• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اکیسویں صدی کی خارجہ پالیسی اب صرف سفارت خانوں، سرکاری بیانات یا رسمی معاہدوں تک محدود نہیں رہی، جدید عالمی سیاست میں وہ شخصیات فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں، جو بیک وقت علم، ثقافت، زبان، تعلقات اور اعتماد کو ریاستی طاقت میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔

ترکیہ کی بدلتی ہوئی خارجہ پالیسی، جسے آج ’’متنوع محوروں‘‘، 360 ڈگری سفارت کاری اور اسٹریٹجک ’’ایشیا آ نیو‘‘ وژن کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، وہاں بعض پارلیمنٹرین محض قانون ساز نہیں بلکہ سافٹ پاور کے مؤثر ستون کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔

ان میں ایک نمایاں اور منفرد نام جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (آق) کے غازی انتیپ سے رکنِ پارلیمنٹ علی شاہین کا ہے۔

سیاسی و سفارتی حلقوں میں علی شاہین کو اب ایک روایتی علاقائی سیاست دان کے بجائے، ایک ایسے بین الاقوامی اداکار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو انقرہ کی خارجہ ترجیحات کو میدانِ عمل میں مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ان کی شخصیت، کیریئر اور علمی و سفارتی پس منظر کو پرکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ وہ جدید ترک خارجہ پالیسی کے اس ماڈل کی نمائندگی کرتے ہیں، جس میں پارلیمنٹ، سفارت کاری اور علمی ادارے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔

علی شاہین کی سب سے نمایاں اور نایاب خصوصیت جنوبی ایشیا، خصوصاً پاکستان سے متعلق ان کی گہری علمی، فکری اور عملی وابستگی ہے، ایک ایسا دائرہ جو ترک سیاست میں محدود افراد کے پاس ہے۔

انہوں نے جامعہ کراچی سے بین الاقوامی تعلقات میں گریجویشن اور ماسٹرز کی تعلیم حاصل کی، جہاں انہوں نے جنوبی ایشیا کی سیاست، سلامتی، تہذیب اور ریاستی حرکیات کو محض بطور مضمون نہیں بلکہ بطور زندہ حقیقت سمجھا۔

اسی تعلیمی بنیاد کو انہوں نے ادارہ جاتی شکل دیتے ہوئے جنوبی ایشیائی اسٹریٹجک ریسرچ سینٹر کی بنیاد رکھی، جو آج ترکیہ میں جنوبی ایشیا پر تحقیق، پالیسی مباحث اور اسٹریٹجک مکالمے کا ایک اہم پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے۔

یہ وہ مرحلہ تھا جہاں علی شاہین نے خود کو محض ایک سیاست دان کے بجائے اسٹریٹجک نالج کریئیٹر کے طور پر منوایا،ان کی خدمات محض علمی یا علامتی نہیں رہیں۔

ترکیہ اور پاکستان کے درمیان سیاسی، پارلیمانی اور عوامی روابط کے فروغ میں ان کے عملی کردار کو ریاستِ پاکستان نے ’’ستارۂ قائدِ اعظم‘‘ سے نواز کر تسلیم کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ علی شاہین کو اسلام آباد میں ایک ایسے رہنما کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو مشکل اوقات میں اعتماد، تسلسل اور حل کی علامت ہیں۔

عالمی سیاست میں زبان محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ اعتماد اور قربت کی کنجی ہوتی ہے، علی شاہین کی لسانی مہارت انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز بناتی ہے، جہاں انگریزی اور فرانسیسی جیسی زبانیں ترک پارلیمانی حلقوں میں عام سمجھی جاتی ہیں، وہاں اردو زبان پر ان کی گہری دسترس انہیں جنوبی ایشیا میں ایک غیر معمولی سفارتی برتری فراہم کرتی ہے۔

اردو زبان کے ذریعے علی شاہین خطے کے عوام، دانشوروں اور سیاسی قیادت سے براہِ راست، بغیر ترجمان کے، بغیر فاصلوں کے رابطہ قائم کرتے ہیں ، یہی وہ عنصر ہے، جسے سفارتی ادب میں ’دلوں کی سفارت کاری‘ کہا جاتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ انگریزی اور عربی زبان پر عبور انہیں اسلامی تعاون تنظیم اور مشرقِ وسطیٰ کے سفارتی ماحول میں بھی ایک فطری اور مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتا ہے۔

علی شاہین کا سیاسی سفر کسی ایک جغرافیے تک محدود نہیں، یورپی یونین امور کے نائب وزیر کی حیثیت سے، انہوں نے مغربی بیوروکریسی، یورپی ادارہ جاتی ڈھانچے اور سفارتی مذاکرات کی پیچیدگیوں کو اندر سے سمجھا، یہ تجربہ انہیں مغرب کے ساتھ ترکیہ کے تعلقات میں ایک حقیقت پسند اور باخبر آواز بناتا ہے۔

دوسری جانب لاطینی امریکہ اور کیریبین پارلیمنٹ میں ترک وفد کی سربراہی نے ان کے سفارتی دائرے کو جنوبی نصف کُرے تک پھیلا دیا۔

اس کے ساتھ نیٹو پارلیمانی اسمبلی کی رکنیت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ علی شاہین نہ صرف اسلامی دنیا یا ایشیا بلکہ ٹرانس اٹلانٹک سسٹم میں بھی ترکیہ کے مؤقف کو سمجھنے اور پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مجموعی طور پر علی شاہین ترکیہ کی خارجہ پالیسی میں ایک ایسے تکمیلی عنصر کے طور پر ابھر رہے ہیں ،جو ریاستی اداروں، سفارتی مشنوں اور پارلیمانی پلیٹ فارمز کے درمیان فکری اور عملی ربط پیدا کرتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید