• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی، زمین الاٹ کرنے والے کیسے گھوم رہے ہیں، جیلوں میں کیوں نہیں، چیف جسٹس

کراچی ( جنگ نیوز/نیوز ایجنسیز / اسٹاف رپورٹر )سپریم کورٹ میں مختلف کیسز کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ کراچی،زمین الاٹ کرنیوالے کیسے گھوم رہے ہیں، جیلوں میں کیوں نہیں، تھر میں لوگوں کوجانوروں کی طرح مرنے کیلئے چھوڑ دیا، اسپتالوں میں گدھے بندھے ہیں،دوائی، ایکسرے مشین کی سہولتیں خواب ہیں،یہ پیسہ کمانیوالے لوگ ہیں،قومی مفاد سے کیا غرض، شہریوں کو بلیک میل کرکے Kالیکٹرک کو چلاتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے الحبیب کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے رفاہی پلاٹس پر قبضے کے خلاف کارکردگی پر جائزہ لینے کی ہدایت کر دی۔ عدالت نے ملزمان کو شوکاز نوٹس بھی جاری کردیئے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں لارجر بنچ کے روبرو الحبیب کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے رفاہی پلاٹس پر قبضے کے کیس کی سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس نے رجسٹرار کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارکس اور مسجد اراضی کی الاٹمنٹ کینسل کیوں نہیں کر دیتے؟ جنہوں نے الاٹمنٹ کیں وہ کیسے باہر گھوم رہے ہیں۔

یہ یہاں دیدا دلیری سینہ تان کر کھڑے ہیں ریاست کیا کر رہی ہے؟ کیا ریاست اپنی صلاحتیوں سے محروم ہوچکی؟ نیب کیا کر رہی ہے؟ انہیں جیلوں میں کیوں نہیں ڈالتے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے مسجد، اسکولز سب پلاٹس بیچ ڈالے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ 32 پلاٹوں کا معاملہ دس سال سے چل رہا ہے لیکن حکومت کو کوئی فکر نہیں۔

رجسٹرار کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی نے کہا کہ پلاٹس منسوخ کرنا میرے اختیار میں نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پھر کون کرے گا یہ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ریاست مدد کرنے سے محروم ہو جائے تو پھر کیا ہو سکتا ہے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ ادھر ادھر کی باتیں ہو رہی ہیں، اصل بات گیارہ سال سے دبی ہوئی ہے، پارک کو کاٹ کر جو 32 پلاٹس نکالے سب سے پہلے اس کی بات کریں کیا کوئی نہیں جانتا کہ کیا کرنا ہوتا ہے؟ ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ لے آؤٹ کا بیڑا غرق کردیا، مسجد، پارک کوئی جگہ نہیں چھوڑی نیب کیا آسمان سے اترا ہے؟

رجسٹرار کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی نے کہا کہ مجھے دو ماہ پہلے چارج ملا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ تو کیا رجسٹرار آفس دو ماہ پہلے بنا؟ جسٹس قاضی امین نے کہا کہ نیب کے تفتیشی افسر نے ملزمان کی گرفتاری کے لئے کیا کیا؟ اگر ضمانت پر ہیں تو کیا ضمانت صدیوں تک چلنی ہے؟

چیف جسٹس نے کہا کہ تفتیشی افسر صاحب کیا آپ ہی کو فارغ کردیں؟ چیئرمین نیب کو کہہ دیتے ہیں، آپ کے خلاف انکوائری کریں یا ہم تفتیشی افسر نیب ہی کو جیل بھیج دیتے ہیں، کارکردگی سے لگتا نہیں کہ یہ تفتیشی افسر ہے، جسٹس قاضی امین نے کہا کہ ضمانت کب ملی، کب کیا ہوا؟ نیب تفتیشی افسر کو کچھ نہیں پتہ، نیب کی ٹیم خود ملزمان سے ملی ہوئی ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ سارے کیسز میں ایسا ہی ہوتا ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ نیب، ایف آئی اے ریاست کے اہم ترین ادارے ہیں۔ آپ کو عوام کی خدمت کے لئے لگایا لیکن افسوس کسی اور کام میں لگ گئے۔

ریفرنس میں 14 گواہان ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے نیب سے متعلق کہا کہ یہ مکمل تباہی ہے ریاست کی ناکامی دکھائی دیتی ہے، معاملہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے ملزمان کے خلاف کارروائی یقینی بنائی جائے۔

عدالت نے متاثرین کو معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ نے نیب کارکردگی پر سوالات اٹھا دیئے۔ سپریم کورٹ کی چیئرمین نیب کو نیب کارکردگی کا جائزہ لینے کی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے سیکٹروں کیسز دس دس سال سے التوا ہیں کوئی پیش رفت نہیں ہوتی۔ سپریم کورٹ نے چیئرمین نیب کو تفتیشی افسر اوصاف کے خلاف انکوائری کرنے اور رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔

سپریم کورٹ نے ملزمان کو شوکاز نوٹس بھی جاری کردیئے۔ عدالت نے سماعت ملتوی کردی۔ علاوہ ازیں کراچی رجسٹری میں تھر میں غذائی قلت سے بچوں کی ہلاکت کے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار حمد نے تھر میں صحت کی عدم سہولتوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تھر میں سب اللہ کے سہارے ہیں۔

لوگوں کوجانوروں کی طرح مرنے کیلئے چھوڑ دیا ہے، اسپتالوں میں گدھے بندھے ہوئے ہیں، لائٹ تک نہیں ہے۔ دوائی، ایکسرے مشین وغیرہ کی سہولتیں تو خواب ہیں، سیکرٹری صحت سے کہا وہاں پینے کا پانی نہیں ہے ، اربوں روپے کے آر او پلانٹس لگا دیئے ، سب فیل ، آپ کو کام نہیں کرنا تو کسی اور کو آنے دیں ، چھوٹے بچے کیوں مرتے ہیں؟ کیا کسی نے تحقیقات کی ہیں؟ میڈیکل آفیسرز کی 75 فیصد اسامیاں خالی ہیں۔

عدالت نے تھر کے اسپتالوں میں تمام خالی اسامیوں پر بھرتی کرنے اور سیکرٹری ہیلتھ کو تھر کا دورہ کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے سیکرٹری صحت ذوالفقار شاہ کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ آپ نے تھر دیکھا ہے، مٹھی دیکھا ہے ڈیپلو دیکھا ہے؟ وہاں کچھ نہیں ہے سب اللہ کے سہارے ہیں، وہاں اسپتال صرف کاغذوں میں بن رہے ہیں، ادویات کی خریداری جاری ہے مگر ہے نہیں، وہاں لاکھوں مسائل ہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ تھر کے لوگوں اور حکومت کے درمیان مکمل ڈس کنکشن ہے، سارے منسٹر مہنگے اسپتالوں سے علاج کراتے ہیں، سارے منسٹر سرکاری اسپتالوں میں علاج نہیں کراتے، بچےمرجاتے ہیں کسی کوپروا نہیں، جو بھی رپورٹ آتی ہےتو کہتے ہیں یو این نے یہ کہا، یو این نے وہ کہا، وہ یوکے میں بیٹھ کر رپورٹ بناتے ہیں آپ لوگ کیا کررہے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے سیکرٹری صحت سے مکالمہ کیا کہ آپ سب سرکاری افسران جائیں تھرپارکر کے سرکاری اسپتال میں علاج کرائیں، یہاں سے چار پانچ گھنٹے کا راستہ ہے جس کی قسمت میں ہوگا بچ جائے گا، ہم سب کا آرڈر کردیں گے تمام سیکرٹریز تھر میں علاج کرائیں، سندھ کے کسی بھی شہر چلے جائیں،لاڑکانہ، میر پورخاص یا حیدر آباد چلے جائیں۔

قبل ازیں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں بنچ کے روبرو پی ای سی ایچ ایس میں غیر قانونی تعمیرات سے متعلق سماعت ہوئی۔

پی ای سی ایچ ایس میں غیر قانونی تعمیرات پر عدالت برہم ہوگئی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے گرین بیلٹ پر گرڈ اسٹیشن بنانے پر کے الیکٹرک انتظامیہ کی شدید سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیسہ کمانے والے لوگ ہیں ان کو قومی مفاد سے کیا غرض ہوسکتی ہے

ایسے اقدام کی ہرگز گنجائش نہیں ایک نہیں ساٹھ گرڈ اسٹیشن بھی اگر گرین بیلٹ پر ہیں تو انہیں ہٹانا ہوگا شہریوں کو بلیک میل کرکے ادارہ چلاتے ہیں اربوں کھربوں کمانے والی کمپنی اپنی ضرورت کے لئے اراضی خریدتی کیوں نہیں؟ پی ای سی ایچ سوسائٹی کو تو کچی آبادی بنا لیا ہے

جہاں ہر گلی میں چھ چھ منزلیں عمارتیں قائم ہیں ان سارے جرائم کے ذمہ دار سوسائٹی سیکرٹری ہیں۔ چیف جسٹس نے پی ای سی ایچ سوسائٹی میں غیر قانونی تعمیرات سے متعلق کے الیکٹرک کو جواب کیلئے ایک دن کی مہلت دے دی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پی ای سی ایچ ایس کو کچی آبادی بنادیا گیا، ہر گلی میں تین تین سو گز پر چھ چھ منزلہ عمارتیں بنادی ہیں ان سب کے ذمہ دار سیکرٹری پی ای سی ایچ ایس ہیں، محمود آباد میں گرین بیلٹ کی جگہ تھی وہ بھی کے الیکٹرک کو دے دی، ان سارے جرائم کے ذمہ دار آپ ہیں، آپ کو جیل جانا چاہئے، عدالت نے غیر قانونی تعمیرات پر پی ای سی ایچ ایس کے وکیل کی سرزنش کی۔

جسٹس قاضی امین نے کہا آپ وکیل ہیں اتنا نہیں معلوم کہ الاٹمنٹ کس نے دی۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کے الیکٹرک تو مہنگی زمین بھی خرید سکتی ہے اسے رفاہی پلاٹ دے دیا، وکیل پی ای سی ایچ ایس نے کہا کہ کے الیکٹرک کو معمولی قیمت پر زمین دی، چیف جسٹس نے کہا کہ کے الیکٹرک خود کبھی معمولی قیمت لیتی ہے ؟ وہ صرف پیسہ بنا رہے ہیں

کے الیکٹرک کا قومی مفاد سے کیا تعلق؟ کے الیکٹرک کو گرین بیلٹ سے گرڈ اسٹیشن ہٹانا پڑے گا یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لیں کہ گرین بیلٹ پر کوئی کمرشل سرگرمی نہیں ہوگی۔

چیف جسٹس نے وکیل سے مکالمہ میں کہا آپ جتنے بھی گرڈ اسٹیشن بنادیں پورے شہر میں لوڈشیڈنگ ہے لوگوں کو دو تین گھنٹے ہی بجلی ملتی ہے کیا سروس دے رہے ہیں آپ لوگوں کو؟ جہاں گرڈ اسٹیشن لگایا ہوا ہے محمود آباد میں کتنی دیر بجلی آتی ہے ؟ آپ کو ہٹانے کیلئے وقت دے سکتے ہیں مگر وہ ہٹانا پڑے گا۔

کے الیکٹرک کے وکیل نے کہا کہ یہ مفاد عامہ کا معاملہ ہے رعایت ہونی چاہئے، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کاروبار کررہے ہیں مفاد عامہ سے کیا تعلق ؟ آپ کا تو ایگریمنٹ ہی ایکسپائر ہوگیا ہے پتا نہیں کیسے چلارہے ہیں

لوگوں کو بلیک میل کر کے ادارہ چلارہے ہیں، نجی اداروں کے پاس تو یہ سروس ہونی ہی نہیں چاہئے، اجارہ داری بنائی ہوئی ہے انہوں نے تانبا بیچ کر اربوں کھربوں روپے بنالئے اور ایلمونیم کی تاریں لگا کر سارا نظام تباہ کردیا سب سے پہلے شہر کی تاریں بدل دیں اور جہاں بجلی چوری ہوتی ہے وہ دوسروں کے بلوں میں ڈال دیتے ہیں، وکیل کے الیکٹرک نے کہا ہمارے 60 گرڈ اسٹیشنز ہیں ۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے اگر رفاہی پلاٹس پر ہیں تو پورے 60 ہٹانے پڑیں گے آپ کا کام صرف پیسہ کمانا ہے پیسہ پیسہ اور پیسہ بس، کے الیکٹرک کے بورڈ آف ڈائریکٹر کہتے ہیں پیسہ کمانا ہے بس آج تک تو یہی نہیں معلوم اس کے پیچھے کون ہے کون اصل میں چلارہا ہے کے الیکٹرک، ہمیں اس پر بھی حیرت نہیں ہوگی اس کا تعلق ایسے ملک سے ہو جس سے ہمارا باقاعدہ ریلیشن ہی نہیں عدالت نے کے الیکٹرک کو جواب کیلئے ایک دن کی مہلت دے دی۔

اہم خبریں سے مزید