• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں مجھے ایک گلوکارہ کی حیثیت سے زیادہ پسند کیا جاتا تھا میں جہاں جاتی میری بہت پذیرائی ہوتی تھی میرے اعزاز میں تقریبات کا اہتمام کیا جاتا تھا لیکن میں اس حقیقت کا اظہار بڑے دکھ سے کر رہی ہوں کہ وہاں بنگالی ہونے کے ناطے لوگ مجھ سے فاصلہ ہی رکھتے تھے میری اور میری آواز کی تعریف صرف میرے سامنے کی جاتی تھی لیکن بعد میں تضحیک آمیز انداز میں مجھے بنگالی گلوکارہ کہا جاتا حالانکہ یہ میرے لئے فخر کی بات ہے کہ میں بنگالی ہوں لیکن جس لب و لہجے میں مجھے بنگالی کہا جاتا تھا اس سے یہ محسوس کیا جا سکتا تھا کہ جیسے بنگالی کوئی پست اور چھوٹی قوم ہے۔ یہ گلے شکوے معروف مغینہ شہناز بیگم نے بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے ہوٹل ’’سونار گائوں‘‘ میں گفتگو میں کئے یہ موقع تھا سارک ممالک کے وزرائے اطلاعات کی کانفرنس 1998کا۔ 

جس میں پاکستان سے اس وقت کے وزیر اطلاعات و نشریات مشاہد حسین سید اپنے وفد کے سربراہ کی حیثیت سے شریک تھے اور بھارت سے سشما سوراج اپنے ملک کی نمائندگی کر رہی تھیں یہ وہی سارک منٹسرز کانفرنس تھی جس میں پاکستان اور بھارت کے وزرائے اطلاعات کے درمیان ہونے والی جھڑپ کا تذکرہ ایک عرصے تک رہا۔ چونکہ سشما سوراج کا کہنا تھا کہ پاکستانی وزیر اطلاعات کانفرنس کے موضوع سے ہٹ کر کشمیر کا ذکر نہیں کریں گے جبکہ مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ ہم بھارت کے ساتھ کسی سرکاری رابطے کو اس وقت تک مکمل ہی نہیں سمجھتے جس میں کشمیر کا ذکر نہ ہو اس جھڑپ کا اختتام مشاہد حسین کی جانب سے کانفرنس سے واک آئوٹ پر ہوا۔ 

جس کے بعد انہوں نے اپنا موقف میڈیا کے سامنے بیان کیا۔ اسی موقع پر شہناز بیگم نے مشاہد حسین سید سے بھی بطور خاص ملاقات کی تھی اور پاکستان میں اپنے موسیقی کے پروگراموں کے حوالے سے بات چیت کی تھی جبکہ مشاہد حسین سید نے اس موقع پر شہناز بیگم کی گائیکی اور ان کے گائے ہوئے ملی نغموں کی شاندار الفاظ میں ستائش پیش کی تھی۔ غیر رسمی گفتگو کی اس نشست میں انہوں نے کراچی کو اپنا پسندیدہ شہر اور اسلام اباد کو پاکستان کا سب سے پرسکون اور آرگنائز کیپیٹل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ میں اسلام آباد میں گھر بنائوں اور شام کے وقت یہاں کی خوبصورت اور صاف ستھری کشادہ سڑکوں پر سائیکلنگ کروں۔ 

مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے متعلق ہونے والی گفتگو کے سوالات اور تبصرے کو انہوں نے خاموشی سے سنا اور طرز عمل سے یہ جواب دیا کہ وہ اس موضوع پر کوئی گفتگو نہیں کرنا چاہتیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان اور بنگلہ دیش میں کسی بھی طبقے کو ناراض نہیں کرنا چاہتی کیونکہ حقائق تلخ ہوتے ہیں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کیوں بنا اس بارے میں میڈیا میں اتنا کچھ آچکا ہے کہ جو ہمیں بھی معلوم نہیں تھا۔ 

 اس لئے میں اب اس سے زیادہ کیا کہہ سکتی ہوں ویسے بھی میں تو فنکارہ ہوں ایک سوال کے جواب میں شہناز بیگم نے کہا کہ آواز کی سرحد نہیں ہوتی لیکن فنکار کی سرحدیں ضرور ہوتی ہیں اور میں ایک گلوکارہ ہوں پاکستان کے لئے ملی نغموں کی گائیکی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان نغموں بالخصوص ’’جیوے جیوے پاکستان‘‘ میں پاکستان سے میری وابستگی کو محسوس کیا جا سکتا ہے میں نے دل کی گہرائیوں سے یہ نغمہ گایا تھا میں پاکستان میں سب کی شکر گزار ہوں کہ وہ میری گائیگی کو پسند کرتے ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی گلو کاروں میں مہدی حسن خان صاحب میرے پسندیدہ گلوکار ہیں اور میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا بھی ہے۔ شہناز بیگم نے بتایا کہ ایک مشہور فلمساز کی (جس کا نام کوشش کے باوجود انہیں یاد نہ آیا) یہ خواہش تھی کہ میں ان کی فلم کے لئے پنجابی میں گانا گائوں جس کے لئےدھن بھی ترتیب دی گئی اور ریہرسل بھی ہوئی لیکن تمام کوشش کے باوجود پنجابی گانا نہ گا سکی۔

شہناز بیگم مشرقی پاکستان کی پہلی گلو کارہ تھیں جنہوں نے اردو زبان میں ملی نغمے گائے اور درحقیقت انہی نغموں کی وجہ سے انہیں پاکستان میں بھرپور مقبولیت حاصل ہوئی اور آج بھی ان کی مسحور کن اور پر اثر آواز میں انہیں یاد کیا جاتا ہے اور یہ بھی ایک متاثرکن واقعہ ہے کہ پاکستان کے ملی نغمے گانے والی مشرقی پاکستان کی پہلی گلوکارہ شہناز بیگم کا انتقال 23مارچ کو ہوا جب قرار داد پاکستان پیش کی گئی تھی۔ شہناز بیگم 2جنوری1952 کو غیر منقسم پاکستان کہ مشرقی پاکستان ڈھاکہ میں پیدا ہوئیں 11سال کی عمر میں ہی وہ شعبہ گلوکاری سے وابستہ ہوگئی تھیں اور پانچ دھائیوں تک اس فن سے وابستہ رہیں۔ 

فن گائیکی میں اعلیٰ صلاحیتوں پر انہیں پاکستان میں تمغہ امتیاز اور بنگلہ دیش میں سرکاری سطح پر اعزازات اور ایوارڈز بھی دیئے گئے 2010 میں انہوں نے عمرے کی سعادت حاصل کرنے کے بعد گلو کاری اور شوبز کی سرگرمیوں سے لاتعلقی اختیار کر لی۔ 23مارچ 2019کو حرکت قلب بند ہونے سے ان کا انتقال ہوا اس وقت ان کی عمر67سال تھی جہاں ملی نغموں میں ان کے یہ دونغمے جیوے جیوے پاکستان اور سوہنی دھرتی اللہ رکھے بے حد مقبول ہوئے وہاں دو فلمی نغمے کہاں ہو تم چلے آئو۔ محبت کا تقاضہ ہے اور دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا۔ وہ تیری یاد تھی اب یاد آیا۔ بھی بہت مقبول ہوئے۔