• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

1947ء میں برعظیم کی تقسیم اور قیام پاکستان کا واقعہ ان معنوں میں ایک منفرد واقعہ تھا کہ بیسویں صدی میں جو دوسرے ملک بیرونی تسلط سے آزاد ہوئے اُن کی اکثریت استعمار کی نوآبادی بننے سے قبل اپناایک الگ ملک ہونے کا تشخص رکھتے تھے ، غلامی کے دور میں انہوں نے آزادی کی جدوجہد کی اور اس جدوجہد کی کامیابی پر ان کا اپنے ملک کا تشخص کا بحال ہوگیا ۔یہ کوئی نئے ملک نہیں تھے بلکہ پرانے ملک تھے جو غلامی کے تجرنے سے گزرے اور پھر آزادی سے ہمکنا ر ہوئے ۔

ان سب ملکوں کے برخلاف پاکستان آزادی سے قبل اپنا ایک ملک کا تشخص نہیں رکھتا تھا بلکہ جو علاقے پاکستان میں شامل ہوئے وہ انگریز کی نوآبادی بننے کے وقت ہندوستان کا حصہ تھے ۔وہ جب 1947ء میں پاکستان کے نام سے نقشہ ٔ عالم پر ایک الگ سیاسی وحدت اور الگ ملک کے طور پر ظہور پذیر ہوئے تو گویا یہ ایک نیا ملک تھا جو ہندوستان کو تقسیم کرکے وجود میں لایا گیا تھا۔چنانچہ پاکستان کا قیام محض آزادی کی تحریک کا پس منظر نہیں رکھتا بلکہ اس کا ایک دوسرا پس منظر بھی ہے اور وہ یہ کہ یہ ہندوستان کی تقسیم کے نتیجے میں وجود میں آنے والا ملک ہے ۔

قائداعظم جن کی قیادت قیام پاکستان کے پیچھے ایک فیصلہ کن عامل کی حیثیت رکھتی ہے کس طرح ایک طویل عرصہ متحدہ ہندوستان کے اندر مسلمانوں کے لیے ایک محفوظ مستقبل کے حصول کی جدوجہد کے بعد تقسیم ِ ہند کے مطالبے تک پہنچے ، اس کا مطالعہ نہ صرف قیام پاکستان کے محرکات کی تفہیم کے لیے ناگزیر ہے بلکہ خود قائداعظم کے سیاسی افکار اور ان کی حکمت عملی کو سمجھنے کے لیے بھی ضروری ہے۔

ہندوستان میں برطانوی استعما ر کے حوالے سے دو سیاسی دھاروں کو شناخت کیا جاسکتا ہے ۔ان میں ایک تو وہ تحریکیں ہیں جنہوں نے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا ۔باغیانہ سرگرمیوں کا سہارا لیا اور انقلابی جدوجہد کے ذریعے بیرونی استبدادکو شکست دینے کی کوشش کی ۔اس دھارے میں انفرادی سطح پر مزاحمت کرنے والے بھی شامل تھے اور مختلف گروہوں اور تحریکوں کی شکل میں اجتماعی مزاحمت کرنے والے بھی ۔

دوسرا دھارا اُن سیاسی تنظیموں پر مشتمل تھا جو پر امن زرائع سے استعمار کی فراہم کردہ سیاسی و آئینی ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے ہندوستان میں سیاسی اصلاحات کا طالب تھا اور ہر اصلاحاتی مرحلے کے بعد مزید اصلاحات کا طالب بن جاتا تھا ۔کانگریس جو 1885ء میں وجود میں آئی اور مسلم لیگ جس کی 1906ء میں بنیاد رکھی گئی ، انقلابی جماعتیں نہیں تھیں۔دونوں اپنے آغاز پر ہندوستان کی اشرافیہ ہی کی جماعتیں تھیں جس کے جملہ اقتصادی اور سیاسی مفادات استعماری نظام سے جڑے ہوئے تھے ۔

دونوں نے اپنے آغاز پر اپنے جو مقاصد بیان کیے ان میں انگریزی حکومت سے وفاداری کا نکتہ سرفہرست تھا۔دونوں جماعتیں ہندوستان کو ایک ڈومینین بنوانا چاہتی تھیں، یعنی ایسی مملکت جس کو داخلی طور پر خود مختاری حاصل ہوتی مگر رہتی وہ سلطنت برطانیہ کے اقتدار کے اندر ہی ۔دونوں جماعتوں کا فرق یہ تھا کہ جہاں کانگریس خود کو پورے ہندوستان کا نمائندہ ظاہر کرتی تھی وہاں مسلم لیگ مسلمانوں کی نمائندگی کی دعوے دار تھی۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دونوں جماعتوں کا سیاسی فاصلہ بڑھتا گیا۔

کانگریس مسلمانوں کو ہندوستانی قومیت کا حصہ تصور کرتی تھی اور ان کوایک علیحدہ جمعیت کے طور پر قبول کرکے خاص رعایتیں دینے کی روادار نہیں تھی ۔مسلم لیگ اور قائداعظم ہندوستان کے اندر مسلمانوں کے لیے بہتر اور محفوظ حیثیت کے طلبگار تھے۔اس سلسلے میں انہوں نے مختلف اوقات میں مختلف تجاویز پیش کیں جن میں سے اکثر کا مقصد ہندوستان کے اندر رہتے ہوئے مسلمانوں کے لیے ایک قابل ذکر مقام کو یقینی بنانا تھا۔قائداعظم اور مسلم لیگ کی یہ ساری کاوشیں کانگریس کے سخت گیر اور عدم تعاون کے رویے کی وجہ سے کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکیں۔

بیسویں صدی کے نصفِ اول میں قائداعظم کی سیاست کا یہ پس منظر جہاں ایک طرف ان کے سیاسی افکار اور ہندوستان کے بارے میں اُن کے تجزیے کو سمجھنے میں مددگار ہوسکتا ہے وہیں دوسری طرف ان کی سیاسی حکمت عملی کے مطالعے کو بھی اہم بنادیتا ہے ۔یہ بات تو طے ہے کہ قائداعظم کے بغیر قیام پاکستان ممکن نہیں تھا۔ ہندوستان کی تاریخ میں قائداعظم یہ غیر معمولی کردار کیوں کر ادا کرپائے ؟اسکے بنیادی طور پر تین باہم مربوط اسباب بیان کیے جاسکتے ہیں ۔اوّل ،قائد اعظم کی اپنی شخصیت اور ان کے قائدانہ اوصاف، دوم ، اُن کے سیاسی و آئینی تصورات اور ہندوستان کی صورت حال پر اُن کے انطباق کے نتیجے میں بننے والا ان کا تجزیہ ، اور سوم ، ان کی سیاسی حکمت عملی ۔

جہاں تک قائداعظم کی شخصیت اور ان کے قائدانہ کردار کا تعلق ہے ، یہ بات قابل ذکر ہے کہ روایتی طور پر ہندوستان میں مسلمانوں کی سماجی و سیاسی قیادت یا تو امراء اور روئسا کے اس طبقے کے پاس تھی جس میں بڑی بڑی زمینداریوں کے مالک ، ریاستوں کے نواب یا اپنی سرکاری و نیم سرکاری حیثیتوں کے حوالے سے طبقہ اشراف میں شمولیت اختیار کرلینے والے افراد شامل تھے ۔مسلمانوں کی قیادت کے منصب پر جودوسرا گروہ فائز تھاوہ مذہبی علماء تھے جو مساجد اور مدارس کے وسیلے سے ایک عام مسلمان کے ساتھ مستقل رابطے میں رہتے تھے اور چونکہ ایک عام مسلمان عربی متون سے براہ راست استفادہ نہیں کرسکتا تھا لہٰذا مذہبی امور میں رہنمائی کے لیے وہ اسی طبقے پر انحصار کرتا تھا۔

قائداعظم ان دونوں گروہوںسے مختلف پس منظر کے حامل تھے ۔ان کے آبائو اجدادچھوٹے موٹے کاروبار سے وابستہ رہے تھے۔خود قائداعظم نے اوسط درجے کے اسکولوں میں تعلیم حاصل کی۔بعد ازاں برطانیہ میں وکالت کی پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ ہندوستان واپس آئے اور یہاں اپنی وکالت کا آغاز کیا۔آئندہ برسوں میں انہوں نے سیاسی میدان میں جو کامیابیاں حاصل کیں وہ اس حقیقت کے باوجود تھیں کہ ان کا نہ تو جاگیردارانہ طبقے سے تعلق تھا اور نہ ہی وہ مذہبی طبقے میں شامل تھے۔

ان کا سماجی پس منظر متوسط طبقے کا تھا، یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں غیر معمولی مالی استحکام حاصل کیا۔تاریخ نویسوں نے قائداعظم کی قیادت کے موضوع پر بہت تفصیل سے لکھا ہے ۔بیشتر کا خیال یہ ہے کہ انہوں نے ایک طرف اپنی ذاتی زندگی کو حتی الامکان ذاتی رکھا اور اس سے سیاسی فوائد حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ دوسری طرف انہوں نے اپنے مالی معاملات کو بھی صاف ستھرا رکھا۔

ایک کامیاب وکیل کی حیثیت سے قائداعظم کا جو امیج بنا اس نے اور ہندوستان کے سیاسی عمل پر ان کی گہری نظر اور بروقت فیصلہ سازی نے ان کو مسلم عوام کے ایک بڑے حصے میں قبولیت کا اعزاز فراہم کردیا۔یہ قبولیت اس لحاظ سے بہت غیر معمولی تھی کہ قائداعظم کا اپنا طرز بودوباش غریب مسلم اکثریت کی پسماندگی سے قطعاً مختلف تھا۔وہ خود انگریزی داں تھے جبکہ مسلم اکثریت اس زبان سے نابلد تھی۔ ان فاصلوں کے باوجود مسلمانوں کی اکثریت کے ذہنوں میں یہ بات راسخ ہوچکی تھی کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں یا کررہے ہیں، وہ ہمارے مفاد میں ہے۔

اسی احساس کے نتیجے میں ان کا ایک سحر قائم ہوتا چلا گیا۔تاریخ نویسوں نے اس موضوع پر بہت کچھ لکھا ہے۔ معروف مورخ ڈاکٹر سکندر حیات نے تو اپنی کتاب کا نام ہی ’’کرشماتی لیڈر:قائداعظم محمد علی جناح اور تخلیقِ پاکستان‘‘ (The Charismatic Leader: Quaid-i-Azam Mohammad Ali Jinnah and the Creation of Pakistan)رکھا تھا۔ حال ہی میں چھپنے والی اپنی نئی کتاب ’’قیادت کا ایک عالی ہمت سفر‘‘(A Leadership Odyssey) میں انہوں نے جدید ہندوستان کے مسلمانوں کی قیادت کا دائرہ قائداعظم سے بڑھا کر پانچ اور رہنمائوں تک پھیلا دیا ہے۔یہ پانچ رہنما سرسید احمد خان ،سلطان محمد آغا خان سوم،سید امیر علی ، مولانا محمد علی جوہر اور علامہ محمد اقبال ہیں۔

قائداعظم کے حوالے سے دوسری اہم بات ان کے سیاسی افکار ہیں ۔یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ شخصیتیں کتنی ہی ذاتی خوبیوں کی حامل اور سحر انگیز کیوں نہ ہوں ، اصل چیز وہ خیالات و نظریات ہوتے ہیں جن کے ذریعے وہ معاشرے میں اصلاحِ احوال کی کوشش کرتے ہیں۔ قائداعظم کے تصورات و نظریات اپنے زمانے کے وہ نظریات تھے جن کے ذریعے دوسرے معاشروں کے اندرسیاسی و معاشرتی اصلاح کے کامیاب تجربات ہورہے تھے۔ قائداعظم نے برطانیہ میں اپنے قیام کے دوران جدید سیاسی و آئینی تصورات کا نہ صرف علم حاصل کیا بلکہ ان کی عملی تصویروں کو بھی غور سے دیکھا۔انہوں نے جمہوریت کی سماجی بنیادوں کو سمجھا اور پارلیمانی جمہوریت کے اداروں کی داخلی حرکیات کو دیکھنے کی کوشش کی۔

وہ برطانیہ کے ایوانِ نمائندگان کا نہ صرف مطالعہ کرتے تھے بلکہ انہوں نے اس کی کاروائی کو بغور دیکھا بھی۔ یہیں سے وہ پارلیمانی جمہوریت کی اہمیت کے قائل ہوئے اور انہوں نے اپنی بعد کی سیاسی زندگی میں بارہا اس طرز حکومت کی وکالت کی کیونکہ اس میں انتظامیہ کو مقننہ کے سامنے ہمہ وقت جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔ہندوستان کی امپیریل لیجسلیٹو کاؤنسل میں ان کی تقریریں اس امر کی شاہد ہیں کہ وہ پارلیمانی جمہوریت کو اس کی اصل روح کے مطابق روبہ عمل دیکھنے کے خواہشمند تھے۔قیام پاکستان کے موقع پر 11اگست1947ء کی اپنی تاریخی تقریر میں انہوں نے تین مرتبہ پارلیمان کو مقتدر (Sovereign)ادارہ قرار دیا تھا۔

برطانیہ میں قائداعظم نے لبرل دانشوروں کی تحریروں سے بھی اکتساب کیا۔وہ گلیڈسٹون(Gladston) اور جان مارلے (John Morley)جیسے لبرل رہنمائوں سے خاص طور سے متاثر تھے۔ وہ شہری آزادیوں کے علمبردار اسی زمانے میں بنے ۔بعد ازاں انہوں نے اپنی قانون ساز اسمبلی کی زندگی میں بارہا بنیادی حقوق، خاص طور سے آزادی ٔ اظہار کی وکالت کی۔ 1919ء میں جب آمرانہ رولٹ ایکٹ متعارف ہوا تو قائداعظم نے احتجاجاً امپیریل لیجسلیٹو اسمبلی سے استعفیٰ دے دیا۔شہری آزادیوں پر ان کے یقین کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ انہوں نے غدر پارٹی کے انقلابی بھگت سنگھ کے لیے بھی انہی حقوق کا مطالبہ کیا جو انگریزوں کو حاصل تھے۔

پارلیمانی جمہوریت کے علاوہ ایک اور سیاسی نظریہ جو قیام پاکستان سے قبل ہمیشہ قائداعظم کے پیش نظر رہا وہ وفاق اور صوبوں کے ایک ایسے رشتے کا نظریہ تھا جس میں مرکز کے قابل عمل ہونے کے ساتھ ساتھ صوبوں کی خود مختاری کی بہت زیادہ گنجائش موجود تھی۔ہر چند کہ برطانیہ جہاں قائداعظم کی سیاسی ذہن سازی ہوئی تھی ،ایک وحدانی مملکت تھا لیکن قائداعظم کے علم میں تھا کہ برطانیہ کی بعض دوسری نوآبادیات جوبڑے رقبے کی حامل تھیں یا جہاں پرثقافتی اور لسانی تنوعات زیادہ تھے ،وہاں وفاقی طرز حکومت کو اختیار کیا گیا تھا۔

ایسی مملکتوں میں آسٹریلیا اور کینیڈا شامل تھے لیکن قائد اعظم دیکھ سکتے تھے کہ ہندوستان کے لسانی ، ثقافتی ، نسلی اور مذہبی تنوعات مذکورہ ملکوں سے کہیں زیادہ تھے لہٰذا یہاں وفاقی طرز حکومت کا قیام کہیں زیادہ ضروری تھا۔ان کی عملی سیاسی زندگی میں جمہوریت اور وفاقیت دونوں کلیدی اہمیت کے حامل تصورات ثابت ہوئے۔

قائداعظم کے سیاسی افکار کا اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے ان کو صرف کتابی علم کے طور پر قبول نہیں کیا بلکہ انہوں نے ان کا اطلاق ہندوستان کے مخصوص حالات پر کرنے کی کوشش کی۔تب ہی وہ اس لائق ہوئے کہ انہوں نے ہندوستان کے سیاسی قضیوں کے بارے میں جدید نظریات سے اکتساب بھی کیا اور ان کو تخلیقی انداز میں ہندوستان کے حالات پر منطبق کرکے نتائج حاصل کرنے کی کوشش بھی کی۔ 

مثلاً ان کا خیال یہ تھا کہ پارلیمانی جمہوریت کے اصول کو اگر عین اس شکل میں ہندوستان میں متعارف کردیا گیا جس طرح یہ برطانیہ میں روبہ کار ہے تو اس سے اس امر کا احتمال پیدا ہوجائے گا کہ برطانیہ کے برعکس (جو کہ بڑی حد تک اگر یکساں آبادی کا حامل نہیں ہے تو کم از کم وہاں ویسے تنوعات موجود نہیں ہیں جیسے ہندوستان میں ہیں) ہندوستان میں متنوع آبادی کی ثقافتی تقسیم ایک مستقل سیاسی تقسیم کی شکل اختیار کرلے گی جو جمہوریت کی تعمیر کے لیے مددگار ثابت نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ ہندوستان میں 1857ء کے بعد تدریج کے ساتھ نمائندہ ادارے قائم ہونا شروع ہوچکے تھے اور ہندوستان کی مجموعی آبادی میں مسلمانوں کی اقلیتی حیثیت ان کے لیے ایک پریشانی کا سبب بن چکی تھی ۔مسلمانوں کو ڈر تھا کہ و ہ ایک ثقافتی اقلیت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سیاسی اقلیت بھی نہ بن کر رہ جائیں ۔یہی خطرہ تھا جس کے پیش نظر قائداعظم نے ہندوستانی سیاست میں قدم رکھتے ہی مسلم اقلیت کا مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے چاہا کہ مسلمانوں کے لیے ایسی رعایتیں حاصل کی جائیں جو ان کے اقلیتی تشخص کو کسی حد تک غیر اہم بنا دیں اور وہ ایک بڑی ہندوستانی قوم کا فعال حصہ بن کر اپنا کردار ادا کریں۔1916ء میں ان کے ایما پر ہندوستان کی دونوں بڑی جماعتیں یعنی کانگریس اور مسلم لیگ جس لکھنؤ پیکٹ پر آمادہ ہوئیں اس کی روح یہی تھی کہ اکثریت اور اقلیت کے تضاد کو ایک سیاسی فارمولے کے تحت حل کیا جائے۔

اس پیکٹ میں طے کیا گیا کہ ہندوستان کے مختلف صوبوں میں سے جن صوبوں میں ہندوئوں کی اکثریت تھی وہاں مسلمانوں کو ان کی عددی حیثیت سے زیادہ نمائندگی دی جائے اور اس کے بدلے میں جن صوبوں میں مسلمانوں کی اکثریت تھی وہاں ہندوئوں کو ان کی عددی حیثیت سے زیادہ نمائندگی دے دی جائے۔ یہی فارمولا تھا جس کی ہم عصر سیاسی دانشوروں نے تحسین کی تھی اور مسز سروجنی نائیڈو نے قائداعظم کو ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کا لقب عطا کیا تھا۔بعد کے برسوں میں بھی قائداعظم نے ہندو اکثریت اور مسلم اقلیت کو کسی متوازن سیاسی نظام پر متفق کرنے کے لیے مختلف فارمولے پیش کیے لیکن کانگریس اور دوسری ہندوستانی تنظیموں نے ان کو قبول نہیں کیا۔

مثلاً 1927ء میں قائداعظم کے ایما پروضع ہونے والی مشہور زمانہ دہلی مسلم تجاویزکے اندر یہ پیشکش کی گئی تھی کہ اگر سندھ کو بمبئی سے الگ کرکے ایک علیحدہ صوبہ بنادیا جائے ، سرحد اور بلوچستان کو بھی صوبوں کی حیثیت دے دی جائے ، نیز مرکز میں مسلمانوں کو ایک تہائی نمائندگی دے دی جائے تو مسلم لیگ جداگانہ انتخاب کو ترک بھی کرسکتی ہے ۔یہ بہت بڑی پیشکش تھی کیونکہ مسلم لیگ کا تو قیام ہی جداگانہ انتخاب کے موقف کے ساتھ عمل میں آیا تھا۔ بعد کے برسوں میں 1937ء کے انتخابات کے بعد یو پی میں حکومت سازی کے موقع پر بھی قائداعظم نے کانگریس کے ساتھ مفاہمانہ رویے کی گنجائش رکھی مگر یہاں بھی کانگریس کا سخت گیر موقف کسی مفاہمت کی راہ میں حائل ہوا ۔یہی نہیں بلکہ 1946ء تک کئی مرحلوں پر قائداعظم نے ہندو مسلم سیاسی تنازعے جس کو کمیونزم کا نام دیا گیا تھا، کو حل کرنے کی تجاویز دیں مگر یہ تسلیم نہیں کی جاسکیں۔

ہندو مسلم فرقہ وارانہ یاکمیونل مسئلے ہی کو حل کرنے کے نقظۂ نظر سے قائداعظم نے ہندوستان کے وفاقی مسئلے کو بھی ایک مختلف انداز سے دیکھا۔ان کا خیال تھا کہ مسلم اقلیت جو سیاسی کردار محض اپنے اقلیت ہونے کی وجہ سے حاصل نہیں کرپارہی ،وہ اس کو قابل لحاظ حد تک مسلم اکثریتی صوبوں کی تعداد بڑھانے سے حاصل ہوجائے گی۔ڈیوڈ پیج نے ’’تقسیم کی تمہید ‘‘ (Prelude to Partition) میں اور عائشہ جلال نے ’’واحد ترجمان‘‘ (The Sole Spokesman)میں 1919ء کے بعد ہندوستانی سیاست کے، صوبے کی طرف منتقل ہوجانے کے پس منظر میں قائداعظم کی مسلم اکثریتی صوبوں کی سیاست سے دلچسپی اور اس حوالے سے اُن کے سیاسی و آئینی موقف کی توجیح و تشریح پیش کی ہے۔

یہی نہیں بلکہ وہ صوبوں کے لیے زیادہ سے زیادہ خود مختاری کی بھی وکالت کرتے رہے۔انہوں نے جب بلوچستان کو ایک صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تو ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ نئے صوبے کو محض نیا ہونے کی بنا پر پرانے صوبوں کو حاصل خود مختاری سے محروم نہ رکھا جائے بلکہ اس کی خود مختاری بھی دوسرے صوبوں کے برابر ہونی چاہیے۔1940ء تک پہنچتے پہنچے قائداعظم کو اس بات کا اندازہ ہوچکا تھا کہ ان کی تمام تر مصالحت پسندانہ کاوشوں کے باوجود نہ تو مسلمان اقلیت کو مستقبل کے مرکزی آئینی و سیاسی نظام میں وہ مقام حاصل ہوتا نظر آتا ہے جس کے لیے وہ برسوں سے کوشش کرتے آئے ہیں، اور نہ ہی مسلم اکثریتی صوبوں کوکوئی قابل لحاظ خود مختاری حاصل ہوتی نظر آرہی ہے۔ 23 مارچ 1940ء کی مشہور زمانہ قرار داد لاہور پیش کرتے وقت قائداعظم نے اپنے ماضی کے موقف کے برخلاف تین نئے نکات کو اپنے موقف کی بنیاد بنایا۔

اوّل ، انہوں نے اب اس امر پر زور دیا کہ مسلمان ایک اقلیت نہیں بلکہ ایک قوم ہیں ،دوم، انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ ہندوستان کا مسئلہ صرف ہندو مسلم اقوام کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک کثیر القومی مسئلہ ہے ۔ہندوستان میں کئی قومیں آباد ہیں اور اس لحاظ سے سب قوموں کو خود ارادی کا حق حاصل ہے ۔ سوم، انہوں نے 1935ء کے ایکٹ میں اصلاح کی اب تک کی کاوشوں کو ناکام قرار دیتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ ہندوستان کا مسئلہ اب وفاقی دائرے میں حل ہونا مشکل ہے اور اس کے لیے ایک قدرے مختلف اور وسیع ترنظام کے بارے میں سوچا جانا ضروری ہوچکا ہے ۔1940کی مذکورہ قرارداد میں کنفیڈریشن کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا مگر اس میں ہندوستان کے لیے جو نقشۂ کار تجویز کیا گیا وہ کم و بیش ایک کنفیڈریشن ہی کا نقشہ تھا۔

جمہوریت اور وفاقیت کے حوالے سے قائداعظم کے یہ سیاسی افکار، جدید سیاسی نظاموں سے ان کی واقفیت اورہم عصرسیاسی نظریات کے ان کے علم پر بنیاد رکھتے تھے۔وہ ایک مسلم اقلیت کے حقوق کی لڑائی لڑ رہے تھے جس کو بعد ازاں انہوں نے ایک قوم قرار دیا۔ایسا کرتے وقت لامحالہ ان کو اس قوم کی ایک بنیاد بھی واضح کرنی تھی سو انہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کے مسلمان ہونے کوان کی قومیت کی بنیاد قرار دیا۔ایسا کرتے وقت ان کے پیش نظر صرف ہندوستان کے مسلمان تھے۔

وہ کسی وسیع تر مسلمان قوم کی بات نہیں کررہے تھے چنانچہ گاندھی کے ساتھ اپنی مشہور زمانہ مراسلت میں انہوں نے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ وہ جس مسلم قوم کی بات کررہے ہیں اس میں صرف ہندوستان کے مسلمان شامل ہیں۔ قائداعظم نے ایک اقلیت کے ایک قوم کے طور پر پیش کیے جانے کے موقع پر اس سے وابستہ افراد کی ثقافتی شناخت کو بنیاد بنایا تھا۔دنیا میں دیگر قومیں بالعموم اپنی نسلی و لسانی بنیادوں پر اپنی اساس قائم کرتی ہیں۔قائداعظم کے پیش نظر چونکہ ہندوستان کے مسلمان تھے لہٰذا انہوں نے ان کی مذہبی ثقافتی شناخت کو ان کی قومیت کی بنیاد بنایا۔

ان کا یہ طرز عمل کسی مذہبی مناقشے یا مذہبی تصادم کا پس منظر نہیں رکھتا تھا بلکہ وہ صرف آبادی کے ایک بڑے حصے کے لیے اس کے سیاسی و سماجی حقوق کو یقینی بنانے کی خاطرکوشاں تھے۔وہ نہ فرقہ پرست تھے اور نہ ہی مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے حق میں تھے۔ انہوں نے تو خلافت تحریک تک میں حصہ نہیں لیاجس میں ہندوستان کے مسلمان جذباتی طور پر شریک ہوچکے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے خلافت کمیٹی کے پروگرام کو ’’ایک غلط بیانی پر مبنی مذہبی جنون‘‘A false religious frenzy) ( قرار دیا اور یہاں تک کہا کہ ’’سیاست میں دردانگیز خرافات اورجذباتیت کی کوئی گنجائش نہیں‘‘ (Sentimental nonsense and emotion have no place in politics)۔ 

قائداعظم نے بارہا اس خیال کا اظہار کیا کہ مسلمانوں کے حقوق کے لیے ان کی جدوجہد کو کسی طور دوسرے مذاہب اور خاص طور سے ہندو مذہب کے خلاف کسی قسم کی عداوت سے منسوب نہیں کیا جانا چاہیے ۔ ایک موقع پرجبکہ وہ متحدہ ہندوستان کے اندر کسی ایسے قابلِ عمل نظام سے بوجوہ مایوس ہوچکے تھے جو جمہوری اصولوں پر استوار ہوتا اور اس میں مسلمانوں کو ان کے اطمینان کے مطابق جگہ فراہم کردی جاتی اور جب بات تقسیمِ ہند تک پہنچ گئی تو7مارچ 1947ء کو انہوں نے میمن چیمبر سے خطاب کرتے ہوئے یہ الفاظ ادا کیے :’’ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں عظیم ہندو کمیونٹی اور اُس سب کا جس کی کہ وہ علمبردار ہے ،احترام کرتا ہوں۔اُن کا اپنا عقیدہ ہے ،اپنا فلسفہ ہے ،اپنا عظیم کلچر ہے۔ 

ایسا ہی مسلمانوں کا بھی ہے،لیکن دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔۔۔ میں پاکستان کے لیے لڑ رہا ہوں کیونکہ یہ مسئلے کا واحد حل ہے ۔اور دوسرا (حل،یعنی )متحدہ ہندوستان کا آئیڈیل اور پارلیمانی طرز حکومت پر استوار حکمرانی ایک لاحاصل خواب اور ناممکن بات ہے ‘‘۔ان بیانات سے واضح ہوجاتا ہے کہ قائداعظم کے سیاسی تصورات تمام تر سیاسی نوعیت ہی کے تھے ،یہی وجہ ہے کہ انہوںنے قیام پاکستان کے وقت اپنی 11اگست1947ء کی تقریر میں مستقبل کی جس ریاست کا نقشہ پیش کیا وہ جہاں ایک طرف جمہور کے حق حکمرانی اور پارلیمان کی مقتدر حیثیت کا حامل تھا وہیں اس میں مذہبی مناقشوں سے ریاست کی دوری اور آئین اور قانون کی نگاہوں میں شہریوں کی بلا تفریق ِ مذہب و مسلک یا زبان و نسل ، برابری کا تصور کارفرما تھا۔

قائداعظم کے سیاسی افکار و خیالات ہی سے مربوط ان کی سیاسی حکمت عملی تھی۔انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر میں ہمیشہ آئینی و سیاسی راستوں پر انحصا ر کیا۔ان کا طرز ِ فکر ہی قانونی نہیں تھا بلکہ ان کا طرز عمل بھی قانون کے دائرے میں رہ کر اپنی کاوشیں کرنے کاتھا۔انہوں نے یقیناً تقسیمِ ہند سے پہلے ڈائریکٹ ایکشن ڈے کی کال دی لیکن ایک آدھ مثتثنیات کے علاوہ ان کا کیریئر بحیثیت مجموعی قانون فہمی اور قانونی راستے اختیار کرنے کا حامل رہا ۔وہ مذاکرات میں اپنا موقف بڑے غیر جذباتی انداز میں اور ٹھوس دلائل کے ساتھ پیش کرتے تھے ۔اکثر ان کے مقابل لیڈر وں نے ان کے رویے کی سرد مہری کا ذکر کیالیکن شاید یہ بھی ان کا اپنے قانونی نکات اور دلائل پر یقین تھا ۔بعض اوقات تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ صرف اور صرف دماغ کی کارفرمائی سے اپنی مہم سر کرنے کے عادی تھے اور مخالفین سے گفتگو کرتے وقت وہ دل کو مداخلت کا موقع نہیں دیتے تھے۔

قائداعظم کے قائدانہ اوصاف، ان کے سیاسی افکار و خیالات اور ان کا سیاسی طرز عمل یا حکمت عملی ، یہ سب عناصر ان کے تاریخی کردار کو واضح کرتے ہیں اور اس کردار کو سمجھنے میں مددگار بھی ہوسکتے ہیں۔

امریکی تاریخ دا ن اسٹینلے وولپرٹ کے سنہری الفاظ

معروف امریکی تاریخ دا ن اسٹینلے وولپرٹ نے قائداعظم کے بارے میں کہا کہ ’’کچھ ہی لوگ تاریخ کے رخ کو فیصلہ کن انداز میں موڑنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ایسے لوگ اور بھی کم ہوتے ہیں جو دنیا کے نقشے کو بدل سکیںاور یہ ہنر تو شاید ہی کسی کو آتا ہو کہ ایک قومی ریاست کی تشکیل کرسکے ۔محمد علی جناح نے یہ تینوں کام کردکھائے ‘‘۔ 

 بدترین مخالف بھی کبھی ان پر مالی بدعنوانی کا الزام عائد نہیں کرسکے

    قائداعظم نے وکالت اور اسٹاک ایکسچینج کے حصص میں سرمایہ کاری سے بہت پیسہ کمایا لیکن ا ن کے بدترین مخالف بھی کبھی ان پر مالی بدعنوانی کا الزام عائد نہیں کرسکے۔مختلف آرکائیوز میں موجود ان کے کاغذات میں ان کے مختلف بل اور رسیدیں موجود ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ وصول ہونے والی ہر ادائیگی کی رسید دیا کرتے تھے اور خود ادا کردہ رقم کی رسیدیں بھی محفوظ رکھتے تھے۔

 7اگست 1947ء کو ہندوستان کو خیرباد کہتے اور پاکستان آتے وقت جو آخری کام انہوں نے کیے ان میں بجلی کے بل کی ادائیگی شامل تھی۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے اپنے ذاتی امور کو مسلم لیگ کے مالی معاملات سے بالکل الگ رکھا۔ لیگ کو بھی جو چھوٹے سے چھوٹا چندہ بھی دیا جاتاتھا اس کی رسید چندہ دینے والے کو دی جاتی تھی۔