• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تفہیم المسائل

سوال: کیا امام نماز کے لیے کھڑا ہو تو تکبیر ِ تحریمہ اللہ اکبر اقامت کے کلمات ختم ہونے سے پہلے کہہ سکتا ہے ؟(ظہور احمد باروی ،کراچی )

جواب: فقہِ حنفی کی روشنی میں بہتریہ ہے کہ ’’قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ‘‘ پر امام تکبیرِ تحریمہ کا آغاز کرے ،لیکن اگر اقامت سے مکمل فراغت کے بعد تکبیرِ تحریمہ کہے توبھی کوئی حرج نہیں ہے ۔ چونکہ ہمارے ہاں اقامت سے فراغت کے بعد ہی تکبیرِ تحریمہ کہنے کا رواج ہے اور اس کے خلاف کرنے سے لوگوں میں انتشار پھیلنے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے ، لہٰذا مروّجہ طریقے کی خلاف ورزی سے اجتناب کرنا چاہیے ۔

علامہ طحطاویؒ لکھتے ہیں: ’’ نماز کے مستحبات میں سے یہ ہے کہ جب اقامت کہنے والا ’’قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ‘‘کہے ،تو ا مام ابوحنیفہؒ اور امام محمد ؒ فرماتے ہیں : امام تکبیرِ تحریمہ کا آغاز کردے اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے فرمایا: جب اقامت کہنے والا اقامت سے فارغ ہوجائے تو(امام ) تکبیرِ تحریمہ کہے (تاکہ اقامت کہنے والے کے قول اور امام کے فعل میں مطابقت پیداہوجائے) ، پس اگر امام نے تکبیرِ تحریمہ کو اقامت سے فراغت تک مؤخرکیا ،تو تمام اَئمۂ کرام کے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔(حاشیہ طحطاوی علیٰ مراقی الفلاح ، ص:278)

علامہ نظام الدین ؒ لکھتے ہیں:’’ امام (اقامت میں مؤذن کے) ’’قَدْ قَامَتْ الصَّلَاۃُ‘‘ سے کچھ پہلے تکبیر(تحریمہ) کہہ سکتا ہے ، شیخ الاسلام شمس الائمہ حلوانیؒ نے فرمایا : یہی صحیح ہے ، جیساکہ ’’محیط‘‘ میں لکھا ہے۔(فتاویٰ عالمگیری ،جلد1،ص:57)

ڈاکٹر وہبہ الزحیلی لکھتے ہیں:’’ اور مسنون یہ ہے کہ امام اقامت مکمل ہونے کے بعد تکبیر تحریمہ کہے اور اقامت اور تکبیر ِ تحریمہ میں فصل نہ کرے، سوائے کسی مستحب امر کے جیسے :امام کا صفیں سیدھی کرنے کا حکم دینا۔(فقہ الاسلامی وأدلتہٗ ، جلد 1،ص:561)

علامہ نوویؒ لکھتے ہیں: ترجمہ:’’اور سَلَف سے لے کر خَلَف تک جمہور علماء نے کہاہے: مُؤذِّن کے اقامت سے فارغ ہونے تک امام تکبیرِ تحریمہ نہ کہے حضرت ابوہریرہ ؓ کا یہ قول : ’’ہم کھڑے ہوئے اور صفیں برابر کیں ‘‘،یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ان کے ہا ں یہ طریقہ رائج تھا۔ (صحیح مسلم بشرح النَّوَوِی، جلد5، ص:88)

علامہ ابن قدامہ حنبلیؒ لکھتے ہیں:’’اور امام اُس وقت تک تکبیر تحریمہ نہ کہے ،جب تک مؤذّن اقامت سے فارغ نہ ہوجائے ، اس لیے کہ نبی اکرمﷺ بھی مؤذّن کے فارغ ہونے کے بعد تکبیر(تحریمہ) کہاکرتے تھے۔(المغنی ،جلد2،ص:6)

غرض جب کہ تعامل ہے ،اقامت کے اختتام پر امام کا تکبیرِ تحریمہ کہنا بہتر ہے، لیکن اگر کوئی امام دورانِ اقامت تکبیرِ تحریمہ کہہ دے ،تو اسے وجہِ اختلاف نہیں بناناچاہیے ، اس کا جواز موجود ہے ۔

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

tafheem@janggroup.com.pk