• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا ملٹی وٹامنز بڑھاپے کے عمل کو سست کر سکتے ہیں؟

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ روزانہ ملٹی وٹامن استعمال کرنے سے بڑھاپے کے عمل کو نمایاں حد تک سست کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

سائنسی جریدے نیچر میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق 2 سال تک روزانہ ملٹی وٹامن سپلیمنٹ لینے والے عمر رسیدہ افراد میں بڑھاپے کے اثرات سپلیمنٹ نہ لینے والے افراد کے مقابلے تقریباً 4 ماہ تک سست ہو گئے۔

مطالعے کے شریک مصنف کے مطابق اس تحقیق کے ذریعے محققین صرف یہ جاننے کی کوشش نہیں کر رہے کہ لوگ زیادہ عرصہ کیسے زندہ رہ سکتے ہیں، بلکہ یہ بھی کہ وہ بہتر انداز میں کیسے زندگی گزار سکتے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس مرحلے پر اس ڈیٹا کو براہِ راست طبی نتائج سے جوڑنا قبل از وقت ہو گا، تاہم 2 سال کے دوران ملٹی وٹامن کے استعمال کے اثرات اسی سمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

عمر رسیدگی کے سائنسی مطالعے کے ماہر اسٹیو ہوروتھ نے اس تحقیق کو انتہائی دلچسپ قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ عام لوگوں میں یہ جاننے کی شدید خواہش پائی جاتی ہے کہ آیا روزمرہ استعمال ہونے والے سپلیمنٹس واقعی بڑھاپے کے عمل کو سست کر سکتے ہیں یا نہیں اور یہ تحقیق اب تک اس حوالے سے دستیاب سب سے معتبر شواہد میں سے ایک فراہم کرتی ہے۔

اس تحقیق کے لیے سائنس دانوں نے 70 برس سے زائد عمر کے 958 صحت مند افراد کے خون کے نمونوں کا جائزہ لیا۔

شرکاء کی حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگانے کے لیے محققین نے خون کے نمونوں میں موجود 5 ایپی جینیٹک کلاکس کا تجزیہ کیا، یہ دراصل حیاتیاتی بڑھاپے کے بائیو مارکرز ہوتے ہیں جو ڈی این اے میتھائلیشن یعنی جینوم کے مخصوص مقامات پر ڈی این اے پر موجود سالماتی نشانات کے پیٹرن کو درست انداز میں ناپتے ہیں۔

عمر بڑھنے کے ساتھ ان نشانات کی سطح مخصوص مقامات پر قابلِ پیش گوئی انداز میں کم یا زیادہ ہوتی جاتی ہے۔

تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ روزانہ ملٹی وٹامن لینے سے ان 5 میں سے 2 ایپی جینیٹک کلاکس میں بڑھاپے کے اشاریوں کی رفتار نمایاں طور پر سست ہوئی، جو ممکنہ طور پر موت کے خطرے سے بھی متعلق ہو سکتے ہیں۔

اگرچہ حیاتیاتی بڑھاپے پر روزانہ وٹامنز کے اثرات نسبتاً محدود ہیں، تاہم اسٹیو ہوروتھ کے مطابق مختلف ایپی جینیٹک کلاکس میں اس طرح کی مستقل مزاجی وہی چیز ہے جس کی سائنس دان توقع کرتے ہیں۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

صحت سے مزید