• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
— تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا
— تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی طویل عرصے تک ایک پسِ پردہ طاقتور کردار اور ایرانی سیکیورٹی پالیسی کے معمار کے طور پر نمایاں رہے۔

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے تناظر میں سابق رہبر اعلیٰ آیت اللّٰہ خامنہ ای کی موت کے بعد علی لاریجانی کی موت کو ایران کے اقتدار کے ڈھانچے کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، جس نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بار پھر شدید عدم استحکام سے دو چار کر دیا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق وہ آیت اللّٰہ خامنہ ای کے قریبی ساتھی اور ایران کے نمایاں اور مدبر عہدیداروں میں شمار ہوتے تھے۔

علی لاریجانی ہدف نمبر 2 تھے

دی یروشلم پوسٹ کے مطابق آیت اللّٰہ خامنہ ای کے قتل کے بعد علی لاریجانی اسرائیلی افواج کے لیے اہم ترین ہدف بن گئے تھے، تاہم ان کا سراغ لگانا آسان نہیں تھا۔ 

آیت اللّٰہ خامنہ ای کی موت کے بعد ایرانی قیادت نے سخت سیکیورٹی اقدامات اختیار کر لیے تھے اور علی لاریجانی بھی مسلسل اپنی جگہ تبدیل کر رہے تھے۔

رپورٹس کے مطابق وہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران مختلف خفیہ مقامات پر منتقل ہوتے رہے تاکہ اپنی لوکیشن خفیہ رکھ سکیں، اس کا مطلب یہ تھا کہ جب تک اسرائیلی انٹیلی جنس ان کا سراغ لگاتی وہ مقام بدل چکے ہوتے تھے، تاہم بالآخر منگل کے روز وہ اس وقت نشانہ بن گئے جب وہ اپنی بیٹی سے ملنے گئے تھے۔

ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق تہران کے نواحی علاقے پردیس میں ان کی بیٹی کے گھر پر حملہ کر کے انہیں شہید کیا گیا، اس حملے میں ان کے بیٹے مرتضیٰ، ایک نائب اور متعدد محافظ بھی مارے گئے۔

کیا شہریوں نے اطلاع دی؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس کو علی لاریجانی کی موجودگی کے بارے میں تہران کے بعض شہریوں سے معلومات حاصل ہوئیں۔

میڈیا کے مطابق ایک اسرائیلی عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی اہم انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ممکن ہوئی۔

ذرائع کے مطابق علی لاریجانی کی حالیہ عوامی سرگرمیوں، خصوصاً القدس ڈے ریلیوں میں شرکت اور میڈیا میں موجودگی نے ان کی شناخت کو آسان بنایا۔

اسرائیلی عہدیدار کے مطابق ان اقدامات کے باعث علی لاریجانی عوامی نظروں میں آ گئے تھے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید