• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پراسیکیوشن برانچ کے افسروں کی مداخلت، تفتیشی افسرپھٹ پڑا

راولپنڈی (وسیم اخترسٹاف رپورٹر)پراسیکیوشن برانچ کے افسروں کی مبینہ مداخلت پر تفتیشی افسرپھٹ پڑا،روزنامچہ میں رپٹ درج کرکے اس کی نقل سینئرافسروں کوبھجوادی ۔ہومی سائیڈانوسٹی گیشن یونٹ تھانہ صدرواہ کے سب انسپکٹرمحمدطاہر نے یکم دسمبرکی رات رپٹ تحریرکرتے ہوئے مؤقف اختیارکیاکہ اغواکے بعدقتل کے مقدمہ میں 8ملزموں نعمان خرم وغیرہ گرفتارہوکر جوڈیشل ریمانڈپرجیل جاچکے ہیں جن کے خلاف چالان مرتب کرکے ڈی اے برانچ ٹیکسلابرانچ بھجوائے گئےجس میں سے ایک چالان یکم اکتوبر کوجمع کروایاگیا۔ مذکورہ چالان اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹرتنویراحمد نے اعتراض لگاکرواپس کیاجو بعدتکمیل اعتراضات واپس بھجوایاگیا جب کہ دیگرملزموں کے خلاف بھی تین چالان نامکمل مرتب کرکے مختلف اوقات میں دفتر ڈی اے برانچ جمع کروائے گئے۔تنویراحمد اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹرنے مجھے ٹیکسلاکچہری طلب کیا اوردوران ملاقات مذکورہ اے ڈی پی پی نے مجھے 4چالان واپس کئے اورکہاکہ مجھے ڈی پی پی کی طرف سے حکم ہواہے کہ مذکورہ مقدمہ کے چالان سینڈٹوکورٹ نہ کرناجب تک مقامی پولیس مذکورہ مقدمہ میں اشتہاری مجرم سہیل اخترکی بابت نرمی نہ برتے ،مجھے مزیدکہاکہ آپ اگرنوکری کرناچاہتے ہیں تواس مقدمہ میں اشتہاری مجرم سہیل اخترکوبے گناہ تحریرکردیں جس پر میں نے مذکورہ اے ڈی پی پی سے کہاکہ میں ملزم سہیل اختر کوجو ایف آئی آر میں نامزداوراشتہاری مجرم ہے کس بے بنیادپربے گناہ تحریرکروں ۔میں نے مذکورہ اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر سے سوال کیاکہ اشتہاری مجرم کے حوالے سے آپ کو اتنی ہمدردی کیوں ہے جس نے جواب دیاکہ مجھے افسران بالاکی طرف سے حکم موصول ہواہے کہ اس مقدمہ میں چالان سینڈٹوکورٹ نہیں کرناہے۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ ان حالات میں مذکورہ مقدمہ کی تفتیش کے دوران مذکورہ سرکاری افسران کی طرف سے مجھے ناجائزطورپرہراساں اورپریشان کیاجارہاہے ۔ادھرراولپنڈی پولیس کے بعض تفتیشی افسروں نے جنگ کو بتایاکہ پراسیکیوشن برانچ کے بعض افسران چالان عدالت میں بھجوانے کے عمل میں سہولت کی بجائے رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں اورچالان کلئیرکروانے کے لئے انہیں بہت سے پاپڑبیلنے پڑتے ہیں۔ اس حوالے سے بے جامداخلت سے بعض اوقات چالان میں تاخیرسے ملزموں کو فائدہ پہنچتاہے اوروہ سزاسے بچ جاتے ہیں اوربروقت مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع نہ ہونے سے تفتیشی افسروں کو مختلف انکوائریوں اورسزاؤں کا سامنابھی کرناپڑتاہے ۔ ذرائع کاکہناہے کہ لیگل انسپکٹروں کی اسامیاں اب بھی پنجاب پولیس میں موجودہیں لیکن انہیں پُرنہیں کیاجارہا،بہت سے تفتیشی افسروں کامطالبہ ہے کہ پراناسسٹم بحال کیاجائے ۔
اسلام آباد سے مزید