• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغانستان میں انخلا سے قیام امن تک ہر ممکن اقدام اٹھایا، ہمیں فخر ہونا چاہئے، ڈومینک راب

راچڈیل(ہارون مرزا) برطانیہ کے سابق سیکرٹری خارجہ ڈومینک راب نے کہا ہے کہ افغانستان میں انخلا سے لیکر قیام امن تک ہر وہ ممکنہ اقدام اٹھایا گیا جو برطانیہ کر سکتا تھا جس پر ہمیں فخر ہونا چاہیے۔ افغانستان سے انخلاء کی کوششوں پر اپنے اوپر ہونیوالی تنقید کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الزامات بے بنیاد ہیں۔ ایم پیز کو دیے گئے ایک ڈوزیئر میں انخلاکی کوششوں پر تنقید کرتے ہوئےڈومینک راب پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ جب بطور وزیرخارجہ عیش و عشرت کی چھٹیوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے عین اسی وقت بحران کا آغاز ہوا تھا فیصلوں میں تاخیر کر کے بچائو کی کوششوں کو نقصان پہنچایا گیا۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ہزاروں التجا کرنیوالی ای میلز کھولی گئی ہیں لیکن ان پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ صرف اس لیے کہ وزیر اعظم بورس جانسن ایم پیز کو بتا سکیں کہ یہ کوئی پڑھے ہوئے پیغامات نہیں۔ ایک جونیئر سرکاری ملازم نے یہ دعوی ٰکیا ہے کہ وہ افغانستان میں حالات تبدیل ہونے کے بعد طالبان سے بھاگنے کیلئے لاتعداد ای میلز کرتا رہا مگر رسپانس نہیں ملا۔ رافیل مارشل کا کہنا ہے کہ فوجیوں کو دفتر خارجہ میں ڈیسک ورک کے لیے بھیجنا پڑتا تھا جب اہلکار گھر پر رہتے اور اوور ٹائم کرنے سے انکار کرتے تھے ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے سابقہ سیکرٹری خارجہ ڈومینک راب، جسٹس سیکرٹری اور نائب وزیراعظم نے ان تمام دعوئوں کو مکمل مسترد کر تے ہوئے امریکی صدر جوبائیڈن پر انگلی اٹھا ئی اور کہا کہ وہ فوجیوں کے انخلا کے معاملات میں طویل وقت کی فراہمی یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ ڈومینک راب نے کہا کہ دو ہفتوں کے دوران پندرہ ہزار سے زائد افراد کو افغانستان سے نکالنے پر برطانیہ فخر کر سکتا ہے۔ یہ تعداد امریکہ سمیت کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ میں جانتا ہوں جو کر سکتا تھا وہ سب کچھ کیا۔ برطانوی باشندوں کی انخلاکیلئے ہر ممکنہ مدد کی گئی۔ ڈومینک راب نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے جانچ کی ضرورت تھی کہ خطرناک انتہا پسندوں کو برطانیہ نہیں لایا جا رہا۔ افغانستان میں فطری مسائل کا سامنا تھا زمینی حقائق اور چیلنجز کو مد نظر رکھتے ہوئے بہتر سے بہترین کوششیں یقینی بنائی گئیں کامنز کی خارجہ امور کی کمیٹی کے ٹوری چیئرمین ٹام ٹوگینڈہٹ نے موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ الزامات سے دفتر خارجہ کی قیادت کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں پینل نے 39 صفحات پر مشتمل ایک ڈوزیئر شائع کیا ہے جو مسٹر مارشل کی طرف سے لکھا گیا تھا جس نے اگست میں کابل سے رحم کی پروازوں کے خواہاں افغانوں کی درخواستوں کو سنبھالنے کے لیے سرکاری ملازم کے طور پر کام کیا تھامسٹر مارشل کا تخمینہ ہے کہ 75ہزار سے ڈیڑھ لاکھ کے درمیان لوگوں میں سے پانچ فیصد سے بھی کم ایسے ہیں جنہوں نے خصوصی کیسز کیلئے مدد کی درخواست کی تھی بڑی تعداد میں باقی رہ جانیوالے طالبان کے ہاتھوں قتل ہو گئے ہیں کہ ابھی تک روپوش ہیں اس بارے میں وثوق کیساتھ کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا ۔

یورپ سے سے مزید