• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عمر شاہین

1997 میں جب دنیائے اسکواش پر پاکستان کی حکمرانی ختم ہوئی تو پاکستان کے کھلاڑیوں کے لئے ٹاپ ٹین میں شامل ہونا خواب بن گیا تھا اور آج2021 میں پاکستان کے صرف تین کھلاڑی دنیا کے100بہترین کھلاڑیوں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں ،اس سے آپ اسکواش میں پاکستان کے زوال اور ہمارے المیہ کا انداز ہ لگا سکتے ہیں کہ ہم اس کھیل میں کہاں سے کہاں آ گئے ہیں ۔ اسکواش کی تازہ ترین عالمی درجہ بندی میں پاکستان کا صرف ایک کھلاڑی دنیا کے50بہترین ممالک میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوا جبکہ ٹاپ100 میں پاکستان کے تین کھلاڑی موجود ہیں ۔

مصر کے سات کھلاڑی ٹاپ ٹین میں شامل ہیں ۔ پاکستان کے طیب اسلم کی موجودہ عالمی رینکنگ42ہے اور وہ 50 میں شامل واحد پاکستانی کھلاڑی ہیں ،اسی طرح عاصم خان ورلڈ نمبر68اور ناصر اقبال ورلڈ نمبر78پر براجمان ہیں ۔ طیب اسلم ورلڈ ٹوراسکواش میں بہت فعال ہیں اور انہوں نے رواں سال 14 ٹورنامنٹس کھیل کر اپنی رینکنگ بہتر بنائی ہے جبکہ عاصم خان نے 13اور ناصر اقبال نے16ایونٹس کھیلے ہیں ۔ کچھ عرصہ قبل تک پاکستان کے جونیئر کھلاڑی ان مصر کھلاڑیوں کو شکست دیا کرتے تھے جو آج دنیا کے ٹاپ ٹین میں شامل ہیں ۔ 

پاکستان اسکواش فیڈریشن کو وہ خامیاں تلاش کرنا ہوں گی اور جونیئر کھلاڑیوں کو متواتر ورلڈ جونیئر ٹورنامنٹس میں بھیجنا ہوگا تاکہ ان کا معیار سینئر لیول پر بھی مصری کھلاڑیوں کے ہم پلہ ہو سکے ۔ اگر ہمارے ماضی کے سپر اسٹار پاکستان اسکواش کی ترقی اور کھلاڑیوں کو ورلڈ چیمپئن بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے میں دل چسپی نہیں رکھتے تو دوسرے آپشنز پر غور کرے ،جب کرکٹ اور ہاکی سمیت دنیا کے دوسرے ممالک سے کوچز پاکستان آکر پاکستانی کھلاڑیوں کو تربیت دے سکتے ہیں تو اسکواش کے غیر ملکی کوچز پاکستان آکر ہمارے جونیئر کھلاڑیوں کو تربیت کیوں نہیں دے سکتے۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید