• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال:۔ میرے دوست کا اسٹور ہے، میں ان کے ساتھ پارٹنر شپ کرنا چاہتا ہوں، میں صرف پیسہ دوں گا، باقی معاملات دوست ہی دیکھےگا۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے سرمایہ سے خریدا ہوا مال وہ بیچے اورجو نفع یا نقصان ہو ،اس میں ہم شریک ہوں، مگر دوست اس کے لیےتیار نہیں ہے، وہ نفع ہویا نقصان ، ہر صورت اپنی محنت کا بدلہ چاہتا ہے ۔کیا یہ صورت سود کی نہیں ہوجائے گی ؟(ع۔ م)

جواب:۔ مذکورہ صورت اصطلاحی اعتبار سے "مضاربت" کا عقد ہے، اس میں "مضارب" (Working partner) کے لیے اجرت طے کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔ البتہ اگر معاملہ یوں کیا جائے کہ آپ کا دوست آپ کا مال اپنے اسٹورپر فروخت کرے گا اور اس محنت کے بدلے اس کی اجرت مقرر کردی جائے تو اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے۔ اس صورت میں مال آپ کا ہوگا اور اس کا نفع ونقصان بھی صرف آپ کا ہوگا، جب کہ آپ کے دوست کو طے شدہ اجرت ملے گی۔