• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا کے معروف جریدے ’’ٹائم میگزین‘‘ ’’فنانشل ٹائمز‘‘اور ’’ فوربز‘‘ نے 2021میں دنیا کی بااثر اور طاقت ور افراد کی فہرست جاری کی ہے ، ’’ٹائم میگزین‘‘اور ’’فنانشل ٹائمز‘‘نے ایلون مسک کو 2021میں دنیا کی بااثر ترین شخصیت قرار دیا۔ ٹائم میگزین اور فوربز کے مطابق امریکا کے صدر جوبائیڈن دوسرے ، چین کے شی جی پنک تیسرے اور بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی چوتھے نمبر پربااثر اور طاقتورشخصیت قرار پائے، بین الاقوامی جائزوںکے مطابق جو بااثر شخصیات منظرِعام پر رہیں ان میں پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان13ویںنمبر پر اور ترکی کے طیب اردگان 14ویں نمبر پررہے ۔ ذیل میں ٹاپ 16شخصیات کے بارے میں مختصراََ ملا حظہ کریں:

…٭٭……٭٭……٭٭……

جوبائیڈن

امریکی صدر جوزف بائیڈن نومبر1942 میں پنسلوانیا میں پیدا ہوئے۔ 79برسوں میں انہوں نے زندگی کی جہاں بہت ساری خوشیاں سمیٹیں وہیں بہت سے صدمات برداشت کئے۔ گریجویشن کے بعد قانون کی سندحاصل کی، پھر ڈیمو کریٹک پارٹی سے وابستہ ہوئے۔29 سال کی عمر میں پہلی بار سینیٹر بنے وہ اپنی ریاست کے سب سے کم عمر سینٹر کہلائے۔ بعد ازاں جوبائیڈن چھ بار اپنی ریاست سے سینیٹر منتخب ہوتے رہے۔ سینٹ کی طرف سے وہ کبھی مالیاتی کمیٹی، کبھی خارجہ امور کمیٹی، کبھی دفاعی کمیٹی اور کبھی قانون ساز کمیٹی کے سربراہ رہے جوبائیڈن منجھے ہوئے قانون ساز اور نہایت تجربہ کار سیاست دان ہیں۔ 

اتنی عمر اور تجربہ والے پہلے امریکی صدر ہیں۔ جوبائیڈن آٹھ سال تک سابقہ صدر بارک اوبامہ کے نائب صدر رہے۔ جوبائیڈان کی پہلی اہلیہ 1972م اور ایک سالہ بیٹی یں کار حادثہ میں ہلاک اور دونوں بیٹے زخمی ہوئے۔ اس صدمے نے جوبائیڈن کو ایک برس تک نڈھال رکھا۔ بعد ازاں انہوں نے تیس سالہ جل ٹریسی سے شادی کر لی۔ 

دوسری اہلیہ انہیں پھر سیاست میں لے آئیں۔ بائیڈن پچاس کے عرصے میں امریکہ کے اہم معاہدوں میں شریک رہے یامعاہدے طے کرائے۔ یونیورسٹی میں قانون پڑھانے کے لئے سیمینار پروفیسر مقرر ہوئے انہوں نے اپنا ہر پیریڈ پڑھایا اگر وہ غیر ملکی دورے پر ہوتے تو دورہ مختصر کر کے آ جاتے اور پیریڈ ضرور لیتے تھے۔ صدر بائیڈن کو سابق صدر اوبامہ نے آزادی کے سپاہی کا میڈل عطا کیا تھا جس کو صدر بائیڈن اپنے حالیہ دورہ روم کے دوران پوپ فرانسس کو پیش کیا اور انہیں آزادی کے سپاہی کا لقب بھی ملا۔

شی جن پنگ

چین کے صدر شی جن ینگ کی مدت ملازمت کی تیسری باری سال2022سے شروع ہو گی۔ ویسے انہیں کمیونسٹ پارٹی کے پولیسٹ بیورو نے تاحیات صدر کیلئے ان کے نام کی منظوری دے دی ہے۔ شی جن صدر ، چین کی مسلح افواج کے سربراہ اور چینی کمیونسٹ پارٹی کے صدر ہیں۔ اسی طرح ان کے پاس تین بڑے عہدے ہیں۔ یوں ان کودنیا کا سب سے طاقتور بااثر شخص کہا جائے تو غلط نہ ہو گا ۔

یہ حقیقی معنوں میں طاقتور ترین شخصیت ہیں ۔پچیس برس قبل شی جن نے اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا ۔ اس عرصے میں وہ مختلف شعبوں اور اداروںکے سربراہ رہے۔ مطالعہ اور مشاہدہ کا شوق ہے۔ کم گو ہیں، ہر وقت ان کے چہرے پر ایک مسکراہٹ چھائی رہتی ہے۔ وہ بہت اچھے مقرر ہیں،آہستہ مگر مدلل بولتے ہیں۔ان کی تقریر سننے والا ان کے دلائل اور اندازسے متاثر ضرور ہوتا ہے۔ شی جن کا نظریہ ہے کہ سال2050تک چین میں ہر بالغ فرد کے پاس روزگار ہو گا۔ غربت کا خاتمہ ہو گا ۔

انقلاب چین کے تمام معاصر کا حصول ممکن ہو گا ۔چین کی ون بیلٹ ون روڈ پالیسی کو کامیابی سے مکمل کر لیا جائے گا۔ ون بیلٹ ون روڈ کلب کے اب تک ساٹھ سے زائد ممالک ممبربن چکے ہیں۔ چین کی بیرونی سرمایہ کاری کا گراف دوٹر یلن ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ چین اس وقت دنیا کا معاشی طور پر سب سے مستحکم ملک شمار ہوتا ہے۔ اس کے زر مبادلہ کے ذخائر 26ٹریلین سے بھی زائد ہیں۔ چین نے شی جن کی سربراہی میں دفاعی طور پر بھی بہت ترقی کی ہے۔

نریندر مودی

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی بھارتی ریاست گجرات میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کم عمری میں سیاست میں دلچسپی لیناشروع کر دی تھی اس کی وجہ سے انہیں نوجوانی میں گھر چھوڑنا پڑا۔ اس دوران انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکنیت حاصل کر لی اور پارٹی کے فل ٹائم ورکر بن کر کام کرتے رہے، جہاں ان کی سیاسی تربیت ہوئی۔ 

بعد ازاں وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ بنے۔ ان پر انتہا پسندی کے شدید الزامات عائد ہوئے۔ سیاسی حلقوں میں ایک متنازعہ سیاسی رہنما مانے جاتے ہیں۔ بھارت کے مسلمانوں کو ان سے بہت سی شکایتیں ہیں۔ کہا جاتا ہے نوجوانی میں انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ کے رکن رہے، مگر وہ اس پر چپ رہتے ہیں۔ پاکستان کے بارے میں ان کا رویہ ابتداء سے متنازعہ رہا۔ ان پر عالمی دبائو ہے کہ پاکستان سے مذاکرات کریں۔

بورس جانسن

بورس جانسن جون1964کو نیویارک میں پیدا ہوئے۔ خاندان کے افراد تعلیم یافتہ اور لبرل سوچ رکھتے ہیں۔ بورس جانسن نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے گریجویشن کی سند حاصل کی۔ وہ اسکول کے زمانے ہی سے بہت اچھے مقرر اور مصنف تھے۔تقریر کرنا اور اخبارات کےلئے مضامین لکھنا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد برطانیہ کے معروف اخبارات کے لیے مضامین لکھے ۔ ان کا انداز تحریر مختلف تھا جو ایک بڑے حلقے میں مقبول تھے۔ پہلی بار ہائوس آف کامن کی نشست جیتنے میں کامیاب ہوئے۔بعد ازاں انہوں نے 2007میں لندن کے میئر کا انتخاب جیتا۔

اس دوران انہوں نے شہر کے بیشتر مسائل حل کئے۔ نئے منصوبے شروع کئے۔ جب جانسن کی میئر کے عہدے میں دلچسپی بڑھتی گئی، تب انہوں نے برطانوی پارلیمان کے مزید انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کر لیا،مگر برطانیہ کی دائیں بازو کی کنزرویٹو پارٹی کےلئے بورس جانسن ایک حصہ بن چکے تھے۔ پارٹی نے2015میں انہیں پھر عام انتخابات میں حصہ لینے کےلئے مجبور کیااور وہ انتخاب جیت گئے۔ کنزرویٹو پارٹی میں جانسن ڈیوڈ کیمرون کے لئے ایک خطرہ بن چکے تھے۔ اور ان دونوں رہنمائوں کے مابین پرانی مخاصمت چلی آ رہی تھی۔

 2019میں وزیر اعظم تھریسا نے اپنے عہدے سے استعفٰی ملکہ ایلزبتھ نے تھریسا کا استعفیٰ منظور کرتے ہوئے ان کی جگہ بورس جانسن کا تقرر کر دیا۔وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد جانسن نے یہاں بھی نئے منصوبے شروع کرائے، ماضی کی بیش تر پالیسیوں کو رد کیا ،ان میں ترامیم کیں۔ روس کے خلاف جانسن کے بیانات بہت سخت ہوتے تھے۔وہ غالباً روس کو یہ جتلانا چاہتے تھے کہ برطانیہ نمبر ون نہ سہی مگر بڑی طاقت ہے اور اس کو کمزور نہ سمجھا جائے۔ وہ بہت فعال وزیر اعظم ہیں۔

امینوئل میکرون

فرانس کے صدر امینوئل میکرون نوجوان رہنما ہیں۔ پرجوش اور کچھ کر جانے کی لگن نے روز اول سے ہی فرانس کی معیشت کو سنبھالا دینے پر اپنی توجہ مرکوز کی ۔پھر داخلی اصلاحات کا بیڑہ اٹھایا ۔سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ان کا اکثر ٹاکرا رہتا تھا۔

ٹرمپ نے ماحولیات کے مسائل کو غیر اہم اور پیرس کے عالمی معاہدوں کو غیر ضروری قرار دے کر معاہدہ سے امریکا کو الگ کر لیا تھا، جب کہ صدر میکرون ماحولیات اور موسمی تغیرات کے مسائل سے گہری دلچسپی کا اظہار کرتے اور صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے رہے ہیں۔ جرمنی کی انجیلا مرکل اور میکرون نے صدر ٹرمپ کے اس اقدام کی شدید مذمت کی تھی اس حوالے سے جرمنی کی انجیلا مرکل اور فرانس کے میکرون کو یورپی یونین کے دبنگ رہنما کہا جاتا ہے۔

امینوئل میکرون1977میں فرانس میں پیدا ہوئے۔ پیرس یونیورسٹی میںکارل مارکس اور میکاولی پر مقالات لکھ کر اعلیٰ سند حاصل کی کچھ عرصہ انہوں نے وزارت ماحولیات میں ملازمت کی۔ پھر جنرل سوشلسٹ پارٹی کی رکنیت حاصل کی۔پارٹی میں اپنی صلاحیتوں کی بدولت جگہ بنا لی ۔2007میں میکرون کو پارٹی نے اپنا صدارتی امیدوار نامزد کر دیا۔ نوجوان میکرون نے نتخابات جیت کر فرانس کے سب سے کم عمر صدر بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں اضافہ کی وجہ سے فرانس میں بھی تیل پر ٹیکس عائد کر دیا گیا اس موقع پر میکرون کے خلاف دائیں بازو کی رجعت پسند جماعتوں نے شدید احتجاجی سلسلہ شروع کیا۔ اور صدر سے استعٰفی کا مطالبہ کر دیا۔ میکرون نے ان حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔سابق صدر کو یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ میکرون پر دبائو ڈالا تو وہ چین کی طرف نہ چلا جائے،یہ خدشہ صدر جوبائیڈن کو بھی ہے۔

ملا عبدالغنی برادر

ملا عبدالغنی برادر اور ڈپٹی وزیر اعظم افغانستان طالبان تنظیم کے بانیوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ انہیں کابل کی عبوری حکومت میں ڈپٹی کا عہدہ دیا گیا ہے۔ دوحہ قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ بھی تھے، جہاں اہم ذمہ داریاں تھیں، کیونکہ مرکزی رہنما ہیبت اللہ اخوند زادہ پبلک میں کم کم آیا کرتے تھے۔ اس لئے ملا عبدالغنی برادر کو دوسری ذمہ داریاں نبھانا پڑتی تھیں۔ طالبان کے مرحوم مرکزی رہنما ملا محمد عمر کے ساتھ بہت عرصہ کام کیا تھا۔ ملا محمد عمر کبھی پبلک میں نہیں آئے۔ امریکہ اور طالبان رہنمائوں میں دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں ملا عبدالغنی برادر کا ہمیشہ اہم کردار رہا جس کے نتیجے میں فروری2020میں دونوں فریقین کے مابین معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدہ کے روشنی میں امریکہ نے افغانستان خالی کیا تھا۔ 

ملا عبدالغنی برادر 1996کی افغان مجاہدین کی حکومت میں بھی شامل تھے۔ عورتوں اور اقلیتوں کے حامی رہے۔تاہم وہ سابق افغان رہنما اشرف غنی اور ان کی حکومت کے سخت مخالفین میں شمار ہوتے ہیں۔ مذاکرات کی میز پر گفتگو سے اچھی طرح واقف ہیں۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں بہت سراہا تھا۔ طالبان رہنما ہمیشہ ملا عبدالغنی برادر کو مذاکرات کے وقت سامنے رکھتے ہیں اور وہ اہم ذمہ داری نبھاتے ہیں۔

فومیو کشیدہ

جاپان کے وزیراعظم فومیو کشیدہ آٹھ سال تک جاپان کے وزیر خارجہ رہے۔ سابق وزیر اعظم کی کابینہ میں ردو بدل ہو ئی تو وزیراعظم کے عہدے پر فائز کر دیا گیا۔فومیو جولائی 1957کو ٹوکیو میں پیدا ہوئے۔ کچھ ایسا اتفاق ہوا کہ والد کی ملازمت نیویارک میں تھی اس حوالے سے بچپن نیویارک میں گزر ۔ اسکول کی تعلیم بھی امریکہ میں ہوئی، بقیہ تعلیم وطن آ کر مکمل کی ،پھر لبرل ڈیمو کریٹ پارٹی کے فعال کارکن بن گئے۔ فومیہ آزادی مساوات اور انسانی حقوق کے علمبردار رہے مگر سیاست میں مرکزیت کے حامی رہے۔ وہ عمل پر یقین رکھتے ہیں۔ 

کھلے ذہن کے مالک ہیں اور بین الاقوامی حالات پر ان کی گہری نظر ہے۔ وہ دفاعی طور پر امریکہ پر انحصار کرنے کے بجائے جاپان کے دفاع کو مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔جاپان کی دائیں بازو کی جماعتوں کے مقابلے میں وہ اپنی پارٹی کو مستحکم اور وسیع کرنا چاہتے ہیں۔ جاپان دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اولین صف میں شمار ہوتا ہے۔اس کی سیاسی اساس جمہوریت ہے۔ یہاں جمہوریت روشن خیال سیاست کا جز ہے۔ جاپان میں تعلیم کا اوسط لگ بھگ سو فیصد ٹوکیو شہر میں چھ سو سے زائد یونیورسٹیز ہیں۔ فومیو کو جاپان کی آبادی پر تشویش آبادی میں بتدریج کم ہو رہی ہے۔

نفتالی بینیٹ

اسرائیل کے وزیر اعظم نفتالی بینیٹ پچاس سال کی عمر میں ملک کے وزیر اعظم بن گئے ۔نتین یاہو کا طویل دور ختم ہو گیا،تاہم نتن یاہو اپنی قدامت پسند پارٹی میں سرگرم ہیں۔ بینٹ 1972میں حیفہ میں پیدا ہوئے۔ طالب علمی کے دور ہی سے انہیں سیاست سے دلچسپی تھی۔ ان کے والد بائیں بازو کی جماعتوں سے نظریاتی لگائو رکھتے تھے۔ اسرائیل میں جمہوری قدریں بہت مضبوط ہیں۔ قدامت پسند نسل یہودی بھی سیاسی جماعت کے ایجنڈے پر کام کرتے ہیں،آئین کی بالا دستی ہے۔ انتخابات مقررہ وقت پر ہوتے ہیں۔ بینٹ نے تین بائیں بازو کے بڑے دھڑوں کا اتحاد بنایا اور پارلیمان میں نشست حاصل کر لی۔کابینہ میں جب ردو بدل ہوا توسینٹ کی مشترکہ جماعت نےبینٹ کو وزارت عظمیٰ کے لئے نامزد کر دیا۔ 

ایوان نے انہیں منتخب کر لیا اس طرح طے پایا کہ ہر دو سال بعد بائیں بازو کے دھڑوں کا وزیر اعظم بنے گا۔ یہ میوزیکل چیئر سسٹم پر ان کا اتفاق ہوا ہے۔ بینٹ سرگرمی سے اپنے منصب کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ فٹ بال کے بہترین کھلاڑی ہیں۔ حالات حاضرہ اور ماحولیات پر طالب علمی کے بعد سے ہی مضامین لکھتے رہے ہیں۔ حالیہ گلاسگو کانفرنس میں انہوں نے پر مغز تقریر کی۔ اسرائیل میں تعلیم اور تحقیق کا گراف بہت بلند ہے،خواندگی لگ بھگ سو فیصد ہے۔ ایک عرصہ بعد اسرائیل کو ایک نوجوان وزیر اعظم ملا ہے۔

انجیلا مرکل

انجیلا مرکل جرمنی کی سابق چانسلر،یورپی یونین کی نمایاں اور دبنگ رہنما ہیں۔ یورپی یونین کو مزید فعال بنانے اور تارکین وطن کے مسئلے پر دو ٹوک فیصلوںنے انہیں مزید طاقتور بنا دیا ہے۔ تارکین وطن کے حوالے سے ان کی تقریریں اور اقدام قابل ستائش اور انسان دوستی کا واضح ثبوت ہیں۔ انجیلا مرکل انسان دوست ماحول، مذہبی اداروں اور انسانی حقوق کے حوالے سے وہ قابل ستائش ہیں۔ وہ جرمنی میں پیدا ہوئیں۔ ہیمبرگ یونیورسٹی سے کیمسٹری میں اعلیٰ سند حاصل کی۔ 2005میں انہیں کرسچپن ڈیمو کریٹ پارٹی ٹکٹ دے کر چانسلر کیلئے انتخابات میں حصہ لینے کا موقع ملا۔

اس امتحان میں وہ پورا اتریں اور چانسلر کے لئے منتخب ہو گئیں۔ پھر اگلی بار 2010میں وہ اپنی اہلیت دیانت اور انسان دوستی کی وجہ سے نمایاں کامیابی حاصل کی۔ یورپی یونین کے اتحاد کو یہ مستحکم اور فعال دیکھنا چاہتی ہیں اس لئے اکثر اس ضمن میں آواز اٹھاتی رہیں۔ روسی، فرانس اور دیگر یورپی رہنما انجیلا مرکل کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ سے ان کی کبھی نہیں بنی ،دونوں ایک دوسرے پر نکتہ چینی کرتے رہے۔انجیلا مرکل نے مسلمان تارکین وطن کے ساتھ شروع سے ہمدردانہ رویہ اپنائے رکھا، اس لئے مسلم کمیونٹی بھی چانسلر کا احترام کرتی ہے۔2020میں ان کی کرسچین ڈیمو کریٹک انتخابات ہار گئی ، تاہم انجیلا مرکل کوچانسلر کے منصب پر فائز رکھا گیا ۔

ولادی میر پیوٹن

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن مضبوط شخصیت کے مالک ہیں ،شطرنج کےبہترین کھلاڑی ، فٹ بال اور پیراکی سے بھی گہری دلچسپی ہے، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ میز کے بھی بہت عمدہ کھلاڑی ہیں۔ مذاکرات کا ہنر خوب جانتے ہیں ، ایسے موقعوں پر اکثر وہ اپنے مدمقابل پر حاوی ہوتے ہیں۔ ستر کے عشرے سے انہوں نے روسی سراغرساں ادارے کی بی جی سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا ۔سوویت یونین کے منتشر ہونے کے بعد نوے کی دہائی کے آخر میں سیاست میں آ گئے، جس میں خاصے کامیاب رہے۔ گزشتہ بیس برسوں سے زائد عرصے میں وہ روس کے وزیر اعظم اور پھر صدر منتخب ہوئے، امکان ہے کہ یہ تاحیات صدر رہیں گے۔ عالمی شماریاتی اداروں نے انہیں سال 2018 میں دنیا کی سب سے طاقتور اور مقبول شخصیت قرار دیا تھا۔

روس میں نوجوانوں کی اکثریت صدر پیوٹن کو پسند کرتی ہے۔ وہ اکثر شام کو سائیکل پر کھیل کے میدان پہنچ جاتے ہیں، جہاں نوجوان فٹ بال یا والی بال کھیل میں مصروف ہوتے ہیں۔ وہ نوجوانوں میں گھل مل جاتے ہیں،کچھ دیر ان کے ساتھ کھیل میں بھی شریک رہتے ہیں۔ اکثر شام کو صدر پیوٹن کا یہ معمول ہے۔ وہ کم گو ، چہرے پر ہلکی مسکراہٹ سجائے رکھنے اور ٹھنڈے مزاج کےدکھائی دیتے ہیں مگر ان کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ نہایت سخت گیر اور اپنی بات پر ڈٹ جانے والی شخصیت کے مالک ہیں۔ صدر پیوٹن نے مغربی طاقتوں کی اکثر پالیسوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ بالخصوص شام کے معاملے میں روسی صدر نے جو اقدام کئے اس سے روس کی ساکھ میں اضافہ ہوا ۔ انہوں نے مغرب کویہ باور کروایا کہ روس ابھی طاقتور ہے اور آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنے کی سکت رکھتا ہے۔

پوپ فرانسس

پوپ فرانسس عیسائی کیتھولک فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ 266ویں روحانی پیشوا ہیں۔ بین الاقوامی معاملات اور ماحولیات سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ سابق امریکی صدر بارک اوباما نے پوپ فرانس کو قطب شمالی کا دورہ کراتے ہوئے وہاں گلیشیرز کے بارے میں بتایا تھا، قطب شمالی اور جنوب میں واقع گلیشیرز پگھل رہے ہیں اور بیش تر پگھل چکے ہیں وہاں صرف پہاڑ دکھائی دیتے ہیں۔ پوپ فرانسس نے دنیا کے تمام رہنمائوں کو اس تشویش ناک صورتحال سے کھلا خط لکھ کر آگاہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ پوپ ماحولیات کے حوالے سے اپنے انداز سے کام کر رہے ہیں۔ 

حال ہی میں امریکی صدر جوبائیڈن جی20کانفرنس میں شرکت کیلئےآئے تو پہلے ویٹی کن کا دورہ کیا اور پوپ سے ملاقات کر کے انہیں اپنا میڈل پیش کیا اور آزادی کے سپاہی کا خطاب دیا۔ پوپ فرانسس دنیا کے سو اارب سے زیادہ کیتھولک عیسائی افراد کے روحانی مذہبی رہنما ہیں۔ ویٹی کن روم کے اہم علاقہ میں ڈھائی سو مربع میل پر مشتمل ایک چھوٹی آزادی خود محتار ریاست ہے جس کا حمدیہ ترانہ ،پرچم اور انتظامیہ سب الگ ہیں۔ پوپ منتخب ہو جانے کے بعدتاحیات اپنے منصب پر فائز رہتا ہے۔پوپ کو امن کا پیامبر تصور کیا جاتا ہے۔

عمران خان

وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان اکتوبر 1952کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ آکسفورڈ سے گریجویشن کی سند حاصل کی۔ برطانیہ میں طالب علمی کے دور ہی سے کائونٹی میں کھیلتے رہے۔ 1971میں پاکستان کی قومی ٹیم میں شامل ہوئے۔کرکٹ کے بہترین آل رائونڈر کہلائے، بعد ازاں ٹیم کے کپتان بن گئے اور بہت عرصہ کپتانی کے فرائض سر انجام دیئے اور انہی کی کپتانی میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے 1992کا ورلڈ کپ جیتا ۔کہا جاتا ہے کہ پیدائش سے تاحال عمران خان کی قسمت نے ان کا خوب ساتھ دیا ہے۔ 

عمران خان نے اپنی والدہ کے نام پر کینسر ہسپتال بنانے کا ارادہ کیا اور اس میں کامیاب رہے، شوکت خانم کینسر ہسپتال لاہور میں تعمیر ہوا۔ فلاحی کام بہت سر انجام دیئے ۔اسپتال کی تعمیر کے بعد انہوں نے نمل یونیورسٹی کی بنیاد رکھی۔1996میں اپنی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف قائم کی۔ سیاست میں ان کا رجحان دائیں بازو کی طرف رہا ۔نظریاتی طور پر دائیں بازو کے سیاسی رہنما بن کر اُبھرے۔

طیب اردگان

ترکی کے صدر طیب اردگان کو ترکی میں مرد آہن بھی کہا جاتا ہے، نوجوانی میں سیاست میں قدم رکھ ا تھا۔ دائیں بازو کی اسلامی تنظیم کے سرگرم کار کن رہے۔ ترکی میں لوکل گورنمنٹ کے انتخابات میں استنبول سے انتخاب لڑکر شہر کے میئر بن گئے، جس کے بعد طیب اردگان نے استنبول میں شراب پر پابندی عائد کر دی جس سے لبر ل حلقے ان سے ناراض ہوگئے، ان کا کہنا تھااستنبول شہر ایشیا اور یورپ کا مشترکہ دروازہ ہے۔ ہر سال لاکھوں سیاح یہاں آتے ہیں۔ شراب پر پابندی سے سیاحت کے شعبے کو شدید نقصان اٹھانا پڑے گا۔ طیب اردگان کے اسی طرح بعض دوسرے اقدام کی وجہ سے انہیں بنیاد پرست رہنما کہا جانے لگا۔ 

وہ بدعنوانی کے سخت خلاف ہیں اس کو جڑ سے ختم کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ طیب اردگان کی شدید خواہش ہے کہ ترکی کو یورپی یونین کی رکنیت حاصل ہو جائے اور یورپی ممالک میں ترکی شامل ہو جائے مگر یورپی یونین ان کے سخت گیر رویہ کی وجہ سے تاحال ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔طیب اردگان کسی نہ کسی طرح ماضی کی سلطنت عثمانیہ کا احیا ء چاہتے ہیں جنوبی ترکمانستان جو چین کا جنوب مغربی صوبہ سنکیانگ کہلاتا ہے کہ چار صدیوں تک سلطنت عثمانیہ کا حصہ رہا پھر اس پر چین نے اور شمالی حصہ پر روس نے قبضہ جما لیا۔ 

سنکیانگ میں تین کروڑ سے زائد ترک نسل مسلمان آباد ہیں، جن کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے اس سے دنیا واقف ہے۔ طیب اردگان اس مسئلے کو انسانی بنیادوں پر حل کرنے کے حامی ہیں مگر ہاتھی سے گنا کون چھینے گا ۔اس طرح طیب اردگان سلطنت عثمانیہ کے احیا ء کی کوششیں کرتے رہتے ہیں، مگر ایسی صورتحال میں کیا یہ ممکن ہے یہ سوال سب کے ذہنوں میں موجود ہے۔

جیف بیزوس

جیف بیزوس ایمیزون کمپنی کے صدر بلیو اورنج کمپنی کے مالک ہیں جس کی مالیت دو سو ارب ڈالر سے زائد ہے۔ جیف بیزوس 1964کو امریکہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پرنسٹن یونیورسٹی سے الیکٹرک انجینئرنگ میں سند حاصل کی۔ مال اسٹریٹ پر مختلف اداروں میں آٹھ سال تک کام کرکے تجربہ حاصل کیا ۔ 1994میں قائم کردہ ایمیزون پورے امریکہ میں آن لائن بک اسٹور کے حوالے سے کام کرتی رہی۔ کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت بھی اس فہرست میں شامل ہو گئیں۔ کمپنی کا ریونیو ملین ڈالر سے تجاوز کر گیا۔جیف نے بعد ازاں ایئرو اسپیس کمپنی کی بھی بنیاد رکھی،پھر بیایو ٹیکنالوجی کمپنی بھی قائم کی۔ 

چند برس قبل جیف نے ویڈیو گیم کی بڑے پیمانے پر فروخت شروع کر دی۔ بڑے سرکاری اور نجی اداروں سے بھی بڑے بزنس معاہدہ طے کئے۔ اس طرح ایمیزون دنیا کی سب سے بڑی آن لائن سروس کمپنی بن گئی۔ 2018میں ایک لاکھ تیس ہزار افراد کو اپنی کمپنیوں میں ملازمت دی ۔جیف نے علی بابا کمپنی کی چین اور دنیا میں مقبولیت کو دیکھ کر بھارت میں اپنی کمپنی لانچ کرنے کیلئے منصوبہ بنایا۔

اب انہوں نے بھارت میں تقریباً ساڑھے پانچ ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کے ساتھ کمپنی لانچ کر دی۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ نے ایمیزون پر ٹیکس چرانے کا الزام عائد کیا تھا۔ جیف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ اپنے ملازم کو اتنی تنخواہ ضرور دینا چاہتے ہیں کہ اُس کی زندگی کی ضروریات پوری ہو سکیں۔ خلائی کمپنی کے پہلے راکٹ لانچر کے موقع پر جیف ’ نے’اپنے پرانے کاوبوائے بوٹ پہن رکھے تھے جن کو وہ لکی بوٹ کہتے ہیں ۔

سید علی خامنہ ای

سید علی خامنہ ای کو ایران کا سپریم لیڈر کہا جاتا ہے، وہ ایران کی مسلح افواج کے سربراہ، مذہبی روحانی رہنما اور سیاسی رہنما ہیں۔ ان حوالوں سے سید علی خامنہ ای طاقتور رہنمائوں کی فہرست میں نمایاں ہیں۔ کہا جاتا ہے یہ تمام عہدے ان کے پاس تاحیات رہیں گے۔ اس کے علاوہ وزراء کا انتخاب خود کرتے ہیں، خاص طور پر وزیر دفاع ،وزیر داخلہ ،وزیر خارجہ ،وزیر تعلیم اور وزیر ماحولیات کے تقرر کا پروانہ سید علی خامنہ ای کے دفتر سے جاری ہوتا ہے۔ عموماً وزراء کے اختیارات محدود اور رسمی ہوتے ہیں، تاہم اہم پالیسیوں اور اس پر عمل درآمد کا اختیار سید علی خامنہ ای کے پاس ہوتا ہے۔

عرب ممالک کے سفیروں کا تقرر بھی خامنہ ای کرتے ہیں۔ مجلس شوریٰ کے انتخابات دستور کے مطابق عمل میں آتے ہیں مگر مجلس کے پاس کوئی اہم اختیار نہیں ہے۔ اصل اختیارات اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس ہیں جس کے سربراہ سید علی خامنہ ای ہیں۔ یہ کونسل بہت بااختیار ہے۔ایرانی جنوبی مغربی ایشیا کا قدیم اور اہم ملک ہے۔ اس کی آبادی آٹھ کروڑ اڑتالیس کے قریب ہے۔ رقبہ ساڑھے سولہ لاکھ مربع کلومیٹر ہے۔ مجموعی آمدنی ایک ٹریلین پندرہ ارب ڈالر سے زائد ہے۔ 

ایران تیل و قدرتی گیس اور دیگر معدنیات سے مالا مال ہے۔ 1979کے ایرانی مذہبی انقلاب نے یورپی سیاست، معاشرت، اور معیشت کے رنگ تبدیل کر دیئے۔ ایرانی رہنما مغربی پالیسیوں کے شدید مخالف رہے۔ ایران بعد از اسلامی انقلاب طاقتور بن گیا مگر اقتصادی پابندیوں نے اس کی معیشت پر برا اثر ڈالا ۔سید علی خامنہ ای ہر طرح سےانقلاب ایران کو ثمر آور بنانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

…ایلون مسک…

ایلون مسک، جون 1971ء کو جنوبی افریقہ میں پیدا ہوئے۔ پریسٹوریہ یونیورسٹی سے گریجویشن کی سند حاصل کرنے کے بعدوہ کینیڈا چلے گئے بعدازاں پنسلوانیا یونیورسٹی سے اکنامکس اور فزکس کی اسناد حاصل کرکے پی ایچ ڈی برائے میٹریل سائنس میں تحقیق کیلئے داخلہ لیا لیکن فوراً ہی ارادہ تبدیل کرکے انٹرنیٹ بوم ادارے میں شمولیت اختیار کرلی۔ 1995ء میں ایلون نے ایک پارٹنر کے ساتھ مل کر اپنی سوفٹ ویئر کمپنی قائم کی، اس عرصے میں انہوں نے سخت وقت گزارا اور چھوٹا کمرہ کرائے پر لے کر وہاں رہائش اختیار کی۔

چند برسوں میں کاروبار چل پڑا۔ ایلون مسک نے 1999ء میں اپنا سرمایہ بائیس ملین ڈالر تک بڑھا لیا، جس کے بعد ایک اور کمپنی’’ ایکس کام‘‘ کے نام سے قائم کی، کچھ عرصے بعد مائیکرو سوفٹ میں اہم عہدہ حاصل کرلیا سرمایہ سو ملین ہوگیا ،تو ایلون کا دھیان’’ اسپیس ٹیکنالوجی‘‘ کی طرف چلا گیا اور جلدہی نجی خلائی کمپنی قائم کرلی۔اس کمپنی سے ایلون نے 1.6؍ بلین ڈالر کمائے۔ ٹیکنیکل طور پر ناسا سے بھی رابطے کرلئے اور اپنے کاروبار کو وسعت دی۔ ایلون کی شہرت محنتی ، دھن کا پکا، پیسہ کمانے کی مشین کے نام سے ہے۔ بعض لوگ ایلون کو خوش نصیب اور قسمت کا دھنی ،جب کہ بعض لوگ خالص کاروباری شخص قرار دیتے ہیں۔

(لے آؤٹ آرٹسٹ: اسرارعلی)