• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کنزا زاہد یارخان

 پرانے وقتوں کا اگر آج کے دور سے مقابلہ کریں تو بہت کچھ بدل گیا ہے۔ نہ صرف ہمارے رہن سہن کا طریقہ بدلا ہے بلکہ طور طریقے بھی بدل گئے ہیں ۔ اس بدلاؤ کا اثر لازمی طور پر ہمارے رسم ورواج پر بھی پڑنا تھا، سوپڑا۔ پہلے شادی بیاہ کے موقع پر مووی بنانے والے کا بڑے چاو ٔسے انتظار کیاجاتا تھا۔ اس وقت سیلفی ایکسپرٹ فونز کاتو رواج ہی نہیں تھا تو تب وہ مووی والا اپنے بڑے سے کیمرے کے ہمراہ ہال میں داخل ہوتا تو گویا لڑکیوں بالیوں کی تو خوشی کی انتہا ہی نہ رہتی ۔ 

دلہن کی بہنوں اور سیلہیوں کی اولین کوشش ہوتی کہ اس کی تصویر سب سے خوبصورت آئے۔ اسی لیے آنکھوں کو چندھیادینے والی پیلی لائٹ والے کیمرے کے سامنے کھڑے رہنا اعزاز سمجھا جاتا ، پھر چاہے ۔ پیلی روشنی کی تپش سے میک اپ پانی پانی ہوجائے یا آنکھوں میں سیاہ ہالے بنتے رہیں۔ کسے پروا تھی ۔تصویر کشی کا شوق شاید خواتین کو شروع ہی سے ہے، اس لیے اگر کھانے کے دوران بھی مووی والا کیمرہ لے کر ٹیبل کی طرف آئے اور آپ کے منہ میں نوالہ بھی ہو تو کیمرے کو پوز دینا لازمی سمجھا جاتا۔ 

اب تو شامیانے لگا کر شادی بیاہ کی تقریبات کرنے کا رواج بھی دم توڑتا جارہا ہے ،ورنہ وہ بھی کیا دور تھا جب کسی تقریب کا اہتمام شامیانے لگا کرکیاجاتا تھا، نہ پڑوسیوں کی اجازت درکار تھی اور نہ پکی زمین میں بڑی سی مینخ ٹھونک کر سڑک خراب کرنے کا کوئی افسوس، خیر ایسی چھوٹی چھوٹی تقریبات میں شرکت کے لیے بھی خواتین کی تیاریاں ایسی ہوتیں،جس کا جواب نہیں تھا۔

پھر وقت بدل گیا ،قناتوں کی جگہ شادی ہالز نے لے لی۔ پہلے پہل شادی ہالز کو شادی کلب، پھر ہال، پھر بینکویٹ اور اب مرکی کہا جاتا ہے ۔ لیکن نہ بدلا تو خواتین کا بناؤ سنگھار اور تصویر کشی کا شوق، البتہ تصاویر کھینچوانے کے انداز میں ضرور تبدیلی آگئی۔ اب زیادہ تر لڑکیاں سیلفی لینا پسند کرتی ہیں ۔ شادی، سالگرہ یاکوئی بھی تقریب ہو، سیلیفیوں کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتی، مختلف انداز میں سیلفیاں لیتی رہتی ہیں ۔

پہلے وقتوں میں لڑکیاں ہنر سیکھنے پرتوجہ دیتی تھیں کسی محلے میں سلمیٰ کے ہاتھ کی کڑھائی ، تو کسی محلے میں شکیلہ کی دستکاریاں مشہور ہوتیں، کہیں کوئی زبیدہ مہندی لگانے کی ماہر، تو کہیں کوئی رقیہ سلائی میں طاق ہوتی اور کمیٹی والی رضوانہ کو کون بھول سکتا ہے ،مگر آج کے دور میں اب نہ تو کہیں ہنر مند ہاتھوں سے بنی دستکاریاں ہیں، نہ کڑھت، اب صرف اور صرف سیلفیاں چلتی ہیں۔ 

کھانا پکانے کی شوقین لڑکیاں اگر کوئی خاص ڈش بھی بناتی ہیں تو گھر والوں کو کھلانے سے پہلے اس کے ساتھ سیلفی لے کر’’ made by me‘‘لکھ کر فیس بک پر اسٹیٹس ضرور لگاتی ہیں ۔اپنی تصویر پر مختلف فلٹرز لگا نے والی لڑکیاں بھی خوب ہیں ایک اور مشہور سیلفی اسٹائل شیشے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنی سیلفی لینا بھی ہے ۔

اس طریقے کو استعمال کرتے ہوئے ایک تیر سے دوشکار بھی کیے جاسکتے ہیں یوں سیلفی لینے سے تصویر بھی کھینچ جاتی ہے اور لوگ آپ کے مہنگے فون کوبھی دیکھ لیتے ہیں۔ شادی بیاہ کی تقاریب تو رہیں ایک طرف لائبریری میں، سمینارز میں، حتیٰ کہ کلاس رومز میں بھی لڑکیاں سیلفیاں لینے سے باز نہیں آتیں۔ اب ہر موقعے پر، قدم قدم پر اپنی ’’پاپرازی‘‘ (paparazzi) آپ بنی پھرتی ہیں۔ 

آج کل موقع محل دیکھے بغیر جس طرح’’ اندھا دھند‘‘ تصویر کشی کی جاتی ہے۔ اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ ویسے اس بے ضرر شوق میں بظاہر تو کچھ نہیں لیکن اگر موقع محل کا خیال رکھا جائے تو بہتر ہے، کیوںکہ اب صرف میتوں پر ہی سلیفیاں لینا رہ گیا ہے، کچھ بعید نہیں کہ آگے چل کریہ بھی رواج بن جائے۔