• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سلیم صافی (14دسمبر2021) ریاست، سیاست اور حکومت

جناب یہاں ریاست، سیاست یا حکومت جیسا کچھ نہیں بلکہ یہاں ایک اکھاڑہ ہے اور اکھاڑے میں طاقت کا اصول چلتا ہے ۔ تمام سیاستدا ن خواہ حکومتی ہوں یا اپوزیشن کے، اس قوم کو ایک خوفناک مستقبل کی طرف لے جا رہے ہیں۔

(محمدمشتاق احمد)


واصف ناگی(12دسمبر2021) وہ لاہور کہیں کھو گیا

جناب آپ کا سلسلہ وار کالم پڑھ کے ماضی کے طرززندگی، حالات، مناظر، لحاظ ومروت، خلوص، بےغرضی، روایات اوراخلاقی قدریں یادکرکےذہنی تسکین اورقلبی سکون ملتا ہے۔لیکن اب لاہور میں وہ بات کہاں عوام و حکمرانوں نے لاہور کے حسن کا ستیاناس کر دیا ہے۔

(سہیل احمد بٹ)


یاسر پیرزادہ(15دسمبر2021) زبان سنبھال کے

جناب عصری تقاضے پورے نہ کیے جائیں،محرومیاں دور نہ کی جائیں،آگاہی پھیلائی نہ جائے تو نتیجہ بنگلہ دیش کی صورت میں نکلتا ہے۔بدقسمتی سےہماری زبان میں آج ملاوٹ ہو چکی ہے۔ قوانین خاک ہوگئے، بے ربط جملے عام ہوگئے ہیں اس لیے لازم ہے آگاہی پھیلائی جائے۔

(رضا عباس)


خلیل احمد نینی تال والا(12دسمبر2021) سانحہ سیالکوٹ اور ہمارا انصاف

خلیل صاحب! یہاںیہ المیہ ہے کہ قانون بھی اپنے فائدے کے لیےبنا ئے جاتے ہیں، ملک یا عوام کے فائدے کے لئے نہیں۔ جب تک ہم اس فارمولے پر چلتے رہیں گے تب تک تو کسی بہتری یا ترقی کی امید رکھنا بیوقوفی ہے۔قوانین بنانے کیساتھ ساتھ عوام کی ذہن سازی کی بھی اشد ضرورت ہے کہ عوام کو شعوری طور پر بیدار کیے بغیر قوانین بنانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔

(انعام رحمٰن)


نوازرضا(12دسمبر2021)پیپلزپارٹی کے 54سال

جناب میرے خیال سے زرداری صاحب کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سندھ مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے اور سندھ میں معاشرہ مکمل طور پر بکھر چکا ہے۔ ان کی سیاست ذوالفقار بھٹو کے سیاسی نظریے کے بالکل برعکس ہے اب تو صرف اقتدار کی سیاست رہ چکی ہے۔

(نظیر احمد)


ڈاکٹر مجاہد منصوری(14دسمبر2021) معیاری پرائمری تعلیم، پاکستان کی ناگزیر ضرورت

منصوری صاحب بد قسمتی سےیہ ہمارے نظام تعلیم کی تباہ کاری ہی ہے جس نے جینا دو بھر کر دیا ہے۔جس نظام تعلیم نے ایک با صلاحیت اور با کردار، اچھے اخلاق کا حامل مربی اور معلم معاشرے کی اصلاح کے لیے پیدا کرنا تھاوہ نظام تعلیم انسانی وقار ، نظام اور اسلام کے تصوراخلاق اور اسلام کی معاشرتی اقتدار کو تباہی کے دہانے پر لے گیا ہے۔

(ظفراقبال ظفر)


ایوب ملک(14دسمبر2021) پاکستان کی بقا اور انتہا پسندی کا تدارک

جناب میرے خیال سے سیالکوٹ میں جو سانحہ پیش آیا وہ پیشگی منصوبہ بندی تھی لہٰذا ضرورت اس کی جڑ کا پتہ لگانا اور اصل مجرموں یا پاکستان میں انتہا پسندی کے سرپرستوں کو سزا دینا ہے ۔اگر پاکستانی مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں تو پاکستان کو کرپٹ افسر شاہی سے آزاد کرنا ہو گا۔

(حسن مرزا، ہیوسٹن)


کاشف اشفاق (10دسمبر2021)شدت پسندی:معاشی ترقی میں بڑی رکاوٹ

پاکستان میں ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان کے ہی ادارے ہیںجو پاکستان کو چلانے کی بجائے پاکستان کوتنزلی کی طرف لے جا رہے ہیں۔درحقیقت پاکستان میں دہشت گردی، کرپشن، منی لانڈرنگ، ٹارگٹ کلنگ اپنے عروج پر ہے جو کہ ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

(علی حسن چدھڑ)