امریکا میں ایک اسٹارٹ اپ کمپنی نے خلاء سے زمین پر سورج کی روشنی پہنچا کر اسے فروخت کرنے کا انوکھا اور متنازع منصوبہ پیش کر دیا۔
کیلیفورنیا میں قائم ایک کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہزاروں آئینوں کو مدار میں بھیج کر سورج کی روشنی زمین کے مختلف حصوں تک پہنچانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
کمپنی اس منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں تقریباً 60 فٹ چوڑا تجرباتی آئینہ اس سال گرمیوں تک خلاء میں بھیجنے کی اجازت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق یہ آئینہ سورج کی روشنی کو زمین کی جانب منعکس کرے گا اور تقریباً 3 میل (4.8 کلومیٹر) کے علاقے کو روشن کر سکے گا۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے کئی مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں، جن میں شمسی توانائی کے پلانٹس کو 24 گھنٹے بجلی پیدا کرنے کے قابل بنانا، قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشنز کے دوران روشنی فراہم کرنا اور مستقبل میں اسٹریٹ لائٹس کی جگہ لینا شامل ہیں۔
اس منصوبے کے لیے کمپنی نے امریکی ریگولیٹری ادارے سے سیٹلائٹ لائسنس کے لیے درخواست بھی دے دی ہے اور اب تک سرمایہ کاروں سے 28 ملین ڈالرز سے زائد فنڈنگ حاصل کر چکی ہے۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو بین نوویک کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ایسی ٹیکنالوجی تیار کرنا ہے جو مستقبل میں فوسل فیول کا متبادل بن سکے اور توانائی کی ضروریات پوری کر سکے۔
تاہم اس منصوبے پر ماہرین نے خدشات بھی ظاہر کیے ہیں، ایک سائنسدان کا کہنا ہے کہ رات کے وقت مصنوعی روشنی سے جنگلی حیات اور قدرتی نظام پر گہرے اثرات پڑ سکتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس قسم کا تجربہ اس سے پہلے بھی کیا جا چکا ہے، 1993ء میں روسی سیٹلائٹ نے خلاء میں آئینہ رکھ کر سورج کی روشنی زمین پر منعکس کی تھی جس کی چمک 2 سے 3 پورے چاند کے برابر بتائی گئی تھی۔