• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہر سال دنیا بھر میں 14نومبر کو انٹرنیشنل ڈائیبیٹس فیڈریشن (IDF) اور عالمی ادارہ صحت (WHO)کے تحت ذیابطیس کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس بیماری کی بڑھتی ہوئی شرح کے پیش نظر 1991ء میں پہلی بار ذیابطیس کا عالمی دن منایا گیا تھا تاکہ عوام میں اس سے بچاؤ اور بروقت علاج کے لیے آگہی اور اس مرض سے متاثرہ افراد کےخاندان پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں شعور اجاگر کیا جاسکے۔

اس ضمن میں ذیابطیس کے مریض کی دیکھ بھال، نگہداشت اور اس مرض کے انسداد کے حوالے سے خاندا ن کے کردار کو سراہا جاتاہے۔ یہ دن منانے کا ایک اور مقصد انسولین کے موجد فریڈرک بینٹنگ (Fredrick Banting) کو خراج تحسین پیش کرنا بھی ہے، اس دن ان کایوم پیدائش بھی ہے۔ 

فر یڈرک بینٹنگ کے ساتھ انسولین کی دریافت کے اس عظیم کارنامے میں اہم کردار ادا کرنے والے دوسرے سائنس دانوں کے نام چارلس بیسٹ (Charles Best) اور جان جیمز ریکڈ میکلوڈ (John James Rickard Macleod)ہیں، ان تینوں نے مل کر 1922ء میں انسولین دریافت کی تھی۔

عالمی دن کی تھیم

ہر سال، ذیابطیس کے عالمی دن کی مہم ایک تھیم پر مرکوز ہوتی ہے، جو ایک یا زائد سال تک چلتی ہے۔ 2021ء-2023ء کی تھیم ’’ذیابطیس کی دیکھ بھال تک رسائی‘‘ (Access to Diabetes Care) ہے۔ دنیا بھر میں ذیابطیس کے شکار لاکھوں افراد کو اس مرض کی دیکھ بھال تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ اس بیماری کے شکار افراد کو اپنی حالت سنبھالنے اور پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے مسلسل دیکھ بھال اور مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا، ذیابطیس کے شکار تمام افراد کو دوائیاں، ٹیکنالوجی، مدد اور نگہداشت دستیاب ہونی چاہیے، جن کی انہیں ضرورت ہے۔ اس کے لیے حکومتوں کو ذیابطیس کی دیکھ بھال اور روک تھام میں سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا ہوگا۔

ذیابطیس کی صورتحال

دنیا بھر میں 460ملین سے زائد لوگ ذیابیطس کا شکار ہیں اور لاکھوں اس بیماری میں مبتلا ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ لہٰذا، اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ اس مرض کی انتباہی علامات اور ٹائپ ٹو ذیابطیس کے خطرے کے بارے میں لوگ مزید معلومات حاصل کریں۔ یہ ایک موروثی بیماری ہے جبکہ اس مرض کے ہونے کی دیگر وجوہات میں موٹاپا، غیرمتوازن غذا، خون میں چکنائی کا عدم توازن، بڑھتی عمر اور ورزش نہ کرنا شامل ہیں۔ 

انٹرنیشنل ڈائیبٹیس فیڈریشن (IDF) کے ذریعے2018ء میں کی جانے والی تحقیق میں یہ دریافت کیا گیاکہ والدین ابتدا ہی سے اپنے بچوں میں اس مرض کی علامات پر گہر ی نظر رکھیں کیونکہ اس تحقیق میں شامل ہرپانچ میںسے چار والدین کواپنے خاندا ن کے ایک فرد میں ا س مرض کی علامات کے بارے میں بالکل معلوم نہ تھا اور ہر تین میں سے ایک والدین تو ان علامات کو بالکل بھی نہیں پہچان پائے تھے۔ ان نتائج سےسامنے آیا کہ لوگوں کو ذیابطیس کی انتباہی علامات کو جلدجاننے کے لیے تعلیم اور شعور کی اشد ضرورت ہے۔

پاکستان میں ذیابطیس کا مرض

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر چوتھا شخص ذیابطیس کے مرض میں مبتلا ہے۔ اس حساب سے تقریباً ڈیڑھ کروڑ سے زائد پاکستانی اس بیماری کا شکار ہیں۔ ویسے تو ذیا بطیس ایک غیر متعدی مرض ہے، تاہم دنیا میں ہونے والی کل اموات میں سے 68فیصد اسی مرض کی وجہ سے ہوتی ہیں جبکہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 88ہزار لوگ ذیابطیس میں مبتلاہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ 

نیشنل ڈائبیٹک سروے آف پاکستان کی جانب سے فروری 2016ء سے اگست 2017ء تک ملک کے چاروں صوبوں کے شہری و دیہی علاقوں میں ایک سروے کیا گیا تھا، جس کی رپورٹ 2018ء کے برٹش میڈیکل جرنل میں بھی شائع ہوئی۔ اس سروے کے مطابق پاکستان میں ذیابطیس کے مریضوں کی تعداد اس وقت تک 26.3فیصد تھی، جن میں 19.2فیصد مریض اپنے مرض سے آگاہ تھے جبکہ 7.1فیصد افراد میں اس مرض کی پہلی مرتبہ تشخیص ہوئی۔ واضح رہے کہ 1998ءمیں شائع ہونے والے سروے کے مطابق یہ شرح22.04فیصد تھی اور اس سروے کا ایک خطرناک پہلو یہ بھی تھاکہ ان افراد میں سے تقریباً 15فیصد Pre-Diabetesتھے، یعنی وہ اس مرض میں مبتلا ہونے کے قریب تھے۔

دیکھ بھال کیسے کی جائے؟

ذیابطیس کے مرض میں مبتلا شخص کو خود اپنا خیال رکھنا اور وقت پر انسولین لینے ضروری ہے۔ لیکن گھر کے دیگر افراد کو بھی مریض کی دیکھ بھال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ اپنی ذمہ داری پوری کرکے مریض کی شوگر کنٹرول رکھنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اگر آپ کے گھر میں کوئی ذیابطیس کا مریض ہے تو ذیل میں درج کچھ احتیاطی تدابیر پرعمل کرکے آپ اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھا سکتے ہیں۔

٭ مریض کو وقت پر دواضرور دیں۔ اگر مریض دوا کھانے میں احتیاط نہیں کرے گا تو اسے دل کی بیماری، اعصابی نقصان اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتاہے۔ ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق دوا یا انسولین دینے کے لیے وقت کی پابندی کرنا لازمی ہے۔

٭ ذیا بطیس کے مریض کو باہر کا غیرصحت بخش کھانا دینے سے پرہیز کریں کیونکہ اس میں بہت زیادہ کیلوریز اور فیٹ ہوتا ہے۔ جب مریض کے لیے گھر میں کھانا بنے گا تو اس میں شامل کیے جانے والےاجزاء کے بارے میں خاص خیال رکھا جائے گا۔ خون میں شوگر کی سطح کومعمول پر رکھنے کے لیے مریض کے وزن اور اس کے کھانے کا ایک ریکارڈ بنائیں تا کہ گھروالوںکو معلوم رہے کہ مریض کو کب کونسا کھانا دینا ہے، اس سے شوگر کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔ مریض کو ہر وقت کچھ نہ کچھ تو کھانا ہی ہوتا ہے مگر کیا کھاناہے ، کب کھانا ہے یا جو کچھ کھایا وہ کتنا کھایا، یہ سب نوٹ کریں۔

٭چٹ پٹی اشیا اورچٹخارے دار ناشتہ مریض کے خون میں گلوکوز کی سطح میں اضافہ کرسکتاہے۔ جب ذیابطیس کا مریض کئی گھنٹے کھانا نہیں کھاتا تواس کا جسم خود بخود گلوکوز کو مریض کے جگر سے جاری کردیتا ہے۔

٭ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ تمباکو نوشی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ ذیابطیس کے مرض میں مبتلا شخص کو اس سے ہر ممکن پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے خون میں گلوکوز کی سطح بڑھنے کا امکان ہوتا ہے اور یہ ذیابطیس کے مریضوں کے لیے خطرے کا باعث ہو سکتا ہے۔

٭ذیابطیس کی بیماری اعصابی امراض کا بھی باعث ہوسکتی ہے۔ یہ مرض بعض اوقات پاؤں سے ہوتا ہے۔ ذیابطیس کے مریض کے پاؤں کی اچھی طرح سے دیکھ بھال ضروری ہے، لہٰذا ان کے پاؤں نیم گرم پانی سے دھلواتے رہیں۔ وہ آرام دہ اور محفوظ جوتا استعمال کریں، پائوں پر کوئی معمولی سا زخم بھی نہ آنے دے، تاہم ایسا ہونے کی صورت میں فوری طور پر ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

٭ ذیابطیس کے مریض کے علاوہ آپ کو بھی مستعد رہنا چاہیے تاکہ کسی بھی پیچیدہ صورتحال میںفوراً ڈاکٹر سے رجوع کیا جاسکے۔

٭ذیابطیس کے مریضوں کو اپنی صحت برقرار رکھنے کے لیے ہفتے میں پانچ دن 30منٹ کے لیے تنہااور طبی آلات کے ساتھ ورزش کرنی چاہیے۔ باقاعدگی سےورزش کرنا وزن میں کمی، جسم کی چربی میں کمی، خون میں شوگر کنٹرول کرنے اور انسولین کے لیے بہترین ہے۔