• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کاروبار کسی بھی نوعیت کا ہو، اس کا کوئی نہ کوئی پیک سیزن ضرور ہوتا ہے۔ گارمنٹس اور فٹ ویئر کی بات کریں تو تہواروں اور شادی بیاہ کے سیزن میں ان مصنوعات کی مانگ میں بے پناہ اضافہ ہوجاتا ہے۔ اسی طرح گرمیوں میں آئس کریم اور ٹھنڈے مشروبات کی طلب بڑھ جاتی ہے جبکہ سردیوں میں کافی، سوپ، مچھلی اور ڈرائی فروٹ وغیرہ زیادہ فروخت ہوتے ہیں۔ سردیوں میں لیدر کی بنی جیکٹس اور اون کے سوئیٹر بھی زیادہ خریدے جاتے ہیں۔

کرکٹ کو چھوڑ کر کئی ایسا کھیلوں کا سامان ہے جس کی مانگ کسی ایونٹ یا سیزن کی وجہ سے بڑھ جاتی ہے۔ کوئی بھی کاروبار اس وقت ہی اچھا منافع حاصل کرپاتا ہے جب وہ طلب کے حساب سے اپنی مصنوعات کی سپلائی میں کمی نہ آنے دے، بالخصوص پیک سیزن کے دوران، جب طلب کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

پیک سیزن آنے سے قبل اس کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے اندازے کے مطابق مصنوعات تیار یا ان کا اسٹاک کرلیا جائے تو یہ عمل کاروباری منافع میں اضافہ کا باعث بنتا ہے۔ تاہم، اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ مصنوعات کی طلب کا حقیقت سے قریب تراندازہ لگائیں۔ حکمت عملی کی منصوبہ بندی کرتے وقت ذیل میں دی گئی اہم باتوں کو ذہن میں رکھیں۔

پیشگوئی کا معیاری ہونا

آپ کے نیٹ ورک کی صلاحیت کی پہلے سے منصوبہ بندی کے لیے پیشگوئی کا معیار پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ پیشگوئی پر نظر ثانی اور تبدیلی کے لیے کمپنی کا سپلائی چین کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بلارکاوٹ اور مسلسل رابطہ ہونا چاہیے تاکہ آخری لمحات میں ہونے والی تبدیلیوں اور مہنگے چارجز سے بچنے میں مدد مل سکے۔

شیڈولنگ میں لچک

ہر کمپنی مارکیٹ میں شیلف پر اپنی مصنوعات رکھنے پر توجہ مرکوز کرتی ہے، لیکن وہی کمپنی زیادہ منافع حاصل کرپاتی ہے جو سخت شیڈول کے باوجود طلب کے حساب سے بروقت اپنی مصنوعات مارکیٹ میں پہنچاتی ہے۔ اگر کوئی کمپنی ایسا نہیں کرپاتی تو وہ ایک قابل قدر منافع اور صارفین سے ہاتھ دھو سکتی ہے۔ 

سپلائی چین کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے سستے طریقے بھی موجود ہیں، جن میں لچکدار پک اَپ ونڈوز اور ڈیلیوری کے دن بھی شامل ہیں۔ اس طرح آپ کے پاس سامان کی ترسیل کرنے والے ایجنٹس یا ڈسٹری بیوٹرز کا ایک وسیع نیٹ ورک سامنے آجاتا ہے اور آپ کو مال برداری کے لیے مسابقتی نرخ بھی حاصل ہوجاتے ہیں۔

ٹرانسپورٹیشن کے متبادل ذرائع

اگر کمپنی کا مقصد اپنی مصنوعات کو شپنگ ڈاک سے اتارنا ہے، تو آج ہی کسی جہاز کو سامان اٹھانے کے لیے زائد قیمت ادا کرنا جبکہ ڈیلیوری کے وقت سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے تو اس عمل سے کمپنی کے بجٹ پر بوجھ پڑسکتا ہے۔ لہٰذا نقل و حمل کے متبادل ذرائع بھی دیکھیں، جہاں مارکیٹ میں سامان پہنچنے کی رفتار پر سمجھوتہ کرتے ہوئے سامان اٹھانے کی مستحکم کارکردگی اور نمایاں بچت حاصل کی جاسکتی ہے۔

تھرڈ پارٹی اشتراک

لاجسٹک میں باہمی اشتراک ہمیشہ فائندہ مند رہتا ہے۔ اگر کمپنی طلب کے مطابق اپنی مصنوعات کو مارکیٹ تک پہنچانے میں جدوجہد کر رہی ہوتو ایسے میں کسی تھرڈ پارٹی/ڈسٹری بیوٹر کے ساتھ کام کرنا، جو آپ کے سپلائی نیٹ ورک کا انتظام سنبھال لے تویہ ایک دانشمندانہ فیصلہ ہوگا۔ وہ ثابت شدہ عمل، سرشار ٹیموں اور ماہر قیادت کے ذریعے پیک سیزن کے دوران آپ کی سپلائی چین کا نظام درست انداز میں چلاتے ہوئے صارفین کے اعتماد اور مصنوعات کی فروخت میں اضافے کا باعث بنے گی۔

اسپاٹ مارکیٹ سے گریز

سب سے زیادہ مسائل پیک سیزن میں سامنے آتے ہیں، جب سامان بھیجنے والوں (Shippers)کو بعض اوقات اپنے سامان کو منتقل کرنے کے لیے اسپاٹ مارکیٹ میں دستیاب گنجائش کے لیے مقابلہ کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ایسے میں کسی ایسے ایجنٹ کے ساتھ کام کرنا جس کے پاس مکمل طور پر آؤٹ سورس ٹرانزیکشنل فریٹ مصنوعات ہو، کمپنی کو تمام شپمنٹس کے لیے بہتر کوریج کے ساتھ بنڈل کیریئر کے خرچ کے ذریعے زیادہ سے زیادہ قوت خرید تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔

کووِڈ-19اور سپلائی چین

کورونا وائرس کی عالمی وبا نے طرزِ زندگی کے ساتھ ساتھ نظامِ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے، عالمی معیشت اب تک اس کے اثرات سے باہر نکلنے کی جدوجہد کررہی ہے۔ دنیا بھر میں کووِڈ-19پابندیوں، لاک ڈاؤن اور ایس او پیز پر سخت عمل درآمد کے باعث اشیا کی سپلائی چین بھی کافی متاثر ہوئی ہے۔ بین الاقوامی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق پورٹس پر سامان بردار جہازوں کی بڑی تعداد میں موجودگی، سامان کی ترسیل کیلئے درکار کمپیوٹرچپ اور ٹرک ڈرائیوروں کی کمی کے باعث سپلائی چین دباؤ کا شکار ہے جس کے باعث عالمی معیشت کی بحالی سست روی سے دوچار اور اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ 

سرحدوں پر کنٹرول اور نقل و حرکت کی پابندیاں، بین الاقوامی سطح پر کووِڈ-19ویکسین کی عدم دستیابی اور گھریلو صارفین کی جانب سے اشیا کی طلب میں اضافہ نے صورتحال گمبھیر بنادی ہے۔ لہٰذا عالمی معیشت کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ سپلائی چین میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔ ایک مقام سے دوسرے مقام تک جب اشیا کی ترسیل متاثر ہوگی تو اس سے پیداواری عمل میں بھی رکاوٹ آئے گی، جس کے نتیجے میں قیمتیں اور اخراجات بڑھیں گے۔ 

تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹیشن نیٹ ورک کے بلاتعطل آپریشن کو یقینی بنانے کے لیے اگر عالمی سطح پر جامع کوششیں کی جائیں تو اگلے سال سپلائی چین کی صورتحال میں بہتری آسکتی ہے۔