• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال: ایک شخص دوسرے کو قرض دیتا ہےاور جب قرض واپس کرنے کا وقت آتا ہے تو مقروض اصل قرض کے علاوہ کچھ اوپر واپس لوٹا دیتا ہے ، مثلاً ایک دوست نے دس لاکھ قرضہ لیا اورتین مہینے بعد واپس لوٹانے کا طے ہوا ، تین ماہ بعد دوست نے دس ہزار اوپر بڑھا کر واپس کردیے۔ کیا یہ سود ہے؟ اگر یہ سود نہیں ہے تو پھر سود کسے کہتے ہیں ؟

جواب: اَشیاءِ رِبویہ (نقدی، سونا، چاندی، گندم وغیرہ) میں سے کسی ہم جنس چیز کے تبادلے میں جو اِضافہ ایک جانب سے مشروط ہو ، اُسے’’سود‘‘ کہا جاتا ہے۔

آپ نے جس معاملے کاذکر کیا ہے، اس میں اگرچہ نقدی کے بدلے اضافہ دیا جارہا ہے، لیکن چوں کہ قرض لیتے وقت اضافہ دینے کی شرط نہیں لگائی گئی تھی، اس لیے اسے سود نہیں ، بلکہ حُسنِ اَدا کہا جائے گا۔ حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے قرضہ لیا اور پھرجب مجھے واپس کیا تو زیادہ واپس کیا۔

حدیث شریف کے الفاظ ہیں :’’فاعطانی وزادنی ‘‘ایسا اس وجہ سےجائز تھا کہ قرضہ دیتے وقت اضافہ مشروط نہیں تھا، لیکن اگر اضافہ مشروط ہو یا مشروط تو نہ ہو،لیکن اس کا عرف ہو تو پھر قرض پر کسی قسم کااضافہ وصول کرنا جائز نہیں ہوگا، خواہ وہ اضافہ مقدار میں ہو یا صفت میں ہویا رقم کی صورت میں ہویا کسی اثاثے کی شکل میں ہویا کسی اورقسم کا فائدہ ہو۔

حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کے صاحب زادے عامر (ابوبردہ) روایت کرتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ حاضرہوا تو میری ملاقات عبداللہ بن سلام ؓ سے ہوئی، انہوں نے فرمایا: تمہارا قیام ایک ایسے ملک میں ہے جہاں سودی معاملات بہت عام ہیں، اگر تمہارا کسی شخص پر کوئی حق ہو اور پھر وہ تمہیں ایک تنکے یا جو کے ایک دانے یا ایک گھاس کے برابر بھی ہدیہ دے تو اسے قبول نہ کرنا، کیوں کہ وہ بھی سود ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب مناقب عبداللہ بن سلام، (1/538) ط: قدیمی ،کراچی)

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

masail@janggroup.com.pk