• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ کی 9/11 حملوں کی پیشگوئی کا دعویٰ، حقیقت کیا ہے؟

امریکی صدر---فائل فوٹو
امریکی صدر---فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ انہوں نے 11 ستمبر جیسے حملے کی پیشگوئی کی تھی، تاہم دستیاب شواہد اس دعوے کی مکمل تصدیق نہیں کرتے۔

ٹرمپ نے اپنے مؤقف کے حق میں اپنی 2000ء میں شائع ہونے والی کتاب The America We Deserve کا حوالہ دیا، جو 9/11 حملوں سے تقریباً 1 سال قبل لکھی گئی تھی۔

کتاب میں اسامہ بن لادن کا ذکر ضرور موجود ہے، تاہم صرف ایک ممکنہ خطرے کے طور پر، ٹرمپ نے لکھا ہے کہ امریکا بعض اوقات کسی ایک دشمن پر توجہ مرکوز کرتا ہے مگر جلد ہی توجہ کسی نئے بحران کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔

ٹرمپ نے اپنی کتاب میں امریکا پر بڑے دہشت گرد حملے کے خدشے کا اظہار بھی کیا تھا اور کہا تھا کہ مستقبل میں ایسا حملہ ہو سکتا ہے جو ورلڈ ٹریڈ سینٹر بم دھماکے 1993ء سے بھی زیادہ تباہ کن ہو، تاہم انہوں نے جس خطرے کا ذکر کیا وہ طیارہ ہائی جیکنگ نہیں بلکہ جوہری یا حیاتیاتی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق تھا۔

ماہرین کے مطابق کتاب میں نہ تو طیاروں کے اغوا کا ذکر ہے، نہ ہی ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو نشانہ بنانے کی پیشگوئی، اور نہ ہی 11 ستمبر 2001ء کے حملے جیسے مخصوص واقعات کی نشاندہی کی گئی۔

واضح رہے کہ 11 ستمبر 2001ء کے حملے جدید تاریخ کے مہلک ترین دہشت گرد حملوں میں شامل ہیں، جن میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے، القاعدہ سے تعلق رکھنے والے 19 افراد نے 4 مسافر طیارے اغواء کیے تھے، جن میں سے 2 نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر، 1 پینٹاگون اور چوتھا پنسلوانیا میں گر کر تباہ ہوا تھا۔

ان حملوں کے بعد امریکا نے افغانستان میں جنگ کا آغاز کیا اور عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف پالیسیوں میں بڑی تبدیلیاں آئیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید