• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغانستان کی صورتحال 5 ماہ میں شام، یمن اور وینزویلا سے بدتر ہوگئی، اقوام متحدہ

کابل (اے ایف پی، جنگ نیوز ) اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ افغانستان کی صورتحال 5ماہ میں شام، یمن، اور وینزویلا سے بدتر ہوگئی ہے ، اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ خواتین اور عالمی امداد کے بغیر افغانستان کی معیشت تباہ ہوجائے گی ، بدھ کے روز اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے بعد عالمی برادری نے افغانستان کی اربوں ڈالر کی امداد معطل کردی ہے جس کے نتیجے میں افغانستان میں 4کروڑ افراد کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے ۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ افغانستان کی جی ڈی پی ایک برس کے اندر اندر مزید 20فیصد تک سکڑ جائے گی جبکہ آئندہ برسوں کے دوران یہ رفتار 30فیصد تک ہوسکتی ہے ۔ اقوام متحدہ میں ڈیولپمنٹ پروگرام کے ایشیا میں ڈائریکٹر کنائی ویگناراجہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ شام میں 5سالہ جنگ کے بعد شام کی معیشت کو جس طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا افغانستان میں اس صورتحال تک پہنچنے میں پانچ ماہ لگے ۔ اقوام متحدہ کے کچھ اور ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان کی آبادی کی ضروریات اور قریب قریب سبھی حکومتی اداروں کی فعالیت میں شدید تنزلی سے جو حالات پیدا ہو گئے ہیں، ایسے تو یمن، شام اور وینزویلا میں ظاہر نہیں ہوئے ہیں۔یہ امر اہم ہے کہ امریکی اور نیٹو کی افواج کے انخلا کے بعد بین الاقوامی امداد کا بہاؤ بھی بند ہو گیا ہے۔ یہ بین الاقوامی امداد افغانستان کے جی ڈی پی کا چالیس فیصد اور سالانہ بجٹ کا اسی فیصد تھا۔کانی وگناراجا کا کہنا ہے کہ امداد کا عمل بحال ہونے کے بعد بیمار اور مفلوج اداروں کا فعال ہونا بھی ازحد اہم ہو گا کیونکہ اسی سے معیشت کی بحالی کا عمل شروع ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی بحالی بیروزگار افراد کے لیے روزگار کا سبب بنے گی اور افغان عوام میں کمائی کرنے کا عمل ان کے ذاتی وقار اور سلامتی کا باعث بھی ہو گا۔قبل ازیں افغانستان کی سماجی و معاشی آؤٹ لک میں موجودہ حکمرانوں کو متنبہ کیا گیا کہ خواتین کو تنخواہوں والی ملازمتوں سے محروم نہ رکھا جائے اور اگر ایسا کیا گیا تو شرحِ نمو میں مزید پانچ فیصد کی کمی واقع ہو جائے گی۔

دنیا بھر سے سے مزید