امریکی حکام نے 11 بھارتی شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے جن پر الزام ہے کہ اُنہوں نے امیگریشن فائدے کے حصول کے لیے جعلی مسلح ڈکیتیوں کا منصوبہ بنایا، ملزمان پر ویزا فراڈ کی سازش کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ملزمان نے مختلف کاروباری مقامات جیسے کنوینینس اسٹورز، شراب کی دکانوں اور فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس میں کم از کم 6 جعلی ڈکیتیاں کروائیں تاکہ وہاں کام کرنے والے افراد خود کو حملے اور جرم کا شکار ظاہر کر سکیں۔
امریکی قانون کے تحت ’یو ویزا‘ ایسے افراد کو دیا جاتا ہے جو سنگین جرائم کا شکار ہوئے ہوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔
تحقیقات کے مطابق منصوبہ انتہائی منظم طریقے سے بنایا گیا تھا، ایک شخص جعلی ڈاکو بن کر دکان میں داخل ہوتا، اسلحہ نما چیز دکھا کر کیش کاؤنٹر سے رقم لیتا اور فرار ہو جاتا، اس دوران پورا واقعہ سی سی ٹی وی کیمروں میں ریکارڈ کیا جاتا تاکہ یہ حقیقی ڈکیتی نظر آئے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ دکان میں موجود افراد فوری طور پر پولیس کو اطلاع نہیں دیتے تھے بلکہ تقریباً 5 منٹ یا اس سے زیادہ انتظار کرتے تھے تاکہ جعلی ڈاکو باآسانی فرار ہو سکے اور واقعہ حقیقت کے قریب لگے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ اس منصوبے میں شامل ہونے کے لیے بعض افراد رقم ادا کرتے تھے تاکہ وہ خود کو ڈکیتی کا متاثرہ فرد ظاہر کر کے ’یو ویزا‘ حاصل کرنے کی کوشش کریں، ملزمان پر الزام ہے کہ منصوبے کے منتظمین یہ رقم لے کر دکان مالکان میں تقسیم کرتے تھے۔
گرفتار ہونے والے 11 بھارتیوں میں سے 6 کو ریاست میساچوسٹس سے جبکہ دیگر ملزمان کو ریاست اوہائیو سے گرفتار کر کے بوسٹن کی وفاقی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
امریکی قانون کے مطابق اگر ویزا فراڈ کی سازش ثابت ہو گئی تو ملزمان کو 5 سال قید، 3 سال نگرانی کی سزا اور ڈھائی لاکھ ڈالرز تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔