• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

12 گھنٹوں میں 900 حملے: کیا مصنوعی ذہانت جنگ کے قواعد بدل رہی ہے؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

دنیا بھر کے محاذوں پر مصنوعی ذہانت (AI) سے چلنے والے ہتھیاروں کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے، روس یوکرین تنازع، امریکا و اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیاں اور اسرائیل فلسطین جنگ میں بھی اے آئی ٹیکنالوجی کے نمایاں استعمال کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کے محکمۂ دفاع (پینٹاگون) نے ایران کے خلاف آپریشن ایپک فیوری کے دوران کمپنی اینتھروپک Anthropic کے اے آئی ماڈل کلاؤڈ سے مدد لی۔

 ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی ہتھیاروں کے بڑھتے ہوئے استعمال سے انسانی نگرانی اور فیصلہ سازی کا کردار محدود ہو سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے کارروائی کے ابتدائی 12 گھنٹوں میں ایران پر تقریباً 900 حملے کیے۔

 دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اے آئی سسٹمز فوجی کِل چین (Kill Chain) کو مختصر کر دیتے ہیں، یعنی ہدف کی نشاندہی، قانونی منظوری اور حملے کے نفاذ تک کا عمل غیر معمولی رفتار سے مکمل ہو جاتا ہے، بعض ماہرین کے بقول سوچ کی رفتار سے بھی تیز۔

لندن کی کوئین میری یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ لیس لی کا کہنا ہے کہ یہ فوجی حکمتِ عملی اور عسکری ٹیکنالوجی کا اگلا دور ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اے آئی پر حد سے زیادہ انحصار ڈیسیشن کمپریشن (Decision Compression) کا باعث بن سکتا ہے، جس میں انسانی کردار محض خودکار فیصلوں پر رسمی مہر لگانے تک محدود ہو جاتا ہے، اسے انہوں نے کگنیٹو آف لوڈنگ یعنی انسانی ذہنی ذمے داری کی منتقلی سے تعبیر کیا ہے۔

یوکرین نے بھی روس کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں، خصوصاً ڈرون وارفیئر میں اے آئی کو وسیع پیمانے پر شامل کیا ہے، جس سے ہدف بندی اور نگرانی کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔

اے آئی کے عسکری استعمال پر تنازع اس وقت مزید بڑھا جب اینتھروپک اور پینٹاگون کے درمیان اختلافات سامنے آئے، کمپنی نے 2024ء میں اپنے ماڈلز محکمۂ دفاع کو فراہم کیے تاکہ جنگی منصوبہ بندی اور انٹیلی جنس تجزیے کو تیز کیا جا سکے۔

تاہم سان فرانسسکو میں قائم اس کمپنی نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ اس کی ٹیکنالوجی کو مکمل خودکار ہتھیاروں میں انسانی نگرانی کے بغیر استعمال نہ کیا جائے، کمپنی نے پینٹاگون کی جانب سے ممکنہ وسیع پیمانے پر داخلی نگرانی کے استعمال پر بھی تحفظات ظاہر کیے۔

رپورٹس کے مطابق انہی اختلافات کے بعد اینتھروپک کو بعض وفاقی اداروں کے لیے بلیک لسٹ کر دیا گیا۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی جنگی حکمتِ عملی کو بنیادی طور پر تبدیل کر رہی ہے، جہاں رفتار، ڈیٹا اور خودکار فیصلے مرکزی حیثیت اختیار کر رہے ہیں، تاہم سوال یہ ہے کہ کیا انسان فیصلہ سازی کے عمل سے پیچھے ہٹ جائے گا یا ٹیکنالوجی محض ایک معاون کردار ادا کرے گی؟ یہ بحث آنے والے برسوں میں عالمی سلامتی اور بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید