• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پیارے بچو! دنیا میں  بے شمار خوب صورت مقامات ہیں جہاں لوگ گھومنے پھرنے جاتے ہیں اور انجوائے کرتے ہیں۔آپ میں سے بھی بہت سے بچے ان مقامات کی سیر کو گئے ہوں گےلیکن آج ہم آپ کو دو ایسے خطرناک مقامات کے بارے میں بتا رہے ،جہاں کوئی نہیں جا سکتا۔

زہریلی جھیل، کیووُ ، کانگو

یہ افریقہ کی بڑی جھیلوں میں سے ایک ہے، جو کہ ڈیمو کریٹک ریپبلک آف کانگو اور روانڈا کی درمیانی سرحد پر واقع ہے۔اس جھیل کے گہرے پانی میں مہلک اور زہریلی میتھین گیس کے ذخائر موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس جھیل میں تقریباً 60ارب کیوبک میٹر میتھین اور300کیوبک میٹر کاربن ڈائی آکسائیڈ تحلیل ہیں۔ یہ گیس ایک قریبی آتش فشاں کی سرگرمیوں اور جھیل کی تہہ میں موجود بیکٹریا کے گلنے سڑنے کے عمل کی وجہ سے بن رہی ہے۔

ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ میتھین گیس کی بڑھتی ہوئی مقدار تباہ کن ہو سکتی ہے جسے انہوں نے‘‘اوورٹرن’’ کا نام دیا ہے۔ اسے لمنک ارییپشن Limnic Eruption بھی کہا جاتا ہے۔ یہ تب وقوع پذیر ہوتا ہے جب گیس کا پریشر جھیل کی گہرائی میں موجود پانی کے دباؤ سے بڑھ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ایک ری ایکشن شروع ہوتا ہے۔

کیوؤ کا علاقہ اینوئی اوس سے ہزار گنا زائد گیس رکھتا ہے لہذا اگرا س کے ایک حصے کا بھی اخراج ہو جائے تو اس کے گرد رہنے والے 20لاکھ لوگوں کی زندگی خطرے میں ہوگی۔فی الحال سائنسدانوں کی کوشش ہے کہ کسی حادثہ سے پہلے اس گیس کونکال لیا جائے۔ اتنی گیس سے 960میگا واٹس بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔

مگرمچھوں کا جزیرہ رامری

یہ جزیرہ میانمار (برما)کے نزدیک واقع ہے اور اس کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں جانوروں کی جانب سے انسانوں کو پہنچایا جانے والا سب سے بڑا نقصان ‘‘کے حوالے سے شامل ہے۔ اس کی وجہ یہاں پائے جانے والے مگرمچھ ہیں۔ اس جزیرے کے سمندر میں رہنے والے مگرمچھوں کی صحیح تعداد کسی کو پتہ نہیں لیکن اندازاً کہا جاتا ہے کہ یہ جزیرہ تیس ہزار سے زیادہ مگرمچھوں کا گھر ہے۔ لوگ ڈرتے ہیں اور ادھر کا رخ نہیں کرتے۔