• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

19 سال کی عُمر میں والد کا سہارا بننے کیلئے ریلوے پولیس میں بھرتی ہوا

بات چیت و عکّاسی: فرخ شہزاد ملک، کوئٹہ

بلوچستان کی زرخیز مٹی نے کئی ایسے سپوتوں کو جنم دیا ہے، جنہوں نے وسائل کی کمی اور سہولتوں کے فقدان کے باوجود مختلف شعبوں میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتیوں کا لوہا منوایا ۔ سنگلاخ پہاڑوں کی سرزمین کے بیٹوں نے تعلیم، صحت ،کھیل ،فنونِ لطیفہ اور دیگر شعبوں میں ایسےایسے کارنامے سر انجام دئیے ،جن پر تاریخ ہمیشہ نازاں رہے گی ۔ ایسی ہی ایک شخصیت ریٹائرڈ ایس پی ،ڈاکٹر ہیبت خان حلیمی کی ہے، جنہوں نے ایک انتہائی غریب گھرانے میں آنکھ کھولی۔ 

والد محکمۂ پولیس میں کانسٹیبل تھے ، لیکن وسائل کی کم یابی، سہولتوں کا فقدان ڈاکٹر ہیبت خان کے خوابوں کی راہ میں حائل نہ ہو سکا کہ انہوں نے سچّی محنت ،لگن اور دل جمعی سے نہ صرف محکمۂ پولیس میں کیریئر بنایا بلکہ دورانِ ملازمت ہی تعلیمی سلسلے کا آغاز کیا اور اعلیٰ تعلیم مکمل کی۔ڈاکٹر ہیبت خان گزشتہ دِنوں جب جامعہ ٔبلوچستان کے کانووکیشن کے موقعے پر پی ایچ ڈی کی ڈگری لینے اسٹیج پر آئے، تو گورنر بلوچستان،سیّد ظہور احمد آغا سمیت تمام شرکا ورطۂ حیرت میں تھے کہ اس قدر ضعیف العمری کے با وجود انہوں نےاپنا پی ایچ ڈی مکمل کیا، لہٰذا اُن کا انتہائی گرم جوشی سے استقبال کیا گیا۔

ڈاکٹر ہیبت خان نے پیرانہ سالی میں پی ایچ ڈی کیسے مکمل کیا، غربت کے با وجود تعلیم کیسے جاری رکھی اوروہ مُلک کے مستقبل کے حوالے سے کیا سوچتے ہیں،یہی سب جاننے کے لیے ہم نے گزشتہ دنوں اُن سے تفصیلاًبات چیت کی، جو نذرِ قارئین ہے۔

نمایندہ جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے
نمایندہ جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے

س: خاندان ، تعلیم و تربیت کے حوالے سے کچھ بتائیں۔ نیز، پولیس میں کیسے بھرتی ہوئے؟

ج: میری پیدائش 1944ء کی ہے۔میرے والد محمّد نصیر محکمۂ پولیس میں سپاہی تھے۔ہمارا تعلق انتہائی غریب گھرانے سے ہے۔مَیں 1965ء میں 19سال کی عُمر میں والد کا بوجھ کم کرنے کی خاطر ریلوے پولیس میں بطور سپاہی بھرتی ہوا۔ اُس وقت پولیس میں کانسٹیبل بھرتی ہونے کے لیے تعلیم یافتہ ہونا ضروری نہیں تھا ، اسی لیے نا خواندہ ہونے کے با وجود مجھے ملازمت مل گئی ۔ اُس زمانے میں ریلوے اور ڈسٹرکٹ پولیس میں کوئی تفریق نہیں ہوتی تھی ۔ہمارے اِن چارج ،ایس پی رینک کے ایک افسر تھے، جن کا دفتر کراچی میں تھا ۔سو، مَیں نے ابتدائی ریکروٹ ٹریننگ کراچی سے حاصل کی، جس میں آل رائونڈ فرسٹ آیا ۔ اسی سبب حوال دار رینک کے لیے بھی کوالیفائی کر گیا اور ملازمت کے 15ماہ بعد ہی حوال دار کی ٹریننگ شروع ہوگئی۔

اس دوران میری پوسٹنگ کراچی ہی میں تھی۔ ہمارے ایک ڈی ایس پی تھے، جن کا تبادلہ کچھی ہوگیا تھا،تو انہوں نےبلوچستان سے تعلق رکھنے والے اہل کاروں سے کہا کہ اگر وہ ان کے ساتھ کچھی آنا چاہیں ،تو آ سکتے ہیں کہ وہاں پروموشن کے مواقع زیادہ ہوں گے ، جس پر مَیں ڈی ایس پی کے ساتھ ڈھاڈر آ گیا۔ 1972ءمیں مینگل حکومت کے دَورمیں بڑے پیمانے پر لوگ پنجاب نقل مکانی کر گئے تھے ،یوں پولیس میں کافی پوسٹس خالی ہو گئیں۔ جس پر مجھے اے ایس آئی کے عہدے پر ترقّی دے کر سہالہ ٹریننگ کالج بھجوا دیا گیا۔ وہاں ایک سال کی تربیت مکمل کرنے کے بعد ریلوے پولیس اسٹیشن میں تعیّنات ہوا،جہاں مَیں اے آئی جی، ریلوے کا اسسٹنٹ بھی تھا۔ اس عرصے میں قلعہ سیف اللہ کے پوسٹ آفس میں دھماکا ہوا، جو بلوچستان کی تاریخ کا پہلا دھماکا تھا ، وہ کیس کوئٹہ بھیجاگیا۔ جس پر مَیں نےملزمان سے تحقیقات کیں اوردھماکاخیز مواد برآمد کیا۔

اس مقدّمے کی بہترین تفتیش پر اُس وقت کے انسپکٹر جنرل پولیس نے مجھے سب انسپکٹر کے عُہدے پر ترقّی دے دی۔ پھر کچھ عرصے بعد 16کاٹن بارود کی چوری کے مقدمے کی تحقیقات بھی مجھے سونپی گئیںاور مَیں اللہ کے کرم سے ملزمان گرفتار کرنے میں کام یاب رہا۔ چند روز بعد اُس وقت کے وزیر ِاعلیٰ بلوچستان، جام غلام قادر نے پولیس لائن میں ایک تقریب منعقد کی ، جس میں کارروائی میں حصّہ لینے والے عملے کی حوصلہ افزائی کی ۔ اس کے بعد مجھے انسپکٹرشِپ کے کورس پر بھیج دیا گیا۔ 

یوں مَیں1980ء انسپکٹر،1985ءمیں ڈی ایس پی اور 2000ء میں ایس پی بنا۔علاوہ ازیں، کوئٹہ سمیت مختلف اضلاع میں بطور سب ڈویژنل پولیس آفیسرز(ایس ڈی پی او )بھی کام کیاہے ۔ جب بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا تو پولیس میں سی آئی ڈی یونٹ کا قیام عمل میں لایا گیا ، جس کا پہلا ایس پی، آپریشنز مَیں تھا ۔ اس کے بعد ایس پی کرائم برانچ ،ایس پی اسپیشل برانچ کے طور پر کام کیا ۔ بعد ازاں، پولیس ٹریننگ کالج، بلوچستان کا پہلا چیف لاانسٹرکٹر بھی مقرر ہوا ۔جب ملازمت کی حد 60 سال مقرّر ہوئی، تو 2005ء میں ذمّے داریوں سے سبک دوش ہوگیا۔

پی ایچ ڈی کی ڈگری وصول کرتے ہوئے
پی ایچ ڈی کی ڈگری وصول کرتے ہوئے

س: پولیس میں بھرتی کے وقت آپ نا خواندہ تھے، تو اس قدر مشکل سروس کے دوران تعلیمی سلسلہ کیسے شروع کیا اور پھرجاری بھی رکھ پائے؟

ج: 1975ء میں وفاقی حکومت نے بلوچستان کے لیے گریڈ17کی 101 اسامیوں کا اعلان کیاتھا، جس میں 17پوسٹس ڈی ایس پیز کی تھیں ۔ میں ڈی ایس پی بننے کا خواہش مند توتھا، لیکن تعلیم نہ ہونے کے باعث تحریری امتحان میں شریک نہیں ہو سکا۔ اس موقعے پر میرے اِن چارج ایس پی نے،جو میری کارکردگی سے بے حد مطمئن تھے ، مجھے بلا کر کہا کہ’’ اگر آپ تعلیم یافتہ ہوتے تو مَیں لازماً ڈی ایس پی کی پوسٹ کے لیےآپ کی سفارش کرتا ۔‘‘ بس اسی دن مَیں نے تہیّہ کرلیاکہ اب تعلیم حاصل کروں گا۔ 

مَیں نے ایس پی صاحب سےکہا ’’سر!مَیں آپ کو گریجویشن مکمل کر کے دکھاؤں گا ۔‘‘ پھر مَیں نے 1976ء میں بطورپرائیوٹ امیدوار میٹرک کا امتحان فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا ۔ اس کے بعد 1978ءمیں انٹر1981ءمیں بیچلرز اور1983ءمیں ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔ یاد رہے، ہمارا بیچ صوبے میں ایل ایل بی کا دوسرا بیچ تھا۔ اس کے بعد 1989ء میں پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرزکے امتحان میں پورے صوبے میں تیسری پوزیشن حاصل کی ۔اس سے قبل 1985ء میں بلوچستان پولیس نے پبلک سروس کمیشن کے تحت ڈی ایس پیز کی 3 پوسٹس کا اعلان کیاتھا، جس کا امتحان بھی مَیں نے امتیازی نمبرز سےپاس کیا۔واضح رہے، میرے ساتھ یہ امتحان پاس کرنے والوں میں حامد شکیل صابر اور محمّد جعفر بھی تھے۔

حامد شکیل صابر بعد ازاں ڈی آئی جی کے عُہدے تک پہنچے اور ایک خود کش بم دھماکے میں شہید ہو ئے، جب کہ محمّد جعفراب بھی حاضر سروس اور ایس پی کی پوسٹ پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ڈی ایس پی بننے کے بعد مجھے ایڈوانس کورس کے لیے تربیتی کالج بھجوا دیا گیا، جہاں پورے مُلک سے 16ڈی ایس پیز تربیت حاصل کر رہے تھے، مَیں نے وہاں بھی پہلی پوزیشن حاصل کی ۔

س: ملازمت کے دوران پڑھائی کے لیے کیسے وقت نکالتے تھے؟

ج: مَیں نے دورانِ سروس ہمیشہ نظم و ضبط اور دفتری اوقات ِکار کا خاص خیال رکھا۔ یہی عادت تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے میں معاون ثابت ہوئی کہ مَیں ایک ٹائم ٹیبل کے تحت پڑھائی کرتا تھا۔ جیسے جیسے امتحانات پاس کرتا جا رہا تھا، ویسے ویسے علم کی پیاس مزید بڑھتی جا رہی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے تعلیم ،ڈیوٹی اور خانگی معاملات میں کبھی بھی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔مَیں تو نوجوانوں سے بھی یہی کہتا ہوںکہ وہ اپنی زندگی نظم و ضبط کے تحت گزاریں۔ اس طرح انہیں مستقبل کے حوالے سے کبھی مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔80سال کی عُمر میں بھی مَیں روزانہ 3گھنٹے سے زائد وقت مطالعے میں گزارتا ہوں، جس کے لیےگھر ہی میں ایک لائبریری بنا رکھی ہے ۔

س: کتاب لکھنے کا خیال کیسے آیا؟

ج: 2005ء میں پولیس ٹریننگ اسکول، کوئٹہ کو کالج کا درجہ دیا گیا اور مجھے پہلا چیف لا انسٹرکٹر بنایا گیا ۔اس سے پہلے ڈی ایس پی لیگل رینک کا افسر چیف لا انسٹرکٹر ہوتا تھا ،لیکن اسکول کی اَپ گریڈیشن کے بعد ایس پی رینک کا افسر سی ایل آئی تعینات کیا جاتا تھا۔ ہمارے کمانڈنٹ ،سید سلمان تھے ،مَیں پولیس اہل کاروں اور افسران کو پڑھانے سے قبل لیکچر تیارکیاکرتا تھا اور اس کی ایک کاپی کمانڈنٹ کو بھی ارسال کر دیتا۔مختلف موضوعات پر لیکچر کمانڈنٹ صاحب کو کافی پسند آ ئے، جس پر انہوں نے کہا کہ ’’اسے کتابی شکل دے دو‘‘جس پر مَیں نے تمام لیکچرز یک جا کر کے انہیں کتابی شکل دےدی اور آج یہ کتاب جامعۂ بلوچستان، ایم اے کےشعبۂ پولیٹیکل سائنس کے نصاب کا حصّہ ہے۔

س: آپ نے 60سال سے زائد عُمر میں ایم فِل کیا، اس عُمر میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا مقصد کیا تھا؟

ج: جب مَیں نےاپنے لیکچرز کو کتابی شکل دی ، تو کتاب پر تبصرے کے لیے اُس وقت کے وائس چانسلر،جامعۂ بلوچستان، غلام محمّد تاج کے پاس گیا۔انہوں نے مسوّدہ پڑھ کر تبصرہ لکھ دیا، مگرمجھے یہ بھی کہاکہ جامعۂ بلوچستان میں کرمنالوجی کا شعبہ نہیں ہے اور میری خواہش ہے کہ یہ شعبہ قائم کروں۔ اس حوالے سے آپ کی مدد درکار ہے،چوں کہ مَیں اس وقت تک پولیس سے ریٹائر ہو چُکا تھا، لہٰذا مَیں نے حامی بھر لی، لیکن مَیں نے سوچا کہ میری تعلیم تو خود ایم اے ہے، تو مَیں ایم اے کے طلبہ کو کیسے پڑھائوں گا، لہٰذا مجھے اپنی تعلیمی قابلیت میں اضافہ کرنا چاہیے، جس کے بعد میں نے ایم فِل میں رجسٹریشن کروائی، لیکن پھر وائس چانسلر تبدیل ہو گئے اور شعبہ قائم نہ ہو سکا۔ لیکن مَیں نے اپنا ایم فِل مکمل کیا ۔

بعد ازاں، مَیں نے سوچا کہ پی ایچ ڈی کی راہ میں سب سے مشکل مرحلہ توایم فِل ہی ہوتا ہے،جو مَیںنے سر کرلیا ہے، تو اب پی ایچ ڈی بھی کر لینی چاہیے۔سو، مَیں نے2011ء میں پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا اور 2019ء میں ڈگری مکمل کرلی۔میرے مقالے کا موضوع ’’بلوچستان میں پولیس اور لیویز فورس‘‘ کا تقابل تھا۔بتاتا چلوں کہ میرے تحقیقی مقالے کو جامعہ کراچی کے پروفیسر زنے 100میں سے 93 اور جامعہ بلوچستان کے پروفیسرز نے 95نمبر دئیے۔

س: جامعہ بلوچستان میں کرمنالوجی ڈیپارٹمنٹ کیوںہونا چاہیے، اس کی کیا اہمیت و افادیت ہے؟

ج: مُلک کی تمام بڑی جامعات میں کرمنالوجی ڈیپارٹمنٹ موجود ہے،لیکن بلوچستان میں اس اہم شعبے کو نظر اندازکیا گیا ہے۔ اگر بلوچستان کا کوئی شخص اس مضمون میں ایم فِل یا پی ایچ ڈی کرنا چاہے گا، تو کس طرح کرسکے گا۔یقیناً اس کام کے لیے اسے اپنے گھر سے دُور دیگر صوبوں کا رُخ کرنا پڑے گا۔ اسی طرح پولیس افسران ، اہل کاروں اور مجسٹریٹس کے لیے بھی یہ شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ لہٰذا جامعۂ بلوچستان میں اس اہم نوعیت کے شعبے کا فوری قیام ہونا چاہیے۔

س: بلوچستان پولیس اور لیویز فورس کا تقابل کس طرح کیا جا سکتا ہے؟

ج: لیویز اور پولیس دونوں قانون نافذ کرنے والے ادارے ہیں، لیکن ان کے تقابل سے قبل ایک نظر تاریخ پر ڈالنی ہوگی۔لیویز فورس کا قیام1876ء میں ڈیرہ غازی خان کے ڈپٹی کمشنر رابرٹ سنڈیمن کی کاوش تھی۔ ڈیرہ غازی خان کے ساتھ ہی بلوچستان کا بارڈر بھی لگتا ہے، اس دوران جرائم پیشہ عناصر کی بارڈر پر سرگرمیاں جاری تھیں،جنہیں کنٹرول کرنے کے لیے رابرٹ سنڈیمن نے قبائلی معتبرین پر مشتمل فورس بنائی،جنہیں گھوڑے دئیے گئے اور اعزازیہ بھی مقرّر کیا گیا۔

اس فورس کے اہل کاروں کا اپنے اپنے علاقوں میں گہرا اثر و رسوخ تھا۔ نیز، جرگہ سِسٹم بھی قائم تھا،جہاں فوج داری پر عمل کیا جاتا، نہ ہی قانونی شہادت دیکھی جاتی تھی،لیکن آج کی لیویز فورس بالکل مختلف ہے، بلکہ اسے پولیس کی ایک شاخ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اس میں اب باقاعدہ بھرتیوں اور تربیت کا نظام وضع ہے اوریہ صوبے کے90فی صد ایریا کی نگہبانی کے فرائض انجام دے رہی ہے۔ 

لیویز کے زیرِ کمانڈ ایریا کو ’’بی‘‘کہا جاتا ہے،جب کہ پولیس کی عمل داری تقریباً 10فی صد رقبے پر ہے،جسے ’’اے‘‘ ایریا کہا جاتا ہے اور اس ایریا میں صوبے کی مجموعی طور پر70فی صد کے قریب آبادی ہے۔ بلوچستان پولیس کی کارکردگی نسبتاًبہتر ہے، لیکن اسے جدید دَور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے،کیوں کہ میرے تجربے کے مطابق محکمے میں جب تک افسران اور اہل کاروں کو اس پوسٹ پر تعیّنات نہیں کیا جاتا،جس کی انہیں تربیت دی گئی ہو،معیاری پولیسنگ ممکن نہیں۔

بلوچستان میں اب بھی براہِ راست بھرتی ہونے والے انسپکٹرز اور ڈی ایس پیز کو اے ایس آئیز کا تربیتی نصاب پڑھایا جا رہا ہے،جب گریڈ 16 اور 17کے افسران کو اے ایس آئیز کا نصاب پڑھایا جائے گا اور اسی خطوط پر تربیت بھی دی جائے گی، تو وہ پولیس کے لیے کیسے بہتر افسر ثابت ہو سکیں گے۔ ذرا سوچیں کہ یہی ڈی ایس پیز جب ترقّی پا کر ایس پی کی پوسٹ پر پہنچتے ہیں، تو وہ ضلع ایس پی بن کر پولیس فورس کی کمانڈ کیسے کر سکیں گے۔

مَیں آپ کو اسپیشل برانچ کی مثال دوں،وفاقی سطح پر وفاقی حکومت کا انٹیلی جینس ادارہ آئی بی اور صوبائی سطح پر اسپیشل برانچ ہے، لیکن بد قسمتی سے اسپیشل برانچ کے 2فی صد افسران ، اہل کاروں کو بھی انٹیلی جینس کی تربیت نہیں دی جاتی،تو غیر تربیت یافتہ افسران کس طرح بہتر انٹیلی جینس افسر یااہل کار ثابت ہوسکیں گے، اس لیےہر افسر واہل کار کی تربیت اُن ہی خطوط پر کی جانی چاہیے، جن کے لیےوہ بھرتی کیا جاتاہے۔

س: نوجوانوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

ج: نوجوانوں کو یہی پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ اپنا وقت ضائع نہ کریں اور تمام تر توانائیاں حصولِ علم پر صرف کریں۔بنی نوع انسان کے لیے حصولِ علم انتہائی ضروری ہے۔ وحی کا پہلا لفظ ہی’’اقرا‘‘ ہے، جس کے معنی ’’پڑھ‘‘ کے ہیں۔جس طرح جسم ڈھانپنے کے لیےلباس ضروری ہوتا ہے ،اسی طرح تہذیب سیکھنے کے لیے علم حاصل کرنا ازحد ضروری ہے۔تعلیم ہی کسی بھی قوم یا معاشرے کی ترقّی کی ضامن ہےکہ یہی قوموں کی ترقّی یا زوال کی وجہ بنتی ہے۔

یاد رہے، تعلیم حاصل کرنے کا مطلب صرف اسکول، کالج، یونی وَرسٹی سے ڈگری ہی لینا نہیں، بلکہ تمیز اور تہذیب سیکھنا بھی ہے، تاکہ اپنی معاشرتی روایات اور سماجی اقدار کا تحفّظ کیا جا سکے۔ در حقیقت تعلیم وہ زیور ہے، جو انسان کا کردار سنوراتا ہے۔ آج کے اس پُر آشوب، مگر جدید دَور میں تعلیم انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اور تاریخ بھی گواہ ہے کہ مسلمانوں نے تعلیم و تربیت ہی سے دین و دنیا میں سربلندی پائی ۔ 

ہم تعلیم ہی کے ذریعے صوبے کی پس ماندگی ختم کر سکتے ہیں۔ آج بلوچستان میں ماضی کی نسبت تعلیمی رجحان خاصااضافہ ہوا ہےاوریہی وجہ ہے کہ اب سی ایس ایس سمیت صوبائی سطح کے مقابلے کے امتحانات میں بلوچ نوجوان بڑی تعداد میں کام یاب ہو رہے ہیں۔ وفاقی بیورو کریسی سے لے کر فوج اور دیگر اداروں میں یہاں کے نوجوانوں کی کافی شمولیت نظر آ رہی ہے ۔

شدید علالت بھی ڈاکٹر ہیبت خان حلیمی کی راہ میں حائل نہ ہو سکی، پروفیسر ڈاکٹر عادل زمان کاسی

بلوچستان یونی وَرسٹی کے شعبۂ پولیٹیکل سائنس کے ڈین ،پروفیسر ڈاکٹر عادل زمان کاسی نے بتایا کہ ’’ہیبت خان حلیمی ضعیف اور شدید علیل ہونے کے باوجود پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے لیے پُرعزم تھے۔ اُن کی شدید علالت اور دن بہ دن گرتی صحت کے باعث ہمیں خدشہ تھا کہ وہ پی ایچ ڈی مکمل نہیںکرسکیں گے، مگر انہوں نے ہمّت نہیں ہاری اور سچّی لگن، محنت اور جذبے کے ساتھ لگے رہے اوربالآخر اپنےخواب کو عملی شکل دینے میں کام یاب ہو ہی گئے۔ڈاکٹر ہیبت خان حلیمی کا شمار شعبے کے معمّر ترین طلبہ میں ہوتا ہے۔

وہ کلاسز کے دوران اس قدر علیل ہو گئے تھے کہ ذیا بطیس کی وجہ سے ان کے پاؤں کی ایک انگلی بھی کاٹی گئی، جب کہ کمر کے مُہروں کے مسائل کی وجہ سے چلنے پھرنے میں بھی شدید دشواری کا سامنا ہے، مگر ان تمام مشکلات کے باوجود ان کے عزائم میں کمی نہ آئی ۔ ڈاکٹرصاحب جیسے لوگ ہمارے معاشرے، بالخصوص نوجوانوں کے لیے ایک مثال ہیںکہ اگر لگن سچّی اور ارادے پختہ ہوں تو کیا کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر نسلِ نو ڈاکٹر ہیبت خان حلیمی کی شخصیت سے سیکھے اور اسی محنت ، لگن اور دل جمعی سے حصولِ علم میں مشغول ہوجائے،تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارا صوبہ تعلیمی لحاظ سے دیگر صوبوں کے برابر نہ آ سکے۔

سنڈے میگزین سے مزید