• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

الیکشن کمیشن میں ای وی ایم کے کارگر ہونے پر بحث و مباحثہ

اسلام آباد (انصار عباسی) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اعلیٰ سطح کی تین کمیٹیاں تشکیل دیدی ہیں جن کا کام اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں، لیکن اگر یہ ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور لگتا ہے۔

الیکشن کمیشن کے ذرائع نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ کمیشن پوری کوشش کر رہا ہے کہ نئے نظام کے تحت کام کرے لیکن جلدبازی میں الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم پر منتقل ہونا شاید ممکن نہ ہو۔

الیکشن کمیشن کے سینئر ذریعے کا کہنا تھا کہ دیگر ملکوں کو شروع کرنے میں ہی کئی سال لگ گئے تھے لیکن ہم سے توقع کی جا رہی ہے کہ پوری طرح اس سسٹم پر چند سال میں منتقل ہو جائیں۔

ان ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیشن ای وی ایم پر منتقل ہونے کے حوالے سے کام کر رہا ہے اور اس بات پر بھی غور کر رہا ہے کہ اس نظام کو کیسے چلایا جائے۔

کم از کم تین اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی گئی ہیں جو الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم پر ممکنہ عملدرآمد کے مختلف پہلوئوں پر غور کر رہی ہیں۔

ای وی ایم پر ایک مرکزی کمیٹی ہے جس کی سربراہی سیکریٹری الیکشن کمیشن کے پاس ہے۔

یہ کمیٹی الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم کیلئے مطلوبہ تبدیلیوں کی روشنی میں پورے انتخابی نظام کا جائزہ لے رہی ہے۔ کمیٹی کیلئے مفصل شرائطِ کار طے کیے گئے ہیں جن کے تحت کمیٹی کو مختلف ملکوں میں زیر استعمال مختلف طریقوں پر غور کرنا ہے۔

مرکزی کمیٹی اس بات پر بھی بحث کرے گا کہ پاکستان کیلئے انتہائی موزوں سسٹم کیا ہوگا اور ساتھ ہی مشینوں کی خریداری، ان کی حفاظت اور اسٹوریج کے معاملات پر بھی غور کرے گی۔

ایک اور کمیٹی الیکشن کمیشن کے ایڈیشنل سیکریٹری کے ماتحت قائم کی گئی ہے جس کا کام نئے ووٹنگ سسٹم کے مالی پہلوئوں پر غور کرنا ہے۔ یہ کمیٹی بتائے گی کہ نئے سسٹم کی وجہ سے قومی خزانے پر کتنا بوجھ پڑے گا۔

تیسری کمیٹی الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل لاء کے ماتحت تشکیل دی گئی ہے جو الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم پر منتقل ہونے کیلئے آئین، قانون اور رولز میں ممکنہ تبدیلیوں کی تجویز پیش کرے گی۔

الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ادارہ فی الوقت اس نئے نظام کو کارگر بنانے کیلئے تمام پہلوئوں پر غور کر رہا ہے لیکن خدشہ ہے کہ یہ اُس دورانیے میں ممکن نہیں جس میں پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت اس پر عملدرآمد چاہتی ہے۔

اس نئے نظام پر منتقلی اور آغاز کیلئے کئی سال لگ جاتے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ دو سال سے بھی کم وقت میں یہ نظام کارگر ہو جائے۔

اِن ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے 2016-17ء کے ضمنی الیکشن میں پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا تھا تاکہ الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم کا تجربہ کیا جا سکے اور اس کے بعد ادارے پارلیمنٹ میں ایک رپورٹ بھی پیش کی تھی لیکن بدقسمتی سے اس پر کبھی بحث نہیں کی گئی۔

اور اب ذرائع کہتے ہیں کہ اچانک ہی ادارے سے توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ انتخابات کے دوران ملک بھر میں الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم لگایا جائے۔

پی ٹی آئی حکومت الیکشن کمیشن پر دبائو ڈال رہی ہے کہ نہ صرف عام انتخابات الیکٹرانک مشینوں کے ذریعے کرائے جائیں بلکہ اوورسیز پاکستانیوں کیلئے آئی ووٹنگ کا انتظام بھی کیا جائے جس پر الیکشن کمیشن کو تحفظات ہیں۔

آئی ووٹنگ کے معاملے میں ہسپانوی کمپنی منسیٹ نے حکومتِ پاکستان کو بتایا تھا کہ آئی ووٹنگ سسٹم کے مفصل جائزے اور آڈٹ سے معلوم ہوا ہے کہ یہ نظام ملک کی آئینی شرائط پر پورا نہیں اترتا اور اس میں رازداری بھی نہیں، اس میں ووٹر اور الیکشن کمیشن یہ گارنٹی نہیں دے


پائیں گے کہ سسٹم کے ذریعے کی گئی ووٹنگ اور نتائج اُس پسند کی نمائندگی کرتے ہیں یا نہیں جو ووٹروں کو پسند ہے۔ اپنی 231؍ صفحات پر مشتمل رپورٹ میں ہسپانوی کمپنی نے حکومت پاکستان کو سختی کے ساتھ تجویز کیا تھا کہ نظام کو بہتر بنایا جائے اور اس کے بعد ہی الیکشن میں استعمال کیا جائے۔

کمپنی نے خبردار کیا تھا کہ نادرا کا نظام اور ٹیکنالوجی پرانی ہو چکی ہے اور اس پر حملوں کا خطرہ بھی ہے جسے ہیکرز نشانہ بنا سکتے ہیں۔ کمپنی نے بتایا تھا کہ آئی ووٹنگ پر خطر سافٹ ویئر ہے۔

کمپنی کی رپورٹ میں جس تشویش کا اظہار کیا گیا تھا وہ یہ تھی کہ آئی ووٹنگ کو ہیکرز کے اندرونی اور بیرونی حملوں کا خطرہ ہے، اسے ہیکرز نشانہ بنا سکتے ہیں یا پھر نظام چلانے والے (سسٹم ایڈمنسٹریٹرز)۔ ضروری ہے کہ یہ نظام اس بات کو یقینی بنائے کہ ووٹ رازداری کے ساتھ کاسٹ کیا گیا ہے اور ساتھ ہی اسے سسٹم ایڈمنسٹریٹرز، ممکنہ ہیکرز سے بھی محفوظ بنانا ہے۔

اہم خبریں سے مزید