• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

طلباء کی کمی ، 71 سرکاری سکول بند،سول سوسائٹی کی تشویش

پشاور (لیڈی رپورٹر)پشاور میں سول سوسائٹی تنظیموں نے میں طلباء کی کم تعداد کی وجہ سے 71 سرکاری سکولوں کی بندش پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ خیبرپختونخوا اسمبلی کی حالیہ دستاویزات کے مطابق ضلع پشاور میں کل 71 سکول حکومت کی طرف سے طالب علموں کی کم تعداد کی وجہ سے بند کئے گئے ہیں۔جن میں 64 پرائمری اور سات مڈل اسکول شامل ہیں جن میں سے 45 پرائمری اور دو مڈل سکول طالبات کے ہیں۔سول سوسائٹی کے ارکان نے اس بندش کو صوبے میں تعلیمی اصلاحات کی جانب پیش رفت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے ، جس سے خیبر پختونخواہ میں لڑکیوں کی تعلیم، صحت اور تعلیم کے حق پر منفی نتائج اور صنفی اثرات کو تقویت ملے گی ۔خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی کارکن اور چائلڈ رائٹس موومنٹ کے پی کے کوآرڈینیٹر ثنا احمد نے کہا کہ سکولوں کی بندش سے تمام کمیونٹیز کے لوگوں کے لیے بہت زیادہ سماجی و اقتصادی اخراجات ہوتے ہیں، تاہم، منفی اثرات خاص طور پر سب سے زیادہ کمزور اور پسماندہ لڑکوں اور لڑکیوں اور ان کے خاندانوں پر پڑتے ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی قومی سماجی و اقتصادی رجسٹری مردم شماری کے حصے کے طور پر ابتدائی اور ثانوی اسکول کے اساتذہ کی مدد سے کیے گئے سروے کے مطابق خیبر پختونخوا میں پہلے ہی سے 4.7 ملین بچے تعلیم سے باہر ہیں۔
پشاور سے مزید