتے، لیکن اب بھی وقت نہیں گزرا۔ آج بھی حکومت اور پولیس اسی طرح کے سنجیدہ اقدامات کرے تو اس کو اگر مکمل ختم نہیں تو بڑی حد روک تھام یقینی بنائی جاسکتی ہے اور حکومت متعلقہ ادارے چاہیں تو اس کو جڑ سے ختم بھی کیا جاسکتا ہے، یہ اتنا بڑا نیٹ ورک اور منافع بخش دھندہ ہے کہ اس سے وابستہ معمولی چھوٹے دکاندار سالوں میں کڑور پتی بن گئے۔ 

ان کی بھی تحقیقات کرائی جانی چاہیے، اس نیٹ ورک سے وابستہ عناصر نے پہلے لوگوں کو خاص طور پر ہماری نوجوان نسل کو اسمگل ہوکر آنے والے گٹکے کا عادی بنایا اور متبادل کے طور مقامی سطح پر گٹکے اور ماوا کی تیاری بھی شروع کردی گئی اور اس میں نشے کی تیزی زیادہ رکھی گئی، اور آہستہ آہستہ اسمگل شدہ گٹکے پان پراگ، سٹی، ون ٹو ون کی جگہ مقامی سطح پر تیار ہونے والے گٹکے اور ماوا کا عادی بنادیا، جس کے باعث پہلے یہ مقامی سطح پر گٹکا لوگوں کے گھروں میں تیار ہوتا تھا، پھر اس کی ڈیمانڈ اتنی بڑھ گئی کہ اس دھندے میں ملوث عناصر نے فیکٹریاں اور کارخانے قائم کرلیے۔ 

اس کے باوجود اس کی مانگ اتنی ہے کہ کراچی، حیدر آباد، سکھر سمیت مختلف شہروں کے ہزاروں گھروں میں یہ گٹکا اور ماوا تیار ہوتا ہے اور اب پولیس کے آپریشن کے بعد گھروں یہ نشہ آور مصنوعات کی تیاری کا رجحان مزید بڑھ جائے گا، کیوں کہ گھروں کے اندر تک پولیس کی رسائی مشکل ہوتی ہے، کیوں کہ اس کے لیے وومن پولیس کی بہت زیادہ کمی ہے۔ سندھ کے مختلف اضلاع تو ایسے بھی ہیں، جہاں ایک لیڈی پولیس کانسٹیبل بھی نہیں ہے، اس کے لیے بھی پولیس کو خفیہ معلومات پر خواتین پولیس کے ذریعے کارروائی کو یقینی بنانا ہوگا۔

آئی جی سندھ کا یہ اقدام قابل تحسین ہے، کیوں کہ یہ سستا زہر ہماری نوجوان نسل ہمارے مستقبل کے لیے تباہی کا سبب بن رہا تھا۔ یہ ایسا نشہ ہے، جسے امیر غریب سب ہی استعمال کررہے ہیں، خاص طور غریب اور متوسط طبقے سے وابستہ افراد جو اس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں اور یہ گٹکا ماوا کھانے والے نوجوانوں کو دیکھ کر حیرانگی ہوتی ہے کہ ان کا منہ بھی پورا نہیں کھلتا، فوڈ لیبارٹری سکھر کے سابق انچارج ڈاکٹر عبدالخالق جتوئی سمیت طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے مستقل استعمال سے گٹکے کا اثر سب سے پہلے منہ میں ہی ہوتا ہے اور خون کی نسیں بتدریج سکڑنے لگتی ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ مضرِ صحت مادہ اپنا اثر دکھاتا ہے اور منہ کھولنے میں بھی دقت ہونے لگتی ہے۔ اور اکثر لوگ منہ کے کینسر میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ لوگوں میں اس کا استعمال اور لاپرواہی اپنی جان کی پرواہ نہ کرنے کی صورت حال یہ ہے کہ جس مریض کو منہ کا کینسر ہو جائے، اس کے رشتے دار دوست ملنے جلنے والے تک اس سے سبق حاصل نہیں کرتے۔ لوگوں کے گھروں میں اموات ہو جاتی ہیں، پھر بھی دوسرے افراد گٹکے کا استعمال نہیں چھوڑتے۔ 

حال تو یہ کہ جس مریض کی سرجری کریں اس کا اٹینڈنٹ منہ میں گٹکا چبائے اس کی عیادت کے لیے آتا ہے، یہ سستا زہر گٹکا اور ماوا کے مختلف ناموں سے فروخت ہورہا ہے اور مضر صحت یہ اشیاء آج کی بات نہیں کئی دہائیوں سے یہ گھناؤنا دھندہ جاری ہے، جس نے سینکڑوں نہیں ہزاروں افراد کو موت کی آغوش میں دھکیل دیا۔ 

ممتاز عالم دین مفتی محمد ابراہیم قادری، خطیب اللہ والی مسجد مفتی عبدالباری، خطیب جامع مسجد مولانا قاری جمیل احمد، آل سکھر اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹری کے چئیرمین حاجی ہارون میمن، سکھر اسمال ٹریڈرز کے صدر حاجی محمد جاوید میمن، مذہبی رہنماوں مشرف محمود قادری، حافظ محبوب علی سہتو، ڈاکٹر سعید اعوان، مولانا نور احمد قاسمی، محمد رضوان قادری، سمیت دیگر تنظیموں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے آئی جی سندھ مشتاق احمد مہر کی جانب سے گٹکا، ماوا اور نشہ آور مصنوعات، منشیات فروشوں کے خلاف اقدام قابل تحسین ہے، ہمیں امید ہے کہ آئی جی سندھ اور ان کی تشکیل دی گئی پولیس افسران کی ٹیمیں اس ناسور کو جو ہماری نوجوان نسل ہمارے مستقبل کو نقصان پہنچارہا ہے، اس کا خاتمہ کرکے دم لیں گے۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید