• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر امیرالدین کےقتل پر تشویش، آج احتجاجی ریلی نکالی جائے گی،ینگ ڈاکٹرز

کوئٹہ(پ ر)ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے صوبائی صدر ڈاکٹر احمد عباس بلوچ کی سربراہی میں ینگ ڈاکٹرز کی صوبائی کابینہ اور وائی ڈی اے کی سپریم کونسل کا مشترکہ اجلاس ہوا ، جس میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رکن ڈاکٹر امیر الدین مری کے قتل کی مذ مت کی گئی اور کہا گیا کہ قاتلوں کو گرفتار کیا جائے، آج پیر دن 12 بجے سول ہسپتال سے صوبائی اسمبلی تک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔ ترجمان ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صوبائی ترجمان ڈاکٹر کلیم اللہ کاکڑ نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ اجلاس میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے صوبائی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر مالک کاکڑ ، صوبائی نائب صدر ڈاکٹر طاہر موسی خیل ، سپریم کونسل کے چیرمین ڈاکٹر یاسر اچکزئی ، وائس چیئرمین ڈاکٹر بہار شاہ سمیت دیگر عہدیداران، کابینہ ارکان نے شرکت کی، اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، اجلاس کے آغاز میں شہید ڈاکٹر امیرالدین مری کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چیئرمین ڈاکٹر بہار شاہ نے بتایا کی حکومت ڈاکٹرو کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے، ہسپتالوں میں پہلے ڈاکٹرو ں پر تشدد کے واقعات رونما ہوتے تھے مگر اب کو دن دہاڑے گولیاں مار ی جا رہیں ہیں ، صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ، انہوں نے حکومت سے شہید ڈاکٹر کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا، وائس پریزیڈنٹ ڈاکٹر طاہر موسی خیل نے بتایا کہ ڈاکٹروں پر تشدد، اغواء کے بعد اب قتل عام تشویشناک ہے، چیئرمین ڈاکٹر یاسر اچکزئی نے بتایا کہ سرکاری ہسپتالوں میں سیکورٹی کا کوئی نظام موجود نہیں، حکومت ڈاکٹرو ں کو سیکورٹی فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے، شہید ڈاکٹر کا کسی سے جھگڑا تھا اور نہ ہی کوئی رنجش تھی ، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر مالک کاکڑ نے کہا کہ ٹراما اینڈ ایمرجنسی سینٹر میں سہولیات کا فقدان ہے، ٹراما سینٹر میں ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے افرادی قوت کی کمی، ادوایات کی قلت اور اوزار کی کمی ہے، سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے شہید ڈاکٹر کو بروقت علاج کی فراہمی ممکن نہ ہوسکی، گزشتہ 36 دنوں سے یہی رونارو رہے ہیں۔صدر نے شرکاء کو بتایا کہ سرکاری ہسپتالوں کی تباہی کا منظر کسی سے پوشیدہ نہیں ، پیر کو چیف جسٹس بلوچستان کے سامنے سرکاری ہسپتالوں کی بد حالی کی منظر کشی کرینگے اور ذمہ داران کیخلاف کارروائی کی استدعا کرینگے۔
کوئٹہ سے مزید