امریکا کے ڈیموکریٹک سینیٹر چک شومر کی ایران اسرائیل کشیدگی پر گفتگو کے دوران زبان پھسل گئی، جس کے بعد انہیں فوری طور پر وضاحت دینا پڑی۔
رپورٹس کے مطابق سینیٹر چک شومر ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی پر اظہارِ خیال کر رہے تھے کہ اسی دوران انہوں نے کہا کہ کوئی بھی اسرائیل کو نیوکلیئر ریاست کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتا۔
اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مطلب ایران تھا، نہ کہ اسرائیل۔
امریکی سینیٹ میں اقلیتی لیڈر نے کہا کہ موجودہ صورتِ حال دراصل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس کمیٹی کو دی گئی بریفنگ کے بعد ارکانِ سینیٹ کی تشویش میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
چک شومر نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس جنگ سے متعلق واضح حکمتِ عملی یا جامع منصوبہ بندی موجود نہیں ہے، جس کے باعث خطے میں غیر یقینی صورتِ حال بڑھ رہی ہے۔