• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کھلا تضاد … آصف محمود براہٹلوی
کشمیری کتنے خوش قسمت ہیں کہ اقوام متحدہ سے انہیں یہ حق حاصل ہے کہ قراردادوں کی صورت میں رائے شماری کے ذریعے اپنا رائے حق دہی استعمال کرکے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکتے ہیں یہ الگ بحث ہے کہ سات دھائیاں گذر گئیں مگر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد نہ ہوسکا بلکہ کشمیریوں پر مظالم کی انتہا ہوگئی اور باالخصوص حالیہ مظالم کی تازہ لہر کی وجہ سے تو دنیا لرز اٹھی، نہیں فرق پڑا تو بھارت کو لیکن وہ وقت دور نہیں جب کشمیریوں کو بھی حق خود ارادیت مل جائے گا اور وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں گے تھوڑی بہت تاخیر ضرور ہے مگر مکمل اندھیر نگری نہیں، برطانیہ سے چلنے والی آزادی کی تحریکیں بالآخر کامیابی سے ضرور ہمکنار ہوئی ہیں، برطانیہ سے یاد آیا کشمیریوں کی طرح سکھ کمیونٹی بھی برطانیہ میں لاکھوں کے حساب سے آبادہے اور یہاں کے اداروں بلکہ پارلیمنٹ اور ہائوس آف لارڈز تک میں ان کی نمائندگی موجود ہے، سکھوں کی ایک تنظیم جسٹس فار سکھ نے 2014 میں دنیا بھر میں پھیلے سکھ کمیونٹی کیلئے اپنے الگ وطن خالصتان جو بھارتی پنجاب پر مشتمل ہے کے حصول کیلئے ریفرنڈم کا اعلان کیا تھا۔وقت گزرتا گیا پھر کورونا کی وجہ سے بھی اس میں تھوڑی بہت تاخیر ہوئی، اعلان کے مطابق ریفرنڈم 2020 میں ہونا تھا اس دوران بھارتی لابنگ بھی خاصی متحرک ہوگئی اورریفرنڈم کو رکوانے کیلئے بہت زور لگایا۔ پہلے پہل تو کہا گیا کہ دنیا بھر میں مٹھی بھر سکھ رہتے ہیں اور وہ سب خالصتان نہیں چاہتے بلکہ چند لوگ ہیں بلکہ اس دوران بھارت میں نریندر مودی کی حکومت دوبارہ بھاری مینڈیٹ سے اقتدار میں آئی وہ خالصتاً ہندو ازم کا نعرہ بلند کرکے آئے تھے اور آتے ہی مقبوضہ جموں و کشمیر میں 370 اور 35-A کا خاتمہ کرکے غیر ریاستی باشندوں کو وہاں آباد کرنا شروع کردیا۔ بے شک انہیں دنیا بھر میں بدنامی دیکھنے کو ملی اور دنیا کے سامنے بری طرح بے نقاب بھی ہوئے لیکن بھارت اپنی اوچھی حرکتوں سے باز نہ آیا بلکہ پورے بھارت کو اناج مہیا کرنے والے کسانوں کے خلاف بھی کالا قانون پاس کردیا لیکن کسان زیادہ تر پنجاب کے سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے دھرنا دے دیا اور کسانوں کے خلاف قوانین کے خاتمے تک احتجاج کا آغاز کردیا اور پھر بھارتی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اورکسانوں کی مرضی کے خلاف قوانین واپس لینے پڑے بلکہ اسی وجہ سے جسٹس فار سکھ کے اعلان کردہ ریفرنڈم کو بھی ہر جگہ پذیرائی ملی اور بالآخر 31اکتوبر 2021 کو لندن سے ریفرنڈم کا آغاز ہوگیا، دوسرے مرحلے میں برمنگھم تیسرے مرحلے میں برسٹل، لیسٹر پھر اس کا دائرہ کار کینیڈا ، یورپ، امریکہ تک پھیل جائے گا، اقوام متحدہ سمیت دیگر معتبر اداروں کے مبصرین کی نگرانی میں صرف اٹھارہ سال سے زائد عمر کے افرادنے اپنی شناختی دستاویزات کے ساتھ ریفرنڈم ووٹنگ میں حصہ لیا،ریفرنڈم میں کمال کا جو ش و خروش دیکھنے کو ملا، آزاد خالصتان کے نعرے، بینرز، تقاریریں، جذبات سمیت وطن کی تڑپ میں آنکھوں میں نمی دیکھنے کو ملی۔ اس دوران سکھ نمائندوں کا کہنا تھا کہ ریفرنڈم کے تمام مراحل مکمل ہونے پر گنتی ہوگئی اور رپورٹ اقوام متحدہ میں پیش کی جائے گی کہ ہمیں بھارت سے آزادی اور آزاد خالصتان کیلئے اسی طرح اپنے الگ وطن کیلئے ریفرنڈم کا حق دلایا جائے جس طرح آئر لینڈ برطانیہ سے آزادی کیلئے ووٹنگ کا حق دیا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کو جو حق اقوام متحدہ سے مل چکا ہے اس کیلئے ہم اتنی زیادہ جدوجہد کررہے ہیں۔ اگر کشمیر ی آپس میں اتحاد و اتفاق سے تحریک ایک نئے جوش و جذبہ سے شروع کریں تو نہ صرف انہیں ان کا حق ملے گا بلکہ ہماری آزادی کی راہ بھی ہموار ہوگی اور اگر اقوام متحدہ نے سکھوں کے ریفرنڈم کے نتائج قبول کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے آزاد خالصتان کیلئے ہمیں ووٹنگ کا حق دے دیا تو اس کا براہ راست فائدہ کشمیریوں کو ہوگا۔ہر دو صورتوں میں اب بھارت زیادہ دیر تک طاقت کے زور پر سکھوں اور کشمیریوں کو دبا نہیں سکتا، بالآخر اسے رائے شماری کا حق دینا ہوگا اور پھر یہ حق رائے دہی بھارت میں چلنے والے 14 تحریکوں کو ملے گا۔ بھارت کو ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔
یورپ سے سے مزید