• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹورازم ہائی وے ،مجوزہ الائنمنٹ کے علاقے میں دفعہ144نافذ

راولپنڈی(راحت منیر/اپنے رپورٹرسے)باخبر ذرائع کے مطابق ٹورازم ہائی وے کی تعمیر کیلئے سڑک کی مجوزہ الائنمنٹ کے علاقے میں دفعہ 144نافذ کردی گئی جس کا اطلاق تین ماہ تک رہے گا۔دفعہ144ٹورازم ہائی وے کے علاقوں تحصیل کلر سیداں،کہوٹہ،کوٹلی ستیاں اور مری میں نافذ کی گئی ۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ پنجاب ظفر نصر اللہ خان نےضابطہ فوجداری1898کی دفعہ 144 (6)کے تحت حاصل اختیارات کے مطابق نوٹیفکیشن جاری کردیا جس کے تحت سڑک کی حدود کے دو سو میٹر کے اندر زمین کی ہئیت میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکے گی۔220فٹ سڑک کے دونوں اطراف کسی بھی قسم کی تعمیر،سڑک کےساتھ ساتھ قائم گرین بیلٹ اور جنگل میں بھی کسی قسم کی تبدیلی پر پابندی لگادی گئی ہے۔ پبلک سیکٹر ڈیلپمنٹ پروگرام2021-22کے تحت بننے والی ٹورازم ہائی وے پر لاگت کا تخمینہ4051اعشاریہ660ملین روپے ہے۔ راولپنڈی ضلع میں آنے والےحصے 123اعشاریہ62کلو میٹر طویل ٹورازم ہائی وے پر روزانہ چھ ہزار610گاڑیوں کے گزرنے کی توقع ہے۔ منصوبہ کے تحت روڈ ورک کیلئے2486اعشاریہ172ملین روپے،روڈ سٹرکچر912اعشاریہ 897ملین روپے،سروے کیلئے1اعشاریہ354ملین روپے،متبادل جنگلات کیلئے40اعشاریہ 013ملین روپے،روڈ فرنیچر180اعشاریہ136ملین روپے،الیکٹرک پولز کی منتقلی پر19اعشاریہ500ملین روپے،روڈ کیلئے جگہ ایکوائر کرنے پر39ملین روپے،کنسلٹینسی72اعشاریہ142ملین روپے،کاونٹیجنسی108اعشاریہ215ملین روپے،پی ایس ٹی چارجز180اعشاریہ 359ملین روپے کا تخمینہ ہے۔سڑک چوک پنڈوری کلر سیداں سے شروع ہوکر مٹور،بیور،پنجاڑ تک بنے گی۔اس سے آگے چودہ کلو میٹر کا حصہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت تعمیر ہوگا۔پھر ٹورازم ہائی وے پنج پیر راکس کو کراس کرنے کیلئےسیور سے شروع ہوکر چھینٹ تک بنے گی۔چھینٹ سے کوٹلی ستیاں تک سڑک موجود ہے۔ٹورازم ہائی وے پھر کوٹلی ستیاں سے شروع ہوکر لوئر ٹوپہ تک بنے گی۔منصوبہ کیلئےایگزیکٹیو انجینئر ہائی وے مری رائو طاہر کو پراجیکٹ ڈائریکٹر بنایا گیا ہے۔ذرائع کےمطابق زیادہ تر روڈ کا حصہ پہلے سے بنا ہوا تھا جو اب کھنڈرات کا منظر پیش کرتا ہے۔مستقبل میں اس کو مظفر آباد آزادکشمیر سے ملایا جائے گا۔
اسلام آباد سے مزید