• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تفہیم المسائل

سوال: ہمارے علاقے چھاچھرو تھرپارکر میں ماہِ رمضان المبارک میں روزہ نہ رکھنے والے شخص کے ذبیحہ کو حرام سمجھاجاتا ہے اور اُنہیں بعض مقامی علماء کی حمایت بھی حاصل ہے ۔کیا اَزروئے شریعت روزہ نہ رکھنے والے ذَابح کا ذبیحہ حرام ہے یا حلال ؟ نیز اُن علماء کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ (اسد علی سمیجو ،تعلقہ چھاچھرو ،تھرپارکرسندھ)

جواب: اس سوال کے جواب سے پہلے یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ یہاں محض شرعی حکم بیان کرنا مقصود ہے ، اس سے یہ مراد ہرگز نہیں ہے کہ روزہ نہ رکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے ،کسی شرعی عذر کے بغیر روزہ چھوڑنا گناہِ کبیرہ ہے ۔ حدیث پاک میں ہے:حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺنے فرمایا:جس نے شرعی رخصت (سفر) یا بیماری کے بغیر رمضان کا روزہ چھوڑا ہو ،تو اگرچہ وہ ساری زندگی روزے رکھتا رہے ،رمضانِ مبارک کے اس(چھوڑے ہوئے) روزے کے کامل اجر کو نہیں پاسکتا‘‘۔ (سنن ترمذی: 723)

تاہم ایسا شخص اگر کسی حلال جانور کو شرعی شرائط کے مطابق ذبح کرے، تو اُس کا ذبیحہ حلال ہے ، اُسے حرام قرار دینا شریعت پر زیادتی اور اللہ کے حلال کیے ہوئے کو حرام کرنا ہے ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :ترجمہ:’’ اورجن چیزوں کے متعلق تمہاری زبانیں جھوٹ بولتی ہیں، ان کے بارے میں یہ نہ کہو کہ یہ حلال ہے اوریہ حرام ہے، تاکہ تم اللہ پر جھوٹا بہتان باندھو ،بے شک ،جو لوگ اللہ پر جھوتا بہتان باندھتے ہیں، وہ کامیاب نہیں ہوں گے ‘‘۔(سورۂ نحل:116)

(۲) ترجمہ:’’اے ایمان والو! اُن پاکیزہ چیزوں کو حرام قرار نہ دو کہ جنھیں اللہ نے تمہارے لیے حلال قرار دیا ہے، اور حد سے تجاوز نہ کرو ،بے شک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو ناپسند فرماتا ہے‘‘۔(سورۃ المائدہ:87)

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :’’ لوگوں کو کیا ہوا کہ وہ ایسی شرطیں بناتے ہیں، جو کتاب اللہ میں نہیں اور جو شرط کتاب اللہ کی رُو سے ناجائز ہو ،وہ باطل ہے، اگرچہ سو شرطیں ہوں، اللہ تعالیٰ کا فیصلہ حق ہے اور اللہ تعالیٰ کی جائز کردہ شرط حق ہے ‘‘۔(صحیح بخاری :2168)

ذبح سے جانور حلال ہونے کے لیے شریعتِ مُطہرہ میں درج ذیل شرائط ہیں:

ذبح کرنے والا مردیا عورت ہو، ذبح کے لیے بلوغت شرط نہیں ، عاقل بچہ بھی اگر ذبح کرنا جانتا ہو ،تو اس کا ذبیحہ جائز ہے ، اسی طرح اگر کسی کی عقل میں نقص ہے ،لیکن ذبح کرنا جانتا ہے ،تو اس کا ذبیحہ جائز ہے ۔ذبح کرنے والا مسلمان ہو یا اہلِ کتاب۔ علامہ نظام الدین ؒلکھتے ہیں: ’’ ذبح کے شرائط میں سے ہے : ذبح کرنے والا مسلم ہویا کتابی ہو،مشرک اور مرتد کا ذبیحہ نہیں کھایا جائے گا(کہ حرام ومردار ہے)‘‘۔(فتاویٰ عالمگیری ،جلد5،ص:286) کتابی کے ذبیحہ کے حلال ہونے کی شرط یہ ہے کہ وہ اللہ کے نام پر ذبح کرے ،اگر مسیح یا ابن اللہ کے نام پر ذبح کرے گا توحرام ہوگا، نیز ذبیحہ کے حلال ہونے کے لیے یہ بھی ضروری ہے : ذابح ،ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لے ، ذبح کے وقت جانور زندہ ہو ، خود ذبح کرنے والا تکبیر (بِسْمِ اللہِ اللہُ اَکْبَرْ) کہے، ذبح کا آلہ تیز اور دھار دار ہو، جو خون بہادے، اَحناف کے نزدیک چار رگوں میں سے کم ازکم تین رگوں کا کاٹنا ضروری ہے، چاروں رگوں کا کٹنا افضل ہے ۔

کلمہ گو مسلمان خواہ کیساہی گنہگار اور فاسق ہو ،اُس کا ذبیحہ حلال ہے ۔ امام اہل سنت امام احمد رضاقادریؒ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:’’ اگر بالفرض اُس پر زنا ثابت بھی ہو ،جب بھی زانی کے ہاتھ کا ذبیحہ جائز ہے کہ ذبح کے لیے دین سماوی شرط ہے ،اعمال شرط نہیں‘‘۔(فتاویٰ رضویہ، جلد20،ص:252)

امام احمد رضا قادریؒ سے سوال کیاگیا:’’ ایک شخص مسلمان کلمہ گو اپنی بدقسمتی سے ادائیگی نماز میں غفلت کرتا ہے ، پس اس صورت میں ذبیحہ وضیافت ،اُس کا مسلمانوں کو کھانا ونمازجنازہ ، دفن مقبرۂ مومنین جائز ہے یا نہیں ‘‘۔ آپ نے جواب میں لکھا:’’ ضرور اس کا ذبیحہ جائز اور اُسے اسلامی طورپر دفن کرنا مسلمانوں پر فرض۔ترجمہ:’’ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ گناہوں کے دفتر کا اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی اعتبار نہیں ہے (یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات اس امر کی پابند نہیں کہ وہ انسان کے اعمال نامے کی بنیاد پر ضرور فیصلہ کرے)،پس بندے کا اپنے نفس پر ظلم(یعنی اس کی بداعمالیاں) اس کے اور اس کے رب کے درمیان معاملہ ہے ،کسی دن کا روزہ یاکوئی نماز ترک کی ہوتو (اللہ تعالیٰ کی مشیّت پر ہے )وہ جسے چاہے، بخش دے اور(اس کی خطاؤں سے) درگزر فرمائے‘‘۔(فتاویٰ رضویہ ،جلد20،ص:253-254)خلاصۂ کلام یہ کہ گنہگار صحیح العقیدہ مسلمان کا ذبیحہ جائز ہے ۔

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

tafheem@janggroup.com.pk