امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ اراکین نے ایران کے خلاف جاری جنگ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کھلی عوامی سماعتوں میں ٹرمپ انتظامیہ کے احتساب کا مطالبہ کر دیا۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکی سینیٹ کے ارکانِ کانگریس نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس اب تک یہ واضح نہیں کر سکا کہ امریکا جنگ میں کیوں شامل ہوا؟ اس کے مقاصد کیا ہیں اور یہ تنازع کب تک جاری رہے گا؟
عرب میڈیا کے مطابق 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ سمیت اعلیٰ حکام نے کانگریس کو متعدد خفیہ بریفنگز دیں، چونکہ یہ اجلاس خفیہ تھے، اس لیے قانون ساز مکمل تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لا سکتے۔
کنیکٹی کٹ سے سینیٹر کرس مرفی نے بریفنگ کے بعد کہا کہ حکومتی حکمتِ عملی ’غیر واضح اور غیر مربوط‘ ہے، اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ کی منظوری کے لیے کانگریس کے پاس جاتے تو اِنہیں حمایت حاصل نہ ہوتی۔
سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے کہا کہ جنگ کا کوئی واضح ’اختتامی منصوبہ‘ نظر نہیں آتا اور صدر کے بیانات خود ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔
سینیٹر الزبتھ وارن نے جنگی اخراجات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف لاکھوں امریکی صحت کی سہولتوں سے محروم ہیں جبکہ دوسری جانب ایران پر بمباری کے لیے روزانہ اربوں ڈالرز خرچ کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کئی قانون ساز اس بات پر بھی فکر مند ہیں کہ امریکا ایران میں زمینی فوج بھیج سکتا ہے۔
ریپبلکن پارٹی جو سینیٹ میں 53 کے مقابلے میں 47 نشستوں کی برتری رکھتی ہے، مجموعی طور پر صدر ٹرمپ کی کارروائی کی حمایت کر رہی ہے، ان کا مؤقف ہے کہ حملوں کا مقصد ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔
فلوریڈا سے رکنِ کانگریس برائن ماسٹ نے کارروائی کو امریکا کے دفاع کے لیے ضروری قرار دیا ہے تاہم کچھ ریپبلکن ارکان نے خدشات بھی ظاہر کیے ہیں۔
سینیٹر رینڈ پال نے کہا ہے کہ حکومت روزانہ جنگ کی نئی وجوہات پیش کر رہی ہے جبکہ ’جنگ آخری راستہ ہونا چاہیے، پہلا نہیں۔‘
عرب میڈیا کے مطابق امریکا اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ نے امریکا میں صدارتی جنگی اختیارات پر پرانی بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے، امریکی آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کانگریس کا اختیار ہے تاہم صدور اکثر قومی سلامتی کے نام پر محدود فوجی کارروائیاں شروع کرتے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اگر کانگریس کی منظوری حاصل نہ کی گئی تو یہ اقدام آئینی اور قانونی تنازع بن سکتا ہے۔