• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومت نے کلبھوشن،EVM اور اسٹیٹ بینک کے معاملات پر قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل طلب کرلیا

حکومت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل طلب کرلیا 


اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں، جنگ نیوز) حکومت نے کلبھوشن یادیو، ای وی ایم اور اسٹیٹ بینک و دیگر معاملات پر قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 11نومبر کو طلب کرلیا ہے، جبکہ اپوزیشن نے حکومت کو قانون سازی کے معاملے پر ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں نے حکومتی اقدامات روکنے کیلئے اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دیدی، کمیٹی میں مسلم لیگ(ن) ، پی پی پی، جے یو آئی، اے این پی، نیشنل پارٹی، بی این پی و دیگر جماعتوں کے رہنما شامل ہونگے۔

شہباز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں انتخابی اصلاحات اور نیب قوانین زبردستی منظور کرائے تو احتجاج کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائیگا۔

نیب آرڈیننس کو ہر صورت روکیں گے، جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج متحدہ اپوزیشن نے ایوان میں حکومت کو شکست دی، ثابت ہوا کہ حزب اختلاف کا اتحاد ہی حکومت کو شکست دے سکتا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلائے جانے سےمتعلق حتمی مشاورت کی گئی اور 11 نومبر کو صبح 11 بجے اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ 

وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ممکنہ قانون سازی پر کابینہ ارکان کو بریفنگ دی اور کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں انتخابی و قانونی اصلاحات، الیکٹرانک ووٹنگ اور ادارہ جاتی اصلاحات پر قانون سازی کروائی جائیگی۔ 

بابر اعوان نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھارتی جاسوس کلبھوشن کیس سے متعلق قانون سازی بھی کروائی جائیگی۔ کابینہ کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کیلئے سمری صدر مملکت عارف علوی کو ارسال کردی گئی ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت کو این آر او نہیں لینے دینگے اورنیب آرڈیننس اور ووٹنگ مشین سازشی منصوبہ ناکام بنایا جائیگا، وفاقی حکومت کو اپوزیشن نے قانون سازی کے معاملے پر ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کر لیا۔

حزب اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل قانونی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں شاہد خاقان عباسی، یوسف رضا گیلانی، شاہدہ اختر علی، شیری رحمان، مریم اورنگزیب، سیّد خورشید شاہ، شازیہ مری، خواجہ آصف، سعد رفیق، سردار ایاز صادق بھی موجود تھے۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن رہنماؤں نے مشترکہ اجلاس سے متعلق حکمت عملی پر غور کیا۔

اپوزیشن نے کہا کہ حکومت کی قانون سازی کو ناکام بنائیں گے، حکومت 30 بلز مشترکہ اجلاس میں منظور کرانے کی خواہشمند ہے ، ووٹ چور حکومت کا نیب آرڈیننس اور ای وی ایم کا سازشی منصوبہ ناکام بنانے کیلئے تیار ہیں اپوزیشن نے کہا کہ وزیراعظم عمران نیازی کو انکے وزراکواور انکی کرپٹ حکومت کو این آراو نہیں لینے دینگے۔

حکومتی عوام دشمن عزائم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا، مہنگائی سے عوام کی جان نکالنے والی حکومت کے خلاف متحدہ اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی بھی تیار ہے۔ علاوہ ازیں اپوزیشن کی اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کیلئے حکمت عملی طے کی گئی۔ 

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت نے انتخابی اصلاحات اور نیب قوانین زبردستی منظور کرائے تو سپریم کورٹ سےرجوع کیا جائیگا۔ اسکے علاوہ اسٹیئرنگ کمیٹی کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن ارکان کے نمبرپورے کرنا بھی اولین ذمہ داری ہوگی۔ 

قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے کہا کہ حکومت کو ایوان میں جتنی شرمندگی آج ہوئی اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی، حکومت کو آج قومی اسمبلی میں شکست ہوئی، آنے والے دنوں میں اپوزیشن مزید فعال اور فیصلہ کن کردار ادا کریگی۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ 

متنازع قوانین لاکر اگلا الیکشن چوری کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، عمران نیازی این آر او لینا چاہتا ہے، نیب آرڈیننس کو ہر صورت روکیں گے اور عدالتوں میں بھی جائینگے، حکومت کے متنازع قوانین کیخلاف احتجاج اور عدالت سے رجوع کرینگے۔ 

اس موقع پر چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپکے شکرگزار ہیں آپ ہم سے رابطہ کرتے ہیں، اپوزیشن شہبازشریف کی قیادت میں متحد ہے۔

اہم خبریں سے مزید